یورپی یونین نے کینیڈا کو پہلا ایسوسی ایٹ رکن بننے کی راہ ہموار کردی، وان ڈیر لیین
- وان ڈیر لیین نے کارنی کو اسٹراسبرگ میں ان کے ساتھ شرکت کی دعوت دی، جہاں وہ جمعرات کو اپنا خطاب کریں گے
یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیین نے کہا ہے کہ یورپی یونین کینیڈا کے لیے اپنا پہلا ’’ایسوسی ایٹ رکن‘‘ بننے کی راہ کھول رہی ہے، تاہم یہ حیثیت یورپی یونین کے معاہدوں میں درج نہیں ہے۔ وان ڈیر لیین کے اعلان کو یورپی یونین کی پالیسی میں ایک اہم تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
یورپی یونین ماضی میں رکنیت کے لچکدار زمرہ جات کی مخالفت کرتی رہی ہے، جبکہ جرمنی کی جانب سے مئی میں یوکرین کو مکمل رکنیت کی جانب پیش رفت کے لیے ایسوسی ایٹ رکن بنانے کی تجویز پر بھی یورپی یونین کے رکن ممالک نے سردمہری کا اظہار کیا تھا۔
وان ڈیر لیین نے اسٹراسبرگ میں یورپی پارلیمنٹ سے یورپی یونین کی سالانہ ’’حالتِ اتحاد‘‘ سے متعلق خطاب کرتے ہوئے کہا، ’’شراکت داریاں یورپ کے لیے ایک تزویراتی انتخاب ہیں۔
’’لیکن یہ بین الاقوامی قوانین پر مبنی نظام میں پیدا ہونے والی تقسیم کا ردعمل بھی ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم دنیا کو ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں: مصنوعی ذہانت سے موسمیاتی تبدیلی تک، قطبِ شمالی سے جغرافیائی سیاست تک۔ اور ہم یوکرین، دفاع، خام مال اور سپلائی چینز کے معاملے پر ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ لیکن سب سے بڑھ کر۔۔۔ یورپ اور کینیڈا جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں۔‘‘
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے رواں ہفتے کے آغاز میں کہا تھا کہ کینیڈا یورپی یونین کے ساتھ ایک ’’منفرد اتحاد‘‘ کا خواہاں ہے، تاہم وہ یورپی یونین کی رکنیت حاصل نہیں کرنا چاہتا۔
وان ڈیر لیین نے کارنی کو اسٹراسبرگ میں ان کے ساتھ شرکت کی دعوت دی، جہاں وہ جمعرات کو اپنا خطاب کریں گے۔
کارنی کا دورۂ یورپ کینیڈا اور امریکا کے تعلقات میں گزشتہ ماہ آنے والی تاریخی خرابی کے بعد ہو رہا ہے۔ یہ صورتحال تجارتی مذاکرات ناکام ہونے کے بعد پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے خلاف مرحلہ وار محصولات عائد کیے۔
وان ڈیر لیین نے کہا، ’’میں نے کہا تھا کہ ہمیں اپنی شراکت داریوں کو فوری طور پر نئے سرے سے تشکیل دینا ہوگا۔ لہٰذا میں آپ کے ساتھ مل کر کینیڈا کے لیے یورپی یونین کا پہلا ایسوسی ایٹ رکن بننے کی راہ کھولنا چاہتی ہوں۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ یورپی یونین اور کینیڈا مینوفیکچرنگ سے مصنوعی ذہانت، اہم معدنیات اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں مل کر کام کریں گے۔
انہوں نے کہا، ’’ہم ذہین مینوفیکچرنگ پر کام کریں گے۔ ہم ٹیکنالوجی اتحاد قائم کریں گے۔ ہم دفاعی صنعتی شعبوں کو مربوط کریں گے۔ ہم قطبِ شمالی کو مشترکہ منصوبے کے ایک نمایاں مرکز میں تبدیل کریں گے۔‘‘
وان ڈیر لیین نے مزید کہا کہ ’’یہ شراکت داری کسی اور کے خلاف نہیں ہے‘‘، جو ممکنہ طور پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ناراض کرنے سے گریز کی کوشش ہے۔
























Comments