اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس تقریباً 1400 پوائنٹس گنوابیٹھا
- کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 168,021.80 پوائنٹس پر بند
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں بدھ کو فروخت کا دباؤ ایک بار پھر غالب آگیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 1400 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز تیزی کے ساتھ ہوا، بینچ مارک انڈیکس نے ابتدائی کاروبار میں مضبوطی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 169,000 پوائنٹس کی سطح کی جانب پیش قدمی کی، تاہم یہ تیزی برقرار نہ رکھ سکا۔
صبح کے اواخر میں فروخت کا دباؤ بڑھ گیا جس کے باعث دوپہر کے قریب بینچ مارک انڈیکس مزید گر کر 168,300 سے 168,400 پوائنٹس کی سطح تک آگیا۔ سہ پہر کے ابتدائی کاروبار میں مختصر بحالی کے نتیجے میں انڈیکس دوبارہ 169,000 پوائنٹس کی جانب بڑھا تاہم اس تیزی میں زیادہ دم نہ تھا۔
بعد ازاں کاروبار کے آخری گھنٹوں میں مارکیٹ کو ایک بار پھر فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کے باعث کے ایس ای-100 انڈیکس 167,849.70 پوائنٹس کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر آگیا۔ اختتامی کاروبار کے قریب انڈیکس میں معمولی بہتری آئی، تاہم یہ گزشتہ سیشن کی سطح سے خاصا نیچے رہا۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 1,370.52 پوائنٹس یا 0.81 فیصد کی کمی سے 168,021.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
آج کے کاروباری سیشن کے دوران مقامی اسٹاک مارکیٹ مندی کے شکنجے میں رہی، کیونکہ عالمی سطح پر تیل کی بلند قیمتوں اور خطے میں جاری کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کرنا جاری رکھا۔ یہ بات ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کاروبار کے بعد جاری اپنی رپورٹ میں کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ معاشی استحکام اور بیرونی کھاتے پر دباؤ سے متعلق خدشات کے باعث سرمایہ کاروں نے منافع کمانے کے لیے حصص فروخت کیے، جس سے مارکیٹ بھر میں فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا۔
بروکریج ہاؤس کے مطابق جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال میں اضافے اور عالمی تیل کی منڈیوں میں طویل عرصے تک خلل برقرار رہنے کے خدشات کے باعث مقامی ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کی جانب سے بھی فروخت کا دباؤ مزید بڑھ گیا، جنہوں نے بڑے پیمانے پر اپنی سرمایہ کاری کم کردی۔
ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا کہ منفی جانب فوجی فرٹیلائزر کمپنی، نیشنل بینک آف پاکستان، اینگرو ہولڈنگز، حبیب بینک اور لکی سیمنٹ نمایاں طور پر انڈیکس پر دباؤ ڈالنے والے حصص میں شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس کو تقریباً 706 پوائنٹس نیچے کھینچا۔
منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں زبردست بحالی دیکھی گئی جب سرمایہ کاروں نے اسٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 11.50 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کا مثبت ردعمل دیا۔ اس فیصلے کے بعد بڑے شعبوں میں منتخب خریداری کا رجحان پیدا ہوا جس سے مارکیٹ گزشتہ سیشن کے دوران ہونے والے نقصانات کا بڑا حصہ پورا کرنے میں کامیاب رہی۔
بینچ مارک 100 انڈیکس 1,421.67 پوائنٹس کے اضافے سے 169,392.33 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر بدھ کو ایشیائی کاروباری سیشن کے آغاز پر حصص میں محتاط انداز میں معمولی تیزی دیکھی گئی کیونکہ عالمی بانڈ ییلڈز اور تیل کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ فیڈرل ریزرو کے بعد میں متوقع پالیسی فیصلے سے قبل رک گیا۔
جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع ترین انڈیکس مسلسل چار سیشنز میں کمی کے بعد اتار چڑھاؤ کا شکار رہا اور آخری اطلاعات کے مطابق 0.2 فیصد اضافے میں تھا جس کی قیادت جنوبی کوریا کے حصص نے کی جہاں 0.8 فیصد تیزی ریکارڈ کی گئی۔
ایس اینڈ پی 500 ای منی فیوچرز میں بھی 0.1 فیصد معمولی اضافہ ہوا۔
گزشتہ شب وال اسٹریٹ میں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.5 فیصد گر گیا جو مسلسل دوسرے روز کمی ہے جبکہ 10 سالہ امریکی ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 2007 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
ایشیائی کاروباری سیشن میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی ییلڈ 0.8 بیسس پوائنٹ کمی کے بعد 4.9875 فیصد رہی۔ منگل کو یہ ییلڈ 5 فیصد کی سطح عبور کرگئی تھی جو تین سال میں پہلی بار ہوا جبکہ اب سرمایہ کاروں کی نظریں فیڈرل ریزرو کے شرح سود سے متعلق فیصلے اور فیڈ چیئر کیون وارش کی میڈیا کانفرنس پر مرکوز ہیں۔
تاجروں کا خیال ہے کہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافہ تقریباً یقینی ہے۔ سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق مارکیٹ نے فیڈ کے پالیسی فیصلے کے اعلان کے وقت 25 بیسس پوائنٹس کی شرح سود میں اضافے کے 92.4 فیصد امکان کو مدنظر رکھا ہے جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان 59.4 فیصد تھا۔
دریں اثنا بدھ کو انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی روپے کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی قدر میں اضافہ جاری رہا اور روپے کی قدر میں 0.01 فیصد بہتری ریکارڈ کی گئی۔ مقامی کرنسی 3 پیسے کے اضافے سے 277.27 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 372.01 ملین حصص کے مقابلے میں کم ہو کر 356.14 ملین حصص رہا۔
تاہم حصص کی مجموعی مالیت گزشتہ سیشن کے 17.21 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 19.49 ارب روپے ہوگئی۔
ورلڈ کال ٹیلی کام 40.03 ملین حصص کے کاروباری حجم کے ساتھ سرفہرست رہا، اس کے بعد سینرجیکو پی کے 21.57 ملین حصص اور میڈیا ٹائمز لمیٹڈ 19.62 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔
بدھ کو مجموعی طور پر 496 کمپنیوں کے حصص میں کاروبار ہوا، جن میں 121 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 320 میں کمی جبکہ 55 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

























Comments