BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
کاروبار اور معیشت

نیپال سیلاب، او آئی سی سی آئی کا پاکستان کو موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے اقدامات تیز کرنے پر زور

  • نیپال میں تباہ کن سیلاب سے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار
شائع اپ ڈیٹ

اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے نیپال میں اچانک آنے والے سیلاب کے نتیجے میں سیکڑوں افراد کے جاں بحق اور ہزاروں کے لاپتا ہونے پر نیپال کے عوام سے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

او آئی سی سی آئی کے مطابق نیپال میں ہونے والی تباہی پاکستان کے عوام کے لیے بھی ایک تکلیف دہ یاد دہانی ہے کیونکہ پاکستان بھی اچانک آنے والے سیلاب، زمینی رابطے منقطع ہونے اور گھروں اور روزگار سے محرومی جیسے حالات کا سامنا کر چکا ہے۔ نیپال کا سانحہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کی تیاری ان کے وقوع پذیر ہونے کے بعد نہیں بلکہ اس سے پہلے کی جانی چاہیے۔

او آئی سی سی آئی نے کہا کہ 2025 پاکستان میں گزشتہ 65 برس کے دوران دوسرا گرم ترین سال رہا جبکہ 2024 میں ملک نے ریکارڈ گرم ترین سال کا سامنا کیا۔ دوسری جانب بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور بارشوں کے بدلتے ہوئے انداز کے باعث پاکستان کی آبادی، انفرااسٹرکچر اور معیشت کو درپیش موسمیاتی خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث پاکستان کو معاشی سطح پر بھی نمایاں نقصان کا سامنا ہے۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ مصدق مسعود ملک نے رواں سال کے آغاز میں او آئی سی سی آئی کی پاکستان کلائمیٹ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث ہر سال اپنی مجموعی قومی پیداوار کا تقریباً ایک فیصد نقصان برداشت کرتا ہے۔

او آئی سی سی آئی نے مزید کہا کہ چند ہفتے قبل پاکستان کے حکام نے پیشگی خطرے سے آگاہ کرنے کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے تھے، کیونکہ ملک کو گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے، اچانک طغیانی، شہری علاقوں میں پانی جمع ہونے اور ہیٹ ویوز جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے، اس تناظر میں محض کسی ممکنہ آفت کے قریب آنے کی اطلاع دینے کے بجائے خطرات کے رونما ہونے سے پہلے ان کی پیش گوئی اور ان سے نمٹنے کی تیاری کی جانب منتقلی ایک اہم پیش رفت ہے۔

او آئی سی سی آئی نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی مؤثر حکمتِ عملی کا بنیادی مقصد عوام کا تحفظ ہےجسکے تحت بروقت انتباہ کے ذریعے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے، سیلاب کے شدید اثرات سے آبادیوں کو محفوظ رکھنے اور روزگار کو مستقبل کے موسمیاتی بحرانوں سے محفوظ بنانے میں مدد ملتی ہے۔

Comments

200 حروف