BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
رائے

کراچی: لاکھوں نفوس کا دو شفٹوں میں جاگتا شہر

  • دن میں کاروبار اور روزگار کی دوڑ، رات کو خریداری، تفریح اور ساحلوں پر رونق؛ مگر شہر کی دوسری شفٹ میں اسٹریٹ کرائم کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے
شائع اپ ڈیٹ

آپ کراچی کو کتنا جانتے ہیں؟ میری مراد کراچی کی دونوں شفٹوں سے ہے؛ پہلی شفٹ جو طلوعِ آفتاب کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور غروبِ آفتاب یا اس کے آس پاس ختم ہوجاتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب دفاتر کھلتے ہیں، فیکٹریوں میں کام شروع ہوتا ہے، لاکھوں لوگ اپنی مقررہ مدت میں کام مکمل کرنے اور ہر طرح کی اشیا کی بروقت ترسیل یقینی بنانے کے لیے دوڑ دھوپ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ پھر دوسری، نسبتاً زیادہ دلکش شفٹ شروع ہوتی ہے، جب شاپنگ مالز روشن ہوجاتے ہیں، ساحل سمندر اور ریستوران لوگوں سے بھرنے لگتے ہیں۔

ان دونوں شفٹوں میں بہت بڑا فرق ہے اور یہ محض وقت کا فرق نہیں، بلکہ ایک ہی شہر کے دو ایسے روپ ہیں جنہیں بہت سے لوگ محسوس نہیں کرپاتے یا شاید ان کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر آپ کراچی کو صرف دن کے وقت جانتے ہیں تو آپ اس شہر کو حقیقتاً نہیں جانتے۔

دن کے وقت کراچی ٹریفک، گرمی اور عجلت میں کیے جانے والے کاموں تک محدود دکھائی دیتا ہے، جبکہ رات ہوتے ہی منظر یکسر بدل جاتا ہے۔ رات 11 بجے گرما گرم بریانی، دو دریا جیسے کھلے مقامات پر کھانے کے لیے تیز رفتاری سے رواں گاڑیاں اور آدھی رات گزرنے کے بعد تک جاری رہنے والی گفتگو اور بحثیں—یہ سب رات کے کراچی کا حصہ ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے شہر شام ہوتے ہی ایک کام سے فارغ ہوکر دوسرے کام کی شفٹ سنبھال لیتا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دوسری شفٹ زیادہ دلکش ہے۔ اگر شہر کے منظرنامے کو ایک اسٹیج سمجھیں تو بے اختیار کہنا پڑتا ہے کہ اسٹیج وہی ہے، مگر کہانی بالکل مختلف۔

کراچی، خصوصاً رات کے کراچی کی بات ہو تو گفتگو لازماً تحفظ کے مسئلے کی طرف مڑ جاتی ہے۔ اور ہاں، اس گنجان اور دلکش شہر کی رات کی شفٹ میں نکلنے والے ہر شخص کے لیے یہ ایک تشویش کا باعث ہے۔

تاہم شہر میں کچھ ایسے مقامات بھی ہیں جنہیں نسبتاً محفوظ سمجھا جاتا ہے، مثلاً ڈولمن اور لکی ون جیسے ان ڈور مالز، جبکہ آؤٹ ڈور مقامات میں بوٹ بیسن، ڈی ایچ اے سی ویو، پورٹ گرینڈ اور کلفٹن کی مرکزی سڑکیں شامل ہیں۔ اس کے برعکس کچھ مقامات خطرناک بھی ہیں، جن میں سنسان گلیاں اور رات کے وقت بینکوں کے اے ٹی ایم کے اطراف شامل ہیں۔

عام طور پر تنہائی کے متلاشی افراد یا سنسان مقامات پر اکیلے بیٹھنے والے لوگ ہی زیادہ تر وارداتوں کا نشانہ بنتے ہیں، بصورت دیگر سی ویو آنے والے زیادہ تر افراد محفوظ رہتے ہیں۔ پولیس بھی عموماً گشت کرتی رہتی ہے۔ ایک رکشا ڈرائیور کے بقول کراچی اس وقت سب سے زیادہ محفوظ ہوتا ہے جب وہاں لوگوں کا ہجوم ہو؛ رات کو بس روشنی اور لوگوں کے درمیان رہیں۔

اگر اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو جرائم کی تعداد پریشان کن حد تک زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ اور ہاں، اس شہر کی دوسری شفٹ میں پہلی کے مقابلے میں زیادہ جرائم ہوتے ہیں۔ سی پی ایل سی اور بعض جرائم کے تجزیوں کے مطابق جنوری سے نومبر 2024 کے دوران اسٹریٹ کرائم کے تقریباً 66,530 واقعات رپورٹ ہوئے، یعنی روزانہ اوسطاً تقریباً 199 وارداتیں۔

جرائم کا زور رات تقریباً 8 بجے ہوتا ہے، جب دفاتر اور دیگر کام کی جگہیں بند ہوتی ہیں اور لوگ بازاروں یا گھروں کا رخ کرتے ہیں۔ موبائل فون چھیننے کی وارداتیں شام 5 بجے سے رات 11 بجے کے درمیان سب سے زیادہ ہوتی ہیں، جبکہ موٹر سائیکل چوری کے واقعات شام 7 سے رات 10 بجے کے دوران بڑھ جاتے ہیں۔ البتہ کار چھیننے کی وارداتیں کسی وجہ سے صبح 9 بجے سے دوپہر 3 بجے کے درمیان زیادہ ہوتی ہیں۔ اس شہر کی دوسری شفٹ کے کردار بے رحم ہیں۔

اپنے موبائل فون اور موٹر سائیکل بچانے کی کوشش میں بے شمار لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ 2024 میں ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 100 افراد جان سے گئے، جبکہ 700 سے 800 افراد ڈکیتی کی کوششوں کے دوران زخمی ہوئے۔

بہت کم لوگ لٹیروں کی سفاک جبلت اور موبائل فون اور نقدی چھیننے کے لیے ان کی حد سے گزر جانے والی درندگی کو سمجھتے ہیں۔ محض ایک موبائل فون کے لیے خاندان کے کفیل، اپنے گھر والوں کے بہتر مستقبل کی امید بننے والے نوجوان اور ایسے ہی کئی دوسرے افراد بے رحمی سے قتل کردیے جاتے ہیں۔

کراچی ہر روز ان دونوں شفٹوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے۔ دن کو کماتا ہے اور رات کو جیتا ہے، ان خطرات کے باوجود جو ہر طرف منڈلاتے رہتے ہیں۔ گاڑیوں کے ہارن موسیقی میں بدل جاتے ہیں اور دن کی تپش ٹھنڈی سمندری ہواؤں کا روپ دھار لیتی ہے۔

ہاں، خطرہ موجود ہے، لیکن پھر بھی ہزاروں لوگ گھروں سے نکلتے ہیں، کیونکہ یہی اس شہر کے سانس لینے کا انداز ہے۔ کراچی ایک شہر نہیں؛ یہ ایک ہی سڑک پر باری باری جلوہ گر ہونے والے دو شہر ہیں۔ یہ ایسا شہر ہے جو بند ہونے سے انکار کرتا ہے۔

دن ہو یا رات، کراچی رکتا نہیں؛ بس آگے بڑھتے رہنے کا ایک اور راستہ تلاش کرلیتا ہے۔ سورج غروب ہوجاتا ہے، مگر کراچی غروب نہیں ہوتا۔ وہ بس اپنی دوسری شفٹ شروع کرلیتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف