عمران کیس: حکومت کا سی این این پر ’مصدقہ ریکارڈ‘ اور ’سیاسی طور پر متنازع الزامات‘ میں فرق واضح کرنے پر زور
- زلفی بخاری کا انٹرویو میں عمران خان کی طبی نگہداشت پر تحفظات کا اظہار
پاکستان کی حکومت نے سی این این پر زور دیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی صحت سے متعلق مصدقہ حراستی اور طبی ریکارڈ اور سیاسی طور پر متنازع الزامات کے درمیان فرق واضح رکھا جائے۔ سی این این کے پروگرام ’کنیکٹ دی ورلڈ‘ کی میزبان اور ابوظہبی کی مینیجنگ ایڈیٹر بیکی اینڈرسن نے ہفتے کو ایکس پر یہ بیان شیئر کیا ہے۔
یہ بیان عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کے ویڈیو انٹرویو کے ردعمل میں سامنے آیا، جس میں انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کی خلاف ورزی کی۔
زلفی بخاری نے الزام عائد کیا کہ حکومت نے سپریم کورٹ کے واضح حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زیرِ حراست سابق وزیراعظم کو علاج کے لیے شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جانے کے بجائے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا۔
زلفی بخاری نے کہا کہ حالیہ طبی معائنے کے دوران عمران خان کے ذاتی معالج ڈاکٹر فیصل سلطان کو بھی ان کا معائنہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اینڈرسن نے کہا کہ عمران خان کے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت اور سابق کرکٹ ساتھی جیل میں ان کی صحت کے حوالے سے ”خطرے کی گھنٹی بجا رہے ہیں“۔ انہوں نے بتایا کہ عمران خان کی تازہ طبی حالت اور گزشتہ ہفتے انہیں اسپتال لے جانے کے معاملے پر ان کی جماعت کی جانب سے پاکستانی حکومت کے خلاف دائر مقدمے کے حوالے سے انہوں نے زلفی بخاری سے گفتگو کی۔
سی این این کی میزبان نے اسکائی اسپورٹس کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو کا بھی حوالہ دیا، جس میں عمران خان کے بیٹوں قاسم اور سلیمان نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید ان کے والد جیل سے زندہ واپس نہ آسکیں۔
تاہم اینڈرسن نے عمران خان کے علاج سے متعلق پمز کا وہ بیان بھی شیئر کیا جو سی این این نے حاصل کیا تھا۔
پمز کے مطابق عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب طبی معائنے اور علاج کے لیے اسلام آباد کے اسپتال لایا گیا تھا۔
اسپتال کے مطابق آنکھوں کے معائنے میں شفا انٹرنیشنل اسپتال کے دو ماہر ڈاکٹروں نے بھی حصہ لیا، جبکہ دیگر طبی معائنے پمز کے متعلقہ ماہرین نے کیے۔
پمز نے کہا کہ آنکھوں کے معائنے سے حاصل ہونے والی طبی رائے کو اسپتال میں کیے گئے دیگر طبی تحقیقات کے نتائج کے ساتھ ملا کر دیکھا گیا۔
پمز نے کہا کہ ”مریض کی رازداری اور معزز سپریم کورٹ آف پاکستان کی ہدایات“ کو مدنظر رکھتے ہوئے عمران خان کی میڈیکل رپورٹ کے خفیہ مندرجات جاری نہیں کیے جائیں گے۔
سی این این کے انٹرویو پر اپنے ردعمل میں پاکستانی حکومت نے ان الزامات کو دوٹوک انداز میں مسترد کردیا کہ عمران خان کو سزا کے طور پر قیدِ تنہائی میں رکھا جارہا ہے، ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جارہا ہے، انہیں بنیادی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے یا مناسب طبی نگہداشت فراہم نہیں کی جارہی۔
حکومت نے کہا کہ عمران خان کی قید مجاز عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزاؤں کے نتیجے میں ہوئی ہے اور ان کی حراست پاکستان جیل قوانین، متعلقہ عدالتی احکامات اور ایک ہائی پروفائل قیدی کے لیے کیے گئے سکیورٹی انتظامات کے تحت ہے۔
حکومت کے مطابق جیل قوانین اور عدالتی احکامات کے تحت عمران خان کو ملاقاتوں، ٹیلی فون کالز، مطالعاتی مواد، ٹیلی ویژن دیکھنے، گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کے آلات کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔
حکومت نے بتایا کہ عمران خان کے لیے سات کمروں پر مشتمل علیحدہ احاطہ مختص ہے، جہاں سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں، جبکہ انہیں الگ سے تیار کیا جانے والا کھانا فراہم کیا جاتا ہے، جس میں گوشت، مرغی، پھل، دودھ، خشک میوہ جات، جوس اور بوتل بند پانی شامل ہیں۔
عمران خان کو اہلِ خانہ سے مکمل طور پر الگ تھلگ رکھنے کے دعووں کو مسترد کرتے ہوئے حکومت نے کہا کہ جیل ریکارڈ کے مطابق ان کی قید کے بعد سے اب تک تقریباً 198 ملاقاتیں ہوچکی ہیں، جن میں 900 سے زائد افراد نے ان سے ملاقات کی۔
حکومت کے مطابق ملاقات کرنے والوں میں ان کی بہنیں، دیگر اہلِ خانہ، وکلا، ڈاکٹر، سیاسی نمائندے اور دیگر مجاز افراد شامل تھے۔
حکومت نے مزید کہا کہ عمران خان کو اپنی اہلیہ سے ہفتہ وار ملاقات کی اجازت دی گئی ہے اور ریکارڈ کے مطابق آخری ملاقات 4 اگست کو ہوئی تھی۔
حکومت نے بتایا کہ جیل ریکارڈ میں پاکستان اور بیرون ملک اہلِ خانہ سے ٹیلی فون، لینڈ لائن اور واٹس ایپ کے ذریعے رابطوں کا بھی اندراج موجود ہے، جن میں 21 مارچ کو ان کے ایک بیٹے سے ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو بھی شامل ہے۔
حکومت کے مطابق عمران خان کی بہنوں سے 18، 19 اور 25 اگست کو بھی ملاقاتیں ہوئیں۔
حکومت کا عمران خان کو ماہر ڈاکٹروں کی طبی نگہداشت فراہم کرنے کا دعویٰ
حکومت نے اس الزام کو بھی مسترد کردیا کہ عمران خان کو مناسب طبی علاج سے محروم رکھا گیا یا حکام نے سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔
حکومت کے مطابق عمران خان کی قید کے بعد سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیموں اور میڈیکل بورڈز نے تقریباً 30 مرتبہ ان کا طبی معائنہ کیا۔ ان معائنوں میں پمز، شفا انٹرنیشنل، شوکت خانم اور الشفا ٹرسٹ آئی اسپتال سمیت مختلف اداروں کے ماہرین شامل تھے، جبکہ جیل کے ڈاکٹر بھی باقاعدگی سے ان کا معائنہ کرتے رہے۔
حکومت نے بتایا کہ آنکھ کے پردے سے متعلق بیماری کی تشخیص کے بعد عمران خان کو ماہرین کی زیرِ نگرانی علاج فراہم کیا گیا، جس میں آنکھ کے اندر اینٹی وی ای جی ایف کے پانچ انجیکشن، ریٹینا کی امیجنگ، ادویات اور بعد ازاں طبی معائنے شامل تھے۔
حکومت کے مطابق ماہرین کی جانب سے کیے گئے طبی جائزوں، جن میں جولائی اور 21 اگست کے معائنے بھی شامل تھے، میں عمران خان کو ”ہوش و حواس میں“ اور ”مستحکم“ قرار دیا گیا، جبکہ کسی اچانک یا بے قابو طبی بگاڑ کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
حکومت نے عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمٰی خان سے منسوب حالیہ بیان کا بھی حوالہ دیا، جس میں انہوں نے عمران خان کو ”سو فیصد فٹ“ قرار دیا، ان کا بلڈ پریشر 120/80 بتایا اور کہا کہ ان کی آنکھ کی بیماری تقریباً مکمل طور پر ٹھیک ہوچکی ہے۔
حکومت کے مطابق ڈاکٹر عظمٰی نے علاج کرنے والے ماہرِ چشم کی بھی تعریف کی، اور حکومت کا کہنا ہے کہ ان کا بیان عمران خان کو دانستہ یا منظم انداز میں طبی سہولیات سے محروم رکھنے کے الزامات کی تائید نہیں کرتا۔
سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کا دعویٰ
حکومت نے مؤقف اختیار کیا کہ سپریم کورٹ کے احکامات پر مکمل عملدرآمد کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق عمران خان کا عدالتی ہدایات کے تحت طبی معائنہ کیا گیا اور اس سلسلے میں تمام ضروری طبی و انتظامی انتظامات کیے گئے۔
حکومت نے یہ بھی کہا کہ طبی معائنے کے دوران عمران خان کی بہن بھی موجود تھیں۔
حکومت کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہے کہ صحت سے متعلق معاملات کو سیاسی رنگ نہیں دیا جانا چاہیے اور حکام کو عمران خان کی طبی حالت کو سیاسی بنانے میں کوئی دلچسپی نہیں۔
حکومت نے سپریم کورٹ کی اس ہدایت کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت مزید کارروائی تک عمران خان کے اہلِ خانہ، سیاسی جماعت اور متعلقہ وکلا کو ان کی صحت یا میڈیکل رپورٹس میڈیا یا عوام کے ساتھ شیئر کرنے سے روک دیا گیا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان کے بیٹے پاکستان آسکتے ہیں
اس تاثر کے جواب میں کہ عمران خان کے بیٹے ان سے ملاقات کے لیے پاکستان نہیں آسکتے، حکومت نے کہا کہ دونوں کے پاس اوورسیز پاکستانیوں کے قومی شناختی کارڈ (نائیکوپ) موجود ہیں۔
حکومت کے مطابق مؤثر نائیکوپ پاکستان میں داخلے کے لیے تسلیم شدہ سفری دستاویز ہے اور اس کے ذریعے وہ پاکستان آسکتے ہیں۔
تاہم حکومت نے واضح کیا کہ جیل میں ملاقاتیں متعلقہ جیل قوانین، عدالتی احکامات اور سکیورٹی ضوابط سے مشروط رہیں گی۔
حکومت نے سی این این پر زور دیا کہ آئندہ رپورٹنگ میں اس کے مطابق ”دستاویزی حقائق“ کو پیش کیا جائے اور مصدقہ حراستی و طبی ریکارڈ اور ”سیاسی طور پر متنازع الزامات“ کے درمیان واضح فرق رکھا جائے۔
























Comments