BR100 Increased By (1.75%)
BR30 Increased By (1.81%)
KSE100 Increased By (1.62%)
KSE30 Increased By (1.61%)
BAFL 57.85 Increased By ▲ 0.82 (1.44%)
BIPL 27.33 Increased By ▲ 0.52 (1.94%)
BOP 34.19 Increased By ▲ 0.47 (1.39%)
CNERGY 9.66 Increased By ▲ 0.09 (0.94%)
DFML 18.67 Increased By ▲ 0.34 (1.85%)
DGKC 213.50 Increased By ▲ 6.70 (3.24%)
FABL 100.67 Increased By ▲ 1.70 (1.72%)
FCCL 54.22 Increased By ▲ 2.34 (4.51%)
FFL 16.84 Increased By ▲ 0.15 (0.9%)
GGL 24.00 Increased By ▲ 0.52 (2.21%)
HBL 308.81 Increased By ▲ 5.49 (1.81%)
HUBC 221.81 Increased By ▲ 4.29 (1.97%)
HUMNL 10.90 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 7.60 Increased By ▲ 0.17 (2.29%)
LOTCHEM 30.35 Decreased By ▼ -0.23 (-0.75%)
MLCF 98.16 Increased By ▲ 2.49 (2.6%)
OGDC 323.36 Increased By ▲ 2.37 (0.74%)
PAEL 42.29 Increased By ▲ 0.91 (2.2%)
PIBTL 16.88 Increased By ▲ 0.11 (0.66%)
PIOC 285.00 Increased By ▲ 22.15 (8.43%)
PPL 224.73 Increased By ▲ 0.53 (0.24%)
PRL 41.50 Increased By ▲ 0.10 (0.24%)
SNGP 110.25 Increased By ▲ 6.12 (5.88%)
SSGC 29.40 Increased By ▲ 0.99 (3.48%)
TELE 9.00 Increased By ▲ 0.31 (3.57%)
TPLP 12.77 Increased By ▲ 0.64 (5.28%)
TRG 60.45 Increased By ▲ 2.82 (4.89%)
UNITY 10.28 Increased By ▲ 0.57 (5.87%)
WTL 1.28 Increased By ▲ 0.04 (3.23%)
مارکٹس

شوگر ملز ایسوسی ایشن کا اضافی چینی کی فوری برآمد کا مطالبہ

  • انڈسٹری کو چینی کے بھاری ذخائر برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن (پی ایس ایم اے) نے وفاقی وزیر خوراک کو لکھے گئے خط میں حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ کرشنگ سیزن 2025-26 کے اختتام کے ایک ماہ کے اندر سرپلس (اضافی) چینی برآمد کرنے کی اجازت دینے کے اپنے وعدے کو پورا کرے۔

خط کے متن کے مطابق گزشتہ کرشنگ سیزن کے اختتام پر ملک میں چینی کے ذخائر 7.967 ملین میٹرک ٹن تھے۔ 6.786 ملین میٹرک ٹن کی سالانہ کھپت کے ساتھ، 1.181 ملین میٹرک ٹن کا سرپلس (اضافی ذخیرہ) موجود ہے۔ اس چینی کی مقدار کو برآمد کرنے میں پانچ ماہ لگیں گے اور تب تک چینی کی نئی پیداوار شروع ہو جائے گی۔

خط کے مطابق گزشتہ دو سال کے دوران گنے کے کاشتکاروں کو بروقت اور بہتر ادائیگیوں نے انہیں بہتر اقسام کی کاشت اور ضروری زرعی مداخل کے حصول کی ترغیب دی ہے جس کے نتیجے میں فی ایکڑ پیداوار اور چینی کی ریکوری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آئندہ کرشنگ سیزن میں گنے کی بہتر فصل متوقع ہے، جس کے باعث چینی کی پیداوار میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ خط میں مزید کہا گیا ہے کہ آئندہ کرشنگ سیزن میں چینی کی مجموعی پیداوار 8 ملین میٹرک ٹن تک پہنچنے کی توقع ہے۔

ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ اس وقت شوگر انڈسٹری کو چینی کے بھاری ذخائر برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے جبکہ طلب انتہائی کم ہے۔ خط کے مطابق موجودہ چینی کی قیمتیں پیداواری لاگت سے بھی کم ہیں جبکہ گنے کی قیمت میں ہر سال اضافہ ہو رہا ہے۔خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ چینی کے ذخائر فروخت نہ ہونے کے باعث شوگر انڈسٹری کو بینک قرضوں کی ادائیگی اور کاشتکاروں کے واجبات کی بروقت ادائیگی کے لیے شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔

ایسوسی ایشن نے ان تمام عوامل کے پیش نظر حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر 0.6 ملین میٹرک ٹن اضافی چینی برآمد کرنے کی اجازت دے اور 2026-27 کے کرشنگ سیزن کے آغاز کے ایک ماہ کے اندر باقی ماندہ 0.55 ملین میٹرک ٹن چینی برآمد کرنے کی بھی منظوری دے۔

خط کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں بروقت فیصلہ نہ صرف شوگر انڈسٹری کو فنڈز کی قلت سے نمٹنے میں مدد دے گا بلکہ قومی خزانے کے لیے تقریباً 575 ملین امریکی ڈالر کا انتہائی ضروری زرمبادلہ بھی حاصل ہوگا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف