BR100 Increased By (1.1%)
BR30 Increased By (0.84%)
KSE100 Increased By (0.82%)
KSE30 Increased By (0.92%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.63 (1.12%)
BIPL 26.83 Increased By ▲ 0.27 (1.02%)
BOP 33.31 Increased By ▲ 0.26 (0.79%)
CNERGY 9.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.21%)
DFML 18.50 Increased By ▲ 0.34 (1.87%)
DGKC 205.50 Increased By ▲ 1.49 (0.73%)
FABL 98.20 Increased By ▲ 1.23 (1.27%)
FCCL 51.47 Increased By ▲ 0.56 (1.1%)
FFL 16.74 Increased By ▲ 0.18 (1.09%)
GGL 23.20 Increased By ▲ 0.43 (1.89%)
HBL 300.49 Increased By ▲ 2.45 (0.82%)
HUBC 216.98 Increased By ▲ 0.55 (0.25%)
HUMNL 10.77 Increased By ▲ 0.07 (0.65%)
KEL 7.50 Decreased By ▼ -0.02 (-0.27%)
LOTCHEM 30.30 Decreased By ▼ -0.04 (-0.13%)
MLCF 94.08 Increased By ▲ 0.76 (0.81%)
OGDC 321.61 Increased By ▲ 2.11 (0.66%)
PAEL 41.15 Increased By ▲ 0.09 (0.22%)
PIBTL 16.68 Increased By ▲ 0.23 (1.4%)
PIOC 262.07 Increased By ▲ 5.06 (1.97%)
PPL 222.90 Increased By ▲ 0.32 (0.14%)
PRL 42.20 Increased By ▲ 0.15 (0.36%)
SNGP 104.00 Decreased By ▼ -0.50 (-0.48%)
SSGC 28.57 Increased By ▲ 0.19 (0.67%)
TELE 8.71 Increased By ▲ 0.08 (0.93%)
TPLP 11.40 Increased By ▲ 0.37 (3.35%)
TRG 56.29 Decreased By ▼ -2.52 (-4.28%)
UNITY 9.69 Increased By ▲ 0.09 (0.94%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
بی آر ریسرچ

آبنائے ہرمز پر غیر یقینی کا سایہ، معاشی بحالی خطرے میں

  • اس صورتِ حال کے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے
شائع اپ ڈیٹ

آبنائے ہرمز تکنیکی طور پر تو کھلی ہوئی ہے، لیکن جہازوں کی آمدورفت نہایت محدود ہے۔ اس لیے عملی طور پر اسے بند ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکا اور ایران دونوں جانب سے ہونے والی بمباری نے اس مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تسلسل پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ مستقبل غیر یقینی کا شکار ہے۔

اس صورتِ حال کے تیل درآمد کرنے والے ممالک پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے، خصوصاً ان ممالک پر جو ادائیگیوں کے توازن کے مسائل سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ پاکستان ان ممالک میں سرفہرست ہے اور ہمارا مستقبل بھی غیر یقینی سے دوچار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسٹاک مارکیٹ بے چینی کا شکار ہے، جبکہ شرح سود میں کمی کی غیر حقیقی توقعات بھی مکمل طور پر دم توڑ چکی ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان جولائی کے اختتام پر متوقع مانیٹری پالیسی اجلاس میں غالباً موجودہ شرح سود برقرار رکھے گا۔ زیادہ دانشمندانہ حکمتِ عملی یہی ہوگی کہ دسمبر تک انتظار اور مشاہدے کی پالیسی اپنائی جائے، کیونکہ جنگ کے خدشات مکمل طور پر ختم ہونے تک غیر یقینی کی تلوار ہمارے سروں پر لٹکتی رہے گی۔

حکومت اور اسٹاک مارکیٹ کے سرمایہ کار گرتی ہوئی مہنگائی اور بڑھتی ہوئی ترسیلاتِ زر جیسے بہتر معاشی اشاریوں پر خوش تھے، لیکن اس تمام خوشی پر پانی پھیرنے والا عنصر خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ثابت ہوا۔ چند ہی دنوں میں تیل کی قیمتیں اپنی کم ترین سطح سے 15 سے 20 فیصد بڑھ گئیں اور اب خام تیل تقریباً 80 ڈالر فی بیرل کے آس پاس منڈلا رہا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ قیمتیں 90 ڈالر سے نیچے رہیں گی، جبکہ دوسرے سمجھتے ہیں کہ یہ 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر سکتی ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے لیے 80 ڈالر فی بیرل سے اوپر کی ہر قیمت باعثِ تشویش ہے۔

جب جنگ شروع ہوئی تو چند ممالک نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ذخائر استعمال کرنا شروع کر دیے، جبکہ چین نے جنگ سے پہلے ہی بڑی مقدار میں تیل خرید لیا تھا اور گزشتہ چند ماہ کے دوران اپنی خریداری کم کر دی۔ اب ان اسٹریٹجک ذخائر کی سطح کم ہو چکی ہے اور انہیں مزید حفاظتی بفر کے طور پر استعمال کرنا آسان نہیں رہا۔ بلکہ اب کئی ممالک نسبتاً کم قیمتوں کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ اپنے ذخائر دوبارہ بھر سکیں۔ ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ چین مزید کتنی مدت تک تیل کی کم خریداری جاری رکھے گا۔

آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشے کے باعث عالمی سطح پر تیل کی طلب میں اضافے کا امکان خام تیل کی مارکیٹ کے لیے مثبت نہیں۔ پاکستان کے پاس اس صورتِ حال میں انتظار کے سوا زیادہ آپشن نہیں۔ کشیدگی کم کرنے کے لیے ہماری سفارتی کوششیں مفاہمتی یادداشت تک تو کامیاب رہیں، لیکن آئندہ ہمارا کردار شاید پہلے جیسا نہ رہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ جو جیو پولیٹیکل اہمیت پاکستان نے حاصل کی، اسے جیو پولیٹیکل فائدے میں کیسے تبدیل کیا جائے۔

فی الوقت ہر طرف مشکلات ہی مشکلات نظر آ رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کو پہلے ہی اس بات کا خدشہ تھا کیونکہ مفاہمتی یادداشت کسی حد تک ایران کے حق میں جھکی ہوئی محسوس ہوتی تھی، جبکہ حقیقت پسند لوگ یہ امکان بھی دیکھ رہے تھے کہ امریکا اس سے پیچھے ہٹ سکتا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ شاید اس صورتِ حال کو مزید 60 دن کی جنگ کی منظوری حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہوں۔

حقیقت جو بھی ہو، صورتِ حال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور غیر یقینی برقرار ہے۔ اگر پاکستان میں معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے بارے میں کوئی سوچ بچار کی جا رہی ہے تو اسے فی الحال روک دینا چاہیے۔ اس وقت اولین ترجیح معاشی استحکام کو برقرار رکھنا ہونی چاہیے۔

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جو اکتوبر 2021 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ اس سے یہ اطمینان ضرور حاصل ہوتا ہے کہ فوری طور پر کسی بڑے مالی بحران کا خطرہ نہیں اور روپے کی پوزیشن نسبتاً مستحکم ہے، اگرچہ حقیقی مؤثر شرح تبادلہ میں اضافے کے باعث روپے کی قدر میں کچھ کمی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

خلاصہ یہی ہے کہ غیر یقینی کی فضا بدستور قائم ہے۔ اس لیے تمام تر توجہ معاشی استحکام برقرار رکھنے پر مرکوز رہنی چاہیے اور معاشی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے بارے میں اسی وقت سوچنا چاہیے جب بیرونی حالات زیادہ سازگار ہو جائیں۔

Comments

200 حروف