جب تعاون تنازع میں بدل جائے
- اسٹینفورڈ کی تحقیق کے مطابق 75 فیصد کراس فنکشنل ٹیمیں مؤثر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرتیں
”میں نے تو اپنی طرف سے پوری جان لگا دی، مگر وہ منحوس شعبہ کوئی جواب ہی نہیں دیتا۔“
”دوسرے شعبے کا سربراہ تو جیسے ہم سے دشمنی نکالنے میں ہی لطف لیتا ہے۔“
”میں کیا کروں، جب میرے آدھے سے زیادہ کام کا انحصار دوسرے شعبوں کی منظوری پر ہے، اور وہ اتنے سست اور نااہل ہیں۔“
بطور کوچ مجھے لوگوں سے اکثر اسی نوعیت کی شکایات سننے کو ملتی ہیں۔ زیادہ تر افراد کا کہنا ہوتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری اور بھرپور محنت سے نبھاتے ہیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے نتائج ان کی کوششوں کے مطابق سامنے نہیں آتے۔ جب میں اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کرتا ہوں تو معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے شعبوں کی عدم تعاون اس کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ اپنی ٹیم سے مؤثر تعاون حاصل کرنا تو ہر ادارے کی ترجیح ہوتا ہے، جبکہ صارفین کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے پر بھی تحقیق، تربیت اور توجہ کا بڑا حصہ صرف کیا جاتا ہے۔ لیکن ایک اہم اور تزویراتی پہلو، جسے حکمتِ عملی کی تشکیل اور تربیتی پروگراموں دونوں میں اکثر نظرانداز کر دیا جاتا ہے، یہ ہے کہ ادارے کے دوسرے شعبوں کے ساتھ مؤثر تعاون اور اشتراکِ عمل کیسے پیدا کیا جائے۔
کیا مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں ادارے کے دیگر شعبوں کی اہمیت کم ہے؟ کیا یہ ایسا ثانوی موضوع ہے جسے کبھی سنجیدگی سے زیرِ بحث ہی نہیں لایا جاتا؟ اور آخر مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو یقینی بنانے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ یہ ایسے سوالات ہیں جن پر غور کرنا ناگزیر ہے۔ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نتائج پوری ویلیو چین کی مشترکہ کارکردگی کا حاصل ہوتے ہیں۔ اگر فرنٹ آفس آرڈرز تو حاصل کر لے، لیکن دیگر شعبوں کے عدم تعاون کے باعث ان آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر ہو، تو اس کے منفی اثرات لازماً نتائج پر مرتب ہوں گے۔ یہی ویلیو چین ایفیکٹ ہے۔ اس سلسلے کی ہر کڑی دوسری کڑی سے جڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک بھی کڑی کمزور ہو تو پوری زنجیر متاثر ہو جاتی ہے۔ مختلف شعبوں کا ایک ہی صفحے پر نہ ہونا ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ضرورت کے مطابق توجہ نہیں دی جاتی۔ بظاہر خوشگوار اور منظم نظر آنے والے کراس فنکشنل اجلاسوں کے پس منظر میں اکثر ہم آہنگی کا فقدان ہوتا ہے، جبکہ اجلاسوں میں دکھائی دینے والی خوش دلی اور اتفاقِ رائے کے پیچھے انا، توقعات اور مفادات کا ایک خاموش تصادم جاری رہتا ہے۔
اسٹینفورڈ کی ایک تحقیق کے مطابق 75 فیصد کراس فنکشنل ٹیمیں مؤثر انداز میں کام نہیں کر رہیں۔ اس صورتِ حال کا سب سے زیادہ منفی اثر ان ملازمین کے حوصلے پر پڑتا ہے جو اپنی ذمہ داریاں تو پوری دیانت داری سے انجام دیتے ہیں، مگر مختلف شعبوں کے باہمی تنازعات سے تنگ آ چکے ہوتے ہیں۔ جرنل ”بیہیویئر اینالیسس اِن پریکٹس“ میں شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق 62 فیصد ملازمین نے اعتراف کیا کہ کام کی جگہ پر پیدا ہونے والے تنازعات نے انہیں ملازمت چھوڑنے پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور کیا۔ زیادہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اتنے بڑے نقصان کے باوجود بیشتر منیجرز ایسے مسائل سے مؤثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ ڈی ڈی آئی (ڈیولپمنٹ ڈائمینشنز انٹرنیشنل) کی 2025 کی ایک تحقیق کے مطابق 49 فیصد منیجرز مؤثر انداز میں تنازعات حل کرنے کی مہارت کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مطلوبہ تعاون اور اشتراکِ عمل کو فروغ دینے کے لیے چار بنیادی پہلوؤں پر توجہ دینا ضروری ہے، تاکہ ملازمین مسائل کی درست نشاندہی کر سکیں اور انہیں مؤثر انداز میں حل کرتے ہوئے دیگر شعبوں کا تعاون حاصل کر سکیں۔
تعاون کی پہلی شرط: ذمہ دارانہ سوچ
ادارے کے مختلف شعبوں کے درمیان مؤثر تعاون کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ اکثر ملازمین کی سوچ ہوتی ہے۔ بیشتر افراد اپنے کام کو صرف اپنے شعبے کی حدود تک محدود سمجھتے ہیں۔ مثال کے طور پر سیلز ٹیم اپنی توجہ گاہکوں سے تعلقات، کاروباری ترقی اور اپنی ٹیم کی کارکردگی پر مرکوز رکھتی ہے۔ ملازمت کی ذمہ داریوں کے مطابق ان کا بنیادی ہدف اہداف حاصل کرنا ہوتا ہے، اس لیے وہ اپنی زیادہ تر توانائی اسی پر صرف کرتے ہیں۔ ان کی ترجیح عموماً اپنے سربراہ اور گاہک دونوں کو مطمئن رکھنا ہوتی ہے۔لیکن جب ان کا کام کسی دوسرے شعبے میں جا کر رک جاتا ہے تو اکثر ان کا ردِعمل یہی ہوتا ہے: ”ہم نے تو اپنا کام کر دیا، اب وہ اپنا کام نہیں کر رہے تو اس میں ہمارا کیا قصور؟“ یہی سوچ بدلنے کی ضرورت ہے۔ کسی کام کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی ذمہ داری کا تعین صرف اس شعبے سے نہیں ہوتا جس میں آپ کام کرتے ہیں، نہ ہی اس دفتر یا ٹیم کی چار دیواری سے جس کا آپ حصہ ہیں۔ اصل ذمہ داری اس صلاحیت سے طے ہوتی ہے کہ آپ مطلوبہ کام کو ہر صورت مکمل کرائیں۔ اور اس کے لیے اکثر اپنی ملازمت کی رسمی ذمہ داریوں سے آگے بڑھ کر کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔
نتائج حاصل کرنے کی سوچ اور صرف ملازمت کی ذمہ داریوں (جے ڈی) کی فہرست مکمل کرنے کی سوچ میں بنیادی فرق ہوتا ہے۔ جب مقصد صرف دیے گئے کام نمٹانا نہیں بلکہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنا ہو تو ذمہ داری کا دائرہ بھی وسیع ہو جاتا ہے اور اس کا مرکز دوسروں کے بجائے خود ہم بن جاتے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی فرد کی ذمہ داری صرف اپنے شعبے کا کام انجام دینے تک محدود نہیں رہتی، بلکہ اسے یہ بھی یقینی بنانا ہوتا ہے کہ دیگر متعلقہ شعبے بھی بروقت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، تاکہ مجموعی طور پر صارف کو بہترین تجربہ فراہم کیا جا سکے۔
تعاون کی دوسری شرط: تعلقات کا مساواتی اصول
جب آپ یہ حقیقت تسلیم کر لیتے ہیں کہ آپ کی ذمہ داری اپنے شعبے کے دروازے پر ختم نہیں ہوتی، تو اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ اس کے بعد کیا کیا جائے؟ اگلا قدم یہ ہے کہ ادارے کے دوسرے شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا جائزہ لیا جائے۔ اصول بہت سادہ ہے: آپ کو دوسرے شعبوں سے جتنا بہتر تعاون ملے گا، اس کا انحصار ان کے ساتھ آپ کے تعلقات کے معیار پر ہوگا۔ عملی طور پر ہم سب جانتے ہیں کہ جن شعبوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار ہوتے ہیں، وہ ہمارے کام کو ترجیحی بنیادوں پر انجام دیتے ہیں۔
اسی طرح جن شعبوں کے ساتھ ہمارے تعلقات خوشگوار نہیں ہوتے، وہ اکثر کام میں تاخیر کرتے ہیں یا مختلف رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔ اسی لیے پہلا قدم یہ ہے کہ مختلف شعبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے۔ عمومی طور پر تعلقات کو چار درجوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے: مخاصمانہ،غیر دلچسپی پر مبنی،محض ضرورت تک محدود (ٹرانزیکشنل)،باہمی تعاون پر مبنی ،البتہ کسی شعبے کو ان میں سے کسی بھی زمرے میں رکھنے کا فیصلہ محض تاثر کی بنیاد پر نہیں، بلکہ واضح اور قابلِ پیمائش معیار کے مطابق ہونا چاہیے۔اس کے بعد یہ طے کریں کہ مطلوبہ نتائج کے حصول میں کون سے شعبے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر ان کے ساتھ آپ کے تعلقات مخاصمانہ یا غیر دلچسپی کے درجے میں ہیں تو انہیں اولین ترجیح دیتے ہوئے تعلقات بہتر بنانے کی سنجیدہ کوشش کی جانی چاہیے۔
تعاون کی تیسری شرط: مشترکہ وژن
ادارے کے دوسرے شعبے درحقیقت آپ کے اندرونی صارفین (انٹرنل کسٹمرز) ہوتے ہیں۔ جس طرح آپ بیرونی صارف کو محض کوئی مصنوعات بھیج کر یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ لازماً اسے خرید لے گا، اسی طرح دوسرے شعبوں سے بھی صرف اپنی ضرورت بتا دینے سے مطلوبہ تعاون نہیں مل جاتا۔ بعض اوقات یہ شعبے ایسے صارفین کی مانند ہوتے ہیں جنہیں قائل کرنا پڑتا ہے۔لوگ یا شعبے اس وقت تعاون پر آمادہ ہوتے ہیں جب انہیں محسوس ہو کہ آپ کی ضرورت اور ان کے مفادات یا ترجیحات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہیں۔اس لیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کریں کہ آپ کے لیے اہم شعبوں کی ضروریات، ترجیحات اور دلچسپیاں کیا ہیں۔ پھر ان کے پاس جائیں، ان کی دلچسپیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مؤثر رابطہ استوار کریں، ان کے تجربات سے رہنمائی حاصل کریں اور انہیں اپنا سرپرست (مینٹور) سمجھیں۔رسمی معاملات سے ہٹ کر ان کی دلچسپیوں، مثلاً کرکٹ، فٹ بال یا دیگر موضوعات پر بھی گفتگو کریں۔ وقت کے ساتھ یہ تعلق محض رسمی یا غیر دلچسپی کی سطح سے آگے بڑھ کر حقیقی تعاون اور شراکت داری میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
تعاون کی چوتھی شرط: کامیابیوں کا مشترکہ جشن
سب سے مضبوط اور پائیدار تعلقات وہ ہوتے ہیں جن میں صرف مشکلات ہی نہیں بلکہ کامیابیاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ بانٹی جائیں۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کاروبار ملنے یا ہدف حاصل ہونے پر سیلز ٹیم تمام کامیابی کا کریڈٹ خود لے لیتی ہے، جبکہ آئی ٹی، پروکیورمنٹ اور دیگر معاون شعبے خود کو نظر انداز محسوس کرتے ہیں۔ اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ کامیابی کا کریڈٹ ان شعبوں کے ساتھ بھی بانٹیں، ان کا ذاتی طور پر شکریہ ادا کریں اور عوامی سطح پر بھی ان کی خدمات کا اعتراف کریں۔ کامیابیوں کا جشن مل کر منائیں تاکہ شراکت داری اور ٹیم ورک کا احساس پروان چڑھے۔ جتنا زیادہ آپ دوسرے شعبوں کو یہ احساس دلائیں گے کہ وہ اس کامیابی کا حقیقی حصہ ہیں، اتنا ہی زیادہ مطلوبہ نتائج سب کا مشترکہ ہدف بن جائیں گے اور باہمی تعاون بھی مضبوط ہوتا جائے گا۔
انتظام اور قیادت درحقیقت چاروں سمت مضبوط انسانی تعلقات استوار کرنے کا فن ہے۔ ہر سطح کے رہنما کو نہ صرف اپنی ٹیم بلکہ اپنے سربراہ اور ہم منصب ساتھیوں کے ساتھ بھی مؤثر تعلقات استوار کرنا ہوتے ہیں۔ اکثر رہنما اپنی ٹیم کی قیادت (مینجنگ ڈاؤن) اور اپنے سربراہ کے ساتھ تعلقات (مینجنگ اپ) پر تو بھرپور توجہ دیتے ہیں، مگر ہم منصب شعبوں اور ساتھیوں کے ساتھ تعلقات (مینجنگ آکراس) کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ وہ یا تو انہیں معمولی سمجھتے ہیں یا پھر ہر مسئلے کا الزام انہی پر دھرنے کی عادت اپنا لیتے ہیں۔ بالآخر یہی رویہ الٹا نقصان پہنچاتا ہے۔ فیرس اِنک کی ایک تحقیق کے مطابق 86 فیصد شرکا نے کام کی جگہ پر ناکامیوں کی بنیادی وجہ مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کے فقدان یا ٹیموں میں غیر مؤثر رابطے کو قرار دیا۔ حقیقی قیادت کی ابتدا خود رہنما سے ہوتی ہے، اور ادارے کی ثقافت بھی سب سے پہلے اسی کے رویے سے جھلکتی ہے۔ لہٰذا ایسی تنظیمی ثقافت کو فروغ دیجیے جو صرف الفاظ میں نہیں بلکہ عمل سے اس اصول کو زندہ کرے: ”شکایتیں چھوڑیں، تعاون کو فروغ دیں۔“





















Comments