الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے وابستہ 6 سابق ارکانِ پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے خلاف اثاثوں اور واجبات کی تفصیلات (ویلتھ اسٹیٹمنٹس) جمع نہ کرانے کے مقدمے کی سماعت آئندہ ہفتے دوبارہ مقرر کر دی ہے، حالانکہ ان ارکان کو 9 مئی کے مقدمات میں عدالتوں سے سزائیں ملنے کے بعد پہلے ہی ان کی قانون ساز رکنیت سے نااہل قرار دیا جا چکا ہے۔
اس سے قبل الیکشن کمیشن نے مجموعی طور پر 9 سابق پی ٹی آئی سے وابستہ قانون سازوں کو مالی سال 2024-25 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس جمع نہ کرانے پر طلب کیا تھا۔ تاہم، بزنس ریکارڈر کو معلوم ہوا ہے کہ ان میں سے 3 سابق ارکان مطلوبہ تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرا چکے ہیں۔
الیکشن کمیشن کی حالیہ کاز لسٹ کے مطابق 9 جولائی کو عبداللطیف، صاحبزادہ حامد رضا، زرتاج گل، جنید افضل ساہی، شاہد جاوید اور محمد اسماعیل کے خلاف مالی سال 2024-25 کی ویلتھ اسٹیٹمنٹس جمع نہ کرانے کے معاملے کی سماعت ہوگی۔
دوسری جانب اعجاز چوہدری، شبلی فراز اور رائے مرتضیٰ اقبال مطلوبہ اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کرا چکے ہیں۔
الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے تمام ارکان ہر سال 31 دسمبر تک اپنے، اپنی شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کی گزشتہ مالی سال کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کے پابند ہوتے ہیں۔
اسی قانون کے تحت یکم جنوری کو الیکشن کمیشن ایسے ارکان کے نام شائع کرتا ہے جنہوں نے ویلتھ اسٹیٹمنٹس جمع نہیں کرائیں، جبکہ 15 جنوری تک تفصیلات جمع نہ کرانے والے ارکان کی رکنیت 16 جنوری کو معطل کر دی جاتی ہے۔
الیکشن کمیشن کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ان 6 سابق ارکان کو اس لیے نوٹس جاری کیے گئے ہیں کیونکہ ویلتھ اسٹیٹمنٹس ان کی اس مدت سے متعلق مطلوب ہیں جب وہ قانون ساز تھے، یعنی نااہلی سے پہلے کی مدت۔
حالیہ مہینوں میں الیکشن کمیشن عدالتوں سے سزائیں ملنے کے بعد پی ٹی آئی سے وابستہ 17 قانون سازوں کو نااہل قرار دے چکا ہے، جن میں 8 قومی اسمبلی کے ارکان، 6 صوبائی اسمبلی کے ارکان اور 3 سینیٹرز شامل ہیں۔
جمشید دستی کے علاوہ دیگر 16 ارکان کو 9 مئی کے واقعات سے متعلق انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں (اے ٹی سیز) سے سزائیں سنائے جانے کے بعد الیکشن کمیشن نے نااہل قرار دیا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026
























Comments