BR100 Decreased By (-0.06%)
BR30 Decreased By (-0.43%)
KSE100 Decreased By (-0.09%)
KSE30 Decreased By (-0.08%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.27 Decreased By ▼ -0.08 (-0.26%)
CNERGY 13.08 Decreased By ▼ -0.04 (-0.3%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 191.66 Decreased By ▼ -0.79 (-0.41%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.70 Decreased By ▼ -0.09 (-0.17%)
FFL 14.58 Decreased By ▼ -0.14 (-0.95%)
GGL 19.29 Decreased By ▼ -0.27 (-1.38%)
HBL 306.90 Increased By ▲ 0.80 (0.26%)
HUBC 201.00 Decreased By ▼ -0.42 (-0.21%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.17 Increased By ▲ 0.08 (1.31%)
LOTCHEM 26.41 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.25 Decreased By ▼ -1.48 (-0.47%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.70 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 243.05 Decreased By ▼ -0.16 (-0.07%)
PPL 223.98 Decreased By ▼ -2.93 (-1.29%)
PRL 92.35 Decreased By ▼ -0.67 (-0.72%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.76 Decreased By ▼ -0.05 (-0.21%)
TELE 7.77 Decreased By ▼ -0.03 (-0.38%)
TPLP 12.75 Decreased By ▼ -0.22 (-1.7%)
TRG 56.51 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن کا سپر ٹیکس کے خاتمے کا مطالبہ

  • تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ ٹیکس فری حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے، بجٹ تجاویز
شائع اپ ڈیٹ

کراچی ٹیکس بار ایسوسی ایشن (کے ٹی بی اے) نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) سے مطالبہ کیا کہ آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں سپر ٹیکس ختم کیا جائے اور تنخواہ دار طبقے کیلئے سالانہ ٹیکس فری حد بڑھا کر 12 لاکھ روپے کی جائے۔

ایف بی آر کو جمع کرائی گئی اپنی بجٹ تجاویز میں کے ٹی بی اے نے مؤقف اختیار کیا کہ سپر ٹیکس، جو اصل میں سیکشن فور بی کے تحت ایک سال اور مخصوص مقصد کیلئے متعارف کرایا گیا تھا، اب بغیر کسی مدتِ اختتام (سن سیٹ کلاز) کے غیر معینہ اور مستقل بنادیا گیا ہے جسے بار نے غیر منصفانہ قرار دیا ہے۔

کے ٹی بی اے کی بجٹ تجویز میں کہا گیا ہے کہ سپر ٹیکس کا نفاذ کاروبار کی ترقی کیلئے حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے اور اس کے خاتمے یا نمایاں کمی سے معیشت کو براہ راست فروغ ملے گا۔

اس وقت جب پاکستان غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور مقامی سرمایہ محفوظ رکھنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، کاروباری حلقے مسلسل بلند اور غیر یقینی ٹیکس شرح کو سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے طور پر اجاگر کر رہے ہیں۔

کے ٹی بی اے نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ تنخواہ دار افراد کو ان کی تنخواہ کی آمدن کے مقابلے میں 15 فیصد قابلِ کٹوتی الاؤنس کی اجازت دی جائے، جو وہ آمدن حاصل کرنے کیلئے آمد و رفت اور دیگر ناگزیر اخراجات پر خرچ کرتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے کرایہ کی آمدن پر کٹوتی کی اجازت دی جاتی ہے۔

مزید برآں سالانہ ٹیکس فری آمدنی کی حد جو اس وقت 6 لاکھ روپے مقرر ہے کو دگنا کر کے 12 لاکھ روپے کیا جانا چاہیے تاکہ گزشتہ دو سے تین سالوں کے دوران ہونے والی مہنگائی کا ازالہ ہوسکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف