مارچ 2025 میں پاکستان کا ریئر انڈیکس ساڑھے 7 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
- انڈیکس کا 100 سے اوپر ہونا ملکی برآمدات کے مہنگے اور درآمدات کے سستے ہونے کی نشاندہی کرتا ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جمعرات کو جاری اعداد و شمار کے مطابق مختلف غیر ملکی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر کی پیمائش کرنے والا ریئل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ (ریئر) انڈیکس مارچ 2026 میں بڑھ کر 105.17 پر آ گیا ہے، جو فروری 2026 میں 103.11 تھا۔
یہ اضافہ ریئر انڈیکس کو ساڑھے سات سال کی بلند ترین سطح پر لے گیا ہے۔ اس سے قبل ستمبر 2018 میں انڈیکس نے 105 کی حد عبور کی تھی جب یہ 106.63 پر تھا۔
معاشی اصولوں کے مطابق اگر انڈیکس 100 سے اوپر ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ملک کی برآمدات (عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کی وجہ سے) غیر مسابقتی ہو رہی ہیں، جبکہ درآمدات سستی ہو جاتی ہیں۔ اس کے برعکس انڈیکس 100 سے نیچے ہونے کی صورت میں صورتحال اس کے الٹ ہوتی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے تازہ ترین ڈیٹا کے مطابق مارچ 2026 میں ریئر میں ماہانہ بنیادوں پر 1.99 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ مارچ 2025 (101.55) کے مقابلے میں یہ 3.5 فیصد زائد رہا۔
مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ ریئر انڈیکس کے 100 پر ہونے کا یہ غلط مطلب نہیں لینا چاہیے کہ یہ کرنسی کی اصل قدر ہے۔ اسٹیٹ بینک نے وضاحتی نوٹ میں کہا کہ انڈیکس کا 100 سے دور ہونا محض 2010 کی اوسط قدر کے مقابلے میں تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، اس کا کرنسی کی اصل توازن والی قدر سے تعلق نہیں ہے۔
ٹاپ لائن سیکورٹیز کے مطابق موجودہ ریئر گزشتہ 10 سال کی اوسط (102.77) سے زیادہ ہے۔ ادارے نے توقع ظاہر کی ہے کہ جون 2026 تک ڈالر کی قیمت 280 سے 282 روپے کے درمیان رہے گی۔
دریں اثنا نومینل ایفیکٹیو ایکسچینج ریٹ انڈیکس مارچ 2026 میں 1.02 فیصد اضافے کے ساتھ 38.02 ریکارڈ کیا گیا، جو فروری میں 37.64 تھا۔ تاہم سالانہ بنیادوں پر نئیر انڈیکس میں 1.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی ہے۔
ریئر کیا ہے؟
مرکزی بینک کے مطابق ریئر ایک ملک میں اشیا کی قیمتوں کے اس گروپ (باسکٹ) کا انڈیکس ہے جس کا موازنہ اس کے بڑے تجارتی شراکت دار ممالک کی انہی اشیا کی قیمتوں سے کیا جاتا ہے۔ ان قیمتوں کا تعین برآمدات، درآمدات یا مجموعی غیر ملکی تجارت میں ہر ملک کے حصے کے مطابق وزن دے کر کیا جاتا ہے۔

























Comments