خلیجی مارکیٹس میں ملا جلا رجحان، سرمایہ کار امریکہ-ایران مذاکرات پر پیش رفت کے منتظر
- سعودی عرب کے بینچ مارک انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی ہوئی
خلیجی اسٹاک مارکیٹوں میں پیر کے روز ابتدائی کاروبار کے دوران ملا جلا رجحان دیکھا گیا، جہاں سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی سے متعلق خبروں پر وضاحت کے منتظر رہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران کو خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی گئی تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ٹرمپ نے اتوار کو ایک سخت بیان میں کہا کہ اگر ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو نہ کھولا تو وہ منگل کو ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کے احکامات دے سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایران اور امریکہ کو ایک ایسا منصوبہ موصول ہوا ہے جس کا مقصد کشیدگی کا خاتمہ ہے اور جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولی جا سکتی ہے۔
عالمی منڈی میں برینٹ خام تیل کی قیمت میں 76 سینٹ یعنی 0.7 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 109.79 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
سعودی عرب کے بینچ مارک انڈیکس میں 0.2 فیصد کمی ہوئی، جہاں الراجحی بینک کے حصص 0.3 فیصد نیچے آئے۔ دبئی کی مرکزی مارکیٹ میں بھی 0.2 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی بڑی وجہ ایمار پراپرٹیز کے حصص میں 2.5 فیصد کمی تھی۔
اس کے برعکس ابوظہبی کے انڈیکس میں 0.4 فیصد اضافہ ہوا جبکہ قطر کی اسٹاک مارکیٹ میں 1 فیصد بہتری دیکھی گئی، جس کی وجہ قطر نیشنل بینک کے حصص میں 0.6 فیصد اضافہ تھا۔
متحدہ عرب امارات کے عہدیدار انور قرقاش نے کہا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آمدورفت کی ضمانت شامل ہونی چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے جوہری پروگرام اور میزائل صلاحیت کو محدود نہ کیا گیا تو خطہ مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے۔
علاقائی حکام کے مطابق امریکی اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جوابی کارروائیوں کے باعث متحدہ عرب امارات کو دیگر خلیجی ممالک کے مقابلے میں زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

























Comments