ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافہ
- انٹربینک میں بدھ کو روپے کی قدر میں 0.01 فیصد اضافہ ریکارڈ
انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں بہتری کا سلسلہ جاری ہے، بدھ کو بھی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر میں 0.01 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے میں روپیہ 3 پیسے کی بہتری سے 279.72 پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ منگل کو مقامی کرنسی 279.75 روپے پر بند ہوئی تھی۔

عالمی مارکیٹ میں بدھ کو امریکی ڈالر مستحکم رہا کیونکہ حکومت کی جزوی بندش کے فوری خاتمے کے بعد سرمایہ کار محتاط دکھائی دیے۔ دوسری جانب ہفتے کے آخر میں ہونے والے غیر یقینی قومی انتخابات سے قبل جاپانی ین دو ہفتوں کی کم ترین سطح کے قریب ڈگمگاتا رہا۔
کرنسی مارکیٹیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فیڈرل ریزرو کے اگلے سربراہ کے طور پر کیون وارش کی نامزدگی کے اثرات کا جائزہ لے رہی ہیں۔ ان توقعات پر ڈالر مستحکم رہا کہ وارش کی جانب سے شرح سود میں تیزی سے کمی کا امکان کم ہے۔ اس تقرری سے سرمایہ کاروں کو اس لحاظ سے سکون ملا ہے کہ مرکزی بینک کی خود مختاری پر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل حملوں کے بعد پیدا ہونے والے خدشات میں کچھ کمی آئی ہے۔
ابتدائی تجارت میں یورو 1.1814 ڈالر اور برطانوی پاؤنڈ 1.3693 ڈالر پر مستحکم رہا، جبکہ جمعرات کو یورپی سینٹرل بینک اور بینک آف انگلینڈ کے اجلاس ہونے والے ہیں، جن میں شرح سود برقرار رکھے جانے کی توقع ہے۔ ڈالر انڈیکس جو چھ بڑی کرنسیوں کے مقابلے میں ڈالر کی قدر کی پیمائش کرتا ہے، 97.43 پر رہا۔
عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں، جو کرنسیوں کے استحکام کا ایک اہم اشارہ ہیں بدھ کو اس وقت بڑھ گئیں جب امریکہ کی جانب سے ایرانی ڈرون گرائے جانے اور ایرانی کشتیوں کے امریکی بحری جہاز کے قریب آنے کے بعد واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی بڑھنے کے خدشات دوبارہ پیدا ہوئے۔
اسی طرح برینٹ کروڈ 46 سینٹ اضافے کے ساتھ 67.79 ڈالر جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 52 سینٹ اضافے کے ساتھ 63.73 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔ دونوں بینچ مارکس اس ہفتے کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کی خبروں اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ کے خدشات کے درمیان اتار چڑھاؤ کا شکار رہے۔

























Comments