بھارت اور یورپی یونین میں آزاد تجارتی معاہدہ پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو نقصان پہنچائے گا، ماہرین
- امریکہ کے بعد یورپی یونین پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کے لیے اہم ترین منزل ہے
جے ایس گلوبل نے کہا ہے کہ بھارت اور یورپی یونین کے درمیان حال ہی میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے ) پاکستان کی برآمدات پر دباؤ بڑھا سکتا ہے، کیونکہ پاکستان کی مجموعی برآمدات کا 24 فیصد حصہ جس میں زیادہ تر ٹیکسٹائل شامل ہے یورپی مارکیٹ سے وابستہ ہے۔
منگل کو بھارت اور یورپی یونین نے ایک تاریخی تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دی، جو دنیا کی معیشت کے چوتھائی حصے کی نمائندگی کرتا ہے۔ دونوں فریقین امریکہ کے ساتھ غیر یقینی تعلقات کے پیشِ نظر اپنے تجارتی مفادات کا تحفظ چاہتے ہیں۔ تقریباً دو دہائیوں کے اتار چڑھاؤ والے مذاکرات کے بعد یہ معاہدہ بھارت کے لیے دنیا کی سب سے بڑی اور محفوظ مارکیٹ کو 27 رکنی یورپی یونین (جو بھارت کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے) کے لیے کھولنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اب یورپی ممالک میں بھارتی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی (ٹیرف) میں کمی یا خاتمہ کر دیا جائے گا۔
جے ایس گلوبل کے مطابق بھارتی ٹیکسٹائل برآمدات پر اس وقت جی ایس پی اسکیم کے تحت 8 سے 12 فیصد ٹیرف عائد ہے، جو گزشتہ ہفتے معطل کر دی گئی تھی، جبکہ پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے تحت زیرو ٹیرف کی سہولت حاصل ہے۔ اب اس نئے معاہدے کے بعد پاکستان اپنی وہ مسابقتی برتری کھو سکتا ہے جو پہلے ہی بہت کم تھی، کیونکہ بھارت کو ویلیو ایڈیشن اور بہتر پیداواری نظام کی وجہ سے فائدہ حاصل ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ یورپی یونین امریکہ کے بعد پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کی اہم ترین منزل ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں رجسٹرڈ کمپنیوں میں سے گل احمد (58 فیصد)، انٹرلوپ (45 فیصد) اور نشاط ملز (25 فیصد) کا یورپی یونین میں کاروبار دیگر کے مقابلے میں زیادہ ہے۔
اس سے قبل پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی ) کے چیئرمین فواد انور نے اس معاہدے کے اثرات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یورپی مارکیٹ میں پاکستان کی پہلے سے کمزور مسابقت کو اب وجود برقرار رکھنے کے خطرے کا سامنا ہے۔ انہوں نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ پاکستان یورپی یونین کو تقریباً 9 ارب ڈالر کی اشیاء برآمد کرتا ہے، جن میں سے 65 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکسٹائل مصنوعات ہیں۔
فواد انور نے مزید کہا کہ حالیہ تجارتی اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں یورپی یونین کو پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات 6.2 ارب ڈالر تھیں، جو بھارت کی 5.6 ارب ڈالر کی برآمدات سے معمولی زیادہ تھیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ یہ فرق کبھی بھی ڈھانچہ جاتی نہیں تھا، بلکہ اس کی بنیادی وجہ پاکستان کو حاصل ’جی ایس پی پلس‘ کی رعایت تھی جبکہ بھارت کو 12 فیصد تک ٹیرف کا سامنا تھا۔ اب اس معاہدے کے ذریعے بھارتی ملبوسات کو زیرو ڈیوٹی کی سہولت ملنے سے پاکستان کا یہ فائدہ ختم ہو گیا ہے۔

























Comments