نعروں سے پہلے مہارت
- معیار کو برقرار رکھنا، کارکردگی کے معیار پر عملدرآمد کرنا اور سیاسی اثرات سے بچنا موجودہ کوششوں کے دیرپا ہونے کا فیصلہ کرے گا
نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن کی حالیہ کارکردگی نے بالآخر مہارتوں سے متعلق بحث کو وعدوں سے عمل کی سطح پر منتقل کر دیا ہے، اور یہ پیش رفت اعتراف کی مستحق ہے۔
کئی برس کی جمود کے بعد ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کو اب محض ایک ضمنی معاملہ نہیں بلکہ ایک بنیادی معاشی آلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ تبدیلی اس لیے اہم ہے کہ پاکستان کا سب سے سنگین ساختی چیلنج اب محض نمو نہیں بلکہ روزگار کے قابل افرادی قوت کی فراہمی ہے۔
ٹیکنالوجی، نقل و حرکت اور سرٹیفکیشن سے تشکیل پانے والی لیبر مارکیٹ میں محض آبادی کا حجم مواقع پیدا نہیں کرتا۔
یہ ایک پرانی کہانی ہے۔ پاکستان دنیا کے بڑے یوتھ بلجز( آبادی میں نوجوانوں کا غیر معمولی طور پر بڑا تناسب) میں سے ایک رکھتا ہے۔ ہر سال لاکھوں نوجوان محدود رسمی تعلیم اور اس سے بھی کم قابلِ فروخت مہارتوں ( ایسی عملی مہارتیں جو کام کے مواقع پیدا کرتی ہیں) کے ساتھ کام کرنے کی عمر میں داخل ہوتے ہیں۔ بہت سوں کے لیے یونیورسٹی نا تو قابلِ رسائی ہے اور نہ ہی موزوں۔ جبکہ دیگر کے لیے تعلیم اس مرحلے پر ختم ہو جاتی ہے جہاں سے نتیجہ خیز روزگار تک پہنچنے کا کوئی راستہ موجود نہیں ہوتا۔
اس کا نتیجہ ایسی ورک فورس (افرادی قوت) کی صورت میں نکلتا ہے جو اندرونِ ملک غیر رسمی معیشت اور بیرونِ ملک اخراج کے درمیان پھنسی رہتی ہے، حالانکہ مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ افرادی قوت کی عالمی طلب موجود ہے۔ صلاحیت اور تیاری کے درمیان یہ خلا مسلسل معاشی قیمت عائد کرتا رہا ہے۔
اسی پس منظر میں ووکیشنل اور ٹیکنیکل ٹریننگ کے اقدامات کے تحت حالیہ رپورٹ شدہ پیش رفت حوصلہ افزا ہے۔
صنعت کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کرنا، شعبوں میں پروگرامز کو وسیع کرنا، تیسرے فریق کی توثیق متعارف کروانا اور کورسز کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن سے منسلک کرنا عملی اقدامات ہیں۔ یہ اقدامات براہِ راست روزگار کے مواقع اور اعتماد پیدا کرنے سے متعلق ہیں، جو اس وقت ناگزیر ہیں جب پاکستانی کارکنان ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔
اتنی ہی اہمیت وسعت کی بھی ہے۔ ووکیشنل ٹریننگ کو اکثر اس طرح زیرِ بحث لایا جاتا ہے جیسے یہ صرف چند مخصوص پیشوں تک محدود ہو، حالانکہ حقیقت میں یہ ہنروں کے پورے دائرے کو شامل کرتی ہے۔ پلمبرز، الیکٹریشنز اور کارپینٹرز سے لے کر مشینسٹ، ویلڈرز اور ٹیکنیشنز، اور آگے آئی ٹی، لاجسٹکس، ہاسپیٹیلٹی اور مخصوص خدمات تک، معیشت ایسے ہنروں پر چلتی ہے جو سیکھے، عملی طور پر اپنائے اور تصدیق شدہ ہوں۔
ووکیشنل تعلیم کو ثانوی حیثیت دینا پاکستان کی سب سے نقصان دہ پالیسی عادات میں سے ایک رہی ہے۔
بین الاقوامی تجربہ بھی اس بات کی تائید کرتا ہے۔ وہ ممالک جنہوں نے بڑی نوجوان آبادی کو پیداواری روزگار میں کامیابی کے ساتھ شامل کیا، انہوں نے یہ مضبوط ووکیشنل ایکو سسٹمز کی بنیاد پر کیا، جو رسمی تعلیم کے ساتھ قائم کیے گئے۔ یہ نظام صنعت کی شرکت، مسلسل اپ ڈیٹ کیے جانے والے نصاب اور تربیت سے روزگار تک واضح راستوں سے پہچانے جاتے ہیں۔
پاکستان نے طویل عرصے سے اس ماڈل کو تسلیم کیا ہے، لیکن کمی طویل المدتی نفاذ میں رہی ہے۔
یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ نفاذ کا انحصار ہم آہنگی پر بھی ہے۔ ہنر کی ترقی وفاقی اور صوبائی دائرہ اختیار، تعلیمی نظام، لیبر مارکیٹ اور نجی ملازمین سے مربوط ہے۔ بغیر ہم آہنگی کے، تربیت ٹوٹ پھوٹ یا غیر متعلقہ ہو سکتی ہے۔
قومی معیار کو ہر صوبے میں تربیت کی فراہمی کے ساتھ ہم آہنگ ہونا چاہیے تاکہ پورے ملک میں تربیت یکساں اور قابلِ اعتبار ہو۔ سرٹیفیکیشن کو بین الاقوامی معیار کے مطابق اور مختلف صنعتی شعبوں میں بھی قابلِ قبول سمجھا جانا چاہیے۔ آجر شراکت دار ہونے چاہئیں، محض ناظر نہیں۔ بغیر اس انضمام کے، حتیٰ کہ بہترین ڈیزائن کیے گئے پروگرامز بھی ترقی نہیں کر پاتے۔ یہ بات عام طور پر تسلیم شدہ ہے، لیکن مؤثر نفاذ مسلسل ناکام رہا ہے۔
اقتصادی پہلو بھی موجود ہے۔ پاکستان کی ایکسٹرنل اکاؤنٹ( بیرونی کھاتہ آمدنی) پر ریمیٹنس پر انحصار کرتی ہے، لیکن بہت سے بیرونِ ملک کارکن کم ہنر والے شعبوں تک محدود ہیں جو پالیسی تبدیلیوں اور اجرت میں دباؤ کے شکار ہیں۔
برآمد ہونے والی افرادی قوت کی ہنر مندی بڑھانا چند دیرپا طریقوں میں سے ایک ہے جس سے تعداد بڑھائے بغیر ریمیٹنس کی قدر میں اضافہ ممکن ہے۔ اس لیے مناسب اہداف کے تعین کے ساتھ ووکیشنل ٹریننگ سماجی پالیسی کے ساتھ ساتھ برآمدی حکمت عملی بھی بن سکتی ہے۔
ملکی سطح پر تربیت یافتہ افرادی قوت کو ملکی معیشت میں شامل کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ تعمیرات، مینوفیکچرنگ، توانائی، زراعت اور خدمات سب وہ شعبے ہیں جہاں مہارت کی کمی سے پیداوار میں خلا موجود ہے۔ غیر رسمی تعلیم اس مسئلے کا مکمل حل نہیں۔
تصدیق شدہ مہارتیں حفاظت، کارکردگی اور پیداوار بڑھاتی ہیں، آمدنی اور مسابقت کو بڑھاتی ہیں۔ اس طرح تربیت نمو میں حصہ ڈالتی ہے نہ کہ صرف ایک الگ مداخلت کے طور پر رہ جائے۔
یہ سب کچھ خودکار نہیں ہے۔ ووکیشنل ٹریننگ پہلے بھی ناکام رہی کیونکہ اسے نظام کے بجائے محض اعلان کے طور پر دیکھا گیا۔
معیار کو برقرار رکھنا، کارکردگی کے معیار پر عملدرآمد کرنا اور سیاسی اثرات سے بچنا موجودہ کوششوں کے دیرپا ہونے کا فیصلہ کرے گا۔ پیش رفت کی قدر کی جانی چاہیے، لیکن پائیداری کا انحصار عمل درآمد پر ہوگا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments
Comments are closed.