پاکستان میں مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران گاڑیوں کی فروخت میں 42 فیصد اضافہ
- تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ اعداد و شمار آٹو سیکٹر میں بڑی بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں
پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت نے مثبت رجحان برقرار رکھا اور موجودہ مالی سال کی پہلی ششماہی (جولائی تا دسمبر 2026) میں 42 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن ( پی اے ایم اے) کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس دوران کاروں کی فروخت 42 فیصد بڑھ کر 65,910 یونٹس تک پہنچ گئی۔
جیپ اور پک اپ کی فروخت میں 58 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ 22,412 یونٹس تک پہنچ گئی۔ جبکہ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت میں بالترتیب 106 فیصد اور 52 فیصد اضافہ ہوا، اور یہ 3,071 اور 461 یونٹس تک جا پہنچی۔
موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت بھی 32 فیصد بڑھ گئی، جو 921,566 یونٹس تک پہنچی۔
دوسری جانب، فارم ٹریکٹرز کی فروخت میں 26 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور یہ 12,929 یونٹس تک گر گئی۔
آٹو سیکٹر کے ماہر شفیق احمد شیخ کے مطابق یہ اعداد و شمار صنعت کے لیے ” بڑی بحالی“ کی عکاسی کرتے ہیں۔
ماہر نے اس ترقی کی وجوہات میں کئی عوامل کو شامل کیا، جن میں شرحِ سود میں کمی شامل ہے جو 2024 میں 22 فیصد سے کم ہو کر دسمبر 2025 تک 10.5 فیصد رہ گئی؛ سابقہ درآمدی پابندیوں کا خاتمہ؛ اور اصل سازندگانِ آلات ( او ای ایمز) کی جانب سے دیے جانے والے ڈسکاؤنٹس اور مراعات؛ بہتر معاشی ماحول اور مقامی مارکیٹ میں گاڑیوں کی وسیع تر رینج۔
شفیق احمد شیخ نے کہا کہ کرنسی میں استحکام بھی اس رجحان کو آگے بڑھا رہا ہے۔
دوسری جانب انہوں نے ٹریکٹر کی پیداوار میں کمی کو” غلط سمت میں دی گئی“ سبسڈی اسکیم اور موسمی تبدیلیوں کی وجہ سے زرعی پیداوار میں نمایاں کمی سے جوڑا۔
انہوں نے کہا کہ “ زمینداروں کو بڑھتے ہوئے ان پٹ اخراجات اور بلند مارک اپ کی شرح کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ آٹو سیکٹر کے تجزیہ کار مشود خان نے اس رجحان کے آئندہ دنوں میں جاری رہنے کے بارے میں پرامید رہنے کا اظہار کیا اور بہتر پالیسیوں کا حوالہ دیا۔ “حکومت ایس ایم ای سیکٹر کو مضبوط بنانے کے لیے بہتر اقدامات کر رہی ہے۔“

























Comments
Comments are closed.