پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارت کی کوششیں کم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے کیونکہ ایسی میڈیا رپورٹس سامنے آئی ہیں کہ اس کی وزارتِ ماحولیات نے گزشتہ ہفتے غیر قانونی طور پر بھارت کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر 258 میگا واٹ کے دلہستی اسٹیج-II ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کی منظوری دے دی ہے۔
یہ اقدام اکتوبر میں سامنے آنے والی ان رپورٹس کے بعد اٹھایا گیا جن میں اس سے کہیں بڑے 1,856 میگا واٹ کے سوالکوٹ منصوبے کی منظوری دی گئی تھی، یہ منصوبہ جنگلات کے کٹاؤ پر سنگین ماحولیاتی اعتراضات اور سندھ طاس معاہدے’ کی پابندیوں کی وجہ سے طویل عرصے سے رکا ہوا تھا۔ بھارت نے گزشتہ سال ہونے والے پہلگام واقعے کے بعد سے اس معاہدے (سندھ طاس) کو عملی طور پر معطل کر رکھا ہے۔
جیسا کہ بھارتی اخبار دی ہندو نے رپورٹ کیا ہے معاہدے کی معطلی اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں آنے والی تلخی نے بھارت کو سندھ طاس کے پورے علاقے میں ہائیڈرو پاور (پن بجلی) کے منصوبوں کی تعمیر میں تیزی لانے پر اکسا دیا ہے۔ 7 ایسے منصوبے جو طویل عرصے سے رکے ہوئے تھے، اب دلہستی اسٹیج-II’ اور سوالکوٹ کے ساتھ ساتھ ’فاسٹ ٹریک‘ (انتہائی تیزی سے مکمل ہونے والے منصوبوں) میں شامل نظر آتے ہیں۔
یہ طرزِ عمل واضح اور تشویشناک ہے: پاکستان کے حصے میں آنے والے مغربی دریاؤں پر اپنا کنٹرول جمانے کے لیے ماحولیاتی تحفظات اور سندھ طاس معاہدے کی روح کو بالائے طاق رکھا جا رہا ہے جب کہ ان دریاؤں پر بھارت کو صرف ’غیر صرفی‘ (ایسا استعمال جس سے پانی کی مقدار کم نہ ہو) استعمال کا حق حاصل ہے۔ اپنے مشرقی پڑوسی کی جانب سے پانی کو ایک تزویراتی (اسٹریٹجک) ہتھیار میں تبدیل کرنے کے خدشات اب محض نظریاتی نہیں رہے۔
ابھی گزشتہ ماہ ہی دریائے چناب اور جہلم کے بہاؤ میں اچانک اور ناقابلِ وضاحت اتار چڑھاؤ نے پنجاب کے کسانوں میں بے چینی پیدا کردی تھی۔ اسی طرح کے خدشات موسمِ گرما کے دوران بھی سامنے آئے تھے، جب بھارت کی جانب سے دریاؤں کے بالائی حصے میں پانی چھوڑنے کے عمل نے ان خدشات کو مزید تقویت دی کہ مشترکہ دریاؤں کو تیزی سے ایسے طریقوں سے منظم کیا جارہا ہے جو (سندھ طاس) معاہدے کے پابند فریم ورک اور مقررہ حدود کو نظر انداز کرتے ہیں۔
لیکن بڑے پیمانے پر پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر سے یہ خطرات کہیں زیادہ سنگین صورت اختیار کر جائیں گے۔ پانی کے اخراج میں کبھی کبھار کی جانے والی تبدیلیوں کے برعکس، یہ میگا پراجیکٹس کنٹرول کو کنکریٹ اور اسٹیل (مضبوط تعمیرات) میں جکڑ دیتے ہیں، جس سے بالائی حصے پر موجود ملک (بھارت) کو یہ مستقل صلاحیت مل جاتی ہے کہ وہ پانی کے بہاؤ کے وقت اور اس کی مقدار کو اپنی مرضی سے منظم کرسکے۔
دریائے چناب اور جہلم پر پن بجلی کے منصوبوں کی تعمیر زیریں حصے (پاکستان) کے صارفین پر ایک مستقل اثرورسوخ پیدا کرسکتی ہے، جہاں ذخیرہ اندوزی اور گیٹ والے سپل ویز کے ذریعے پانی کی ریگولیشن، زراعت کے اہم ایام کے دوران اچانک بہت زیادہ پانی یا قلت کی صورت اختیار کرسکتی ہے، اس کے پاکستان کی زراعت پر جو ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں جس سے لاکھوں کسانوں کی زندگی داؤ پر لگ جائے گی۔ درحقیقت اس کے اثرات صرف کھیتوں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ زراعت پر مبنی صنعتوں، فوڈ پروسیسنگ، دیہی روزگار اور قومی غذائی تحفظ کو بھی درہم برہم کر دیں گے، جبکہ فصلوں کی کم پیداوار برآمدات پر دباؤ ڈال سکتی ہے، قیمتوں میں اضافہ کر سکتی ہے اور وسیع تر معیشت کو غیر مستحکم کرسکتی ہے۔
اس تناظر میں اسلام آباد (پاکستان) کا سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو اعلانِ جنگ قرار دینا مکمل طور پر جائز ہے۔ تاہم، بھارت جس حقیقت کو نظر انداز کر رہا ہے وہ یہ ہے کہ مغربی دریاؤں پر پن بجلی کے کسی بھی منصوبے کی تعمیر کے منفی اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے۔
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے دریائے چناب پہلے ہی اپنے گلیشیئرز کا تقریباً ایک تہائی حجم کھو چکا ہے اور اس کے بہاؤ کا نصف حصہ برف پگھلنے کے پانی پر منحصر ہے۔ ایسے میں اس دریا پر بڑے پیمانے کے منصوبے خود بھارت کے اندر پانی کی دستیابی اور فصلوں کے چکر کو متاثر کرسکتے ہیں جبکہ اس سے وسیع تر ہمالیائی خطے کا ماحولیاتی توازن بھی خطرے میں پڑ سکتا ہے، یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے دوسرے کو نقصان پہنچانے کے چکر میں اپنا ہی نقصان کر بیٹھنا۔
اگرچہ انڈس واٹرز ٹریٹی (سندھ طاس معاہدے) کے لیے پاکستانی کمشنر نے ان مبینہ منصوبوں پر اپنے بھارتی ہم منصب سے وضاحت طلب کی ہے، لیکن اسلام آباد کو اب صرف ردِعمل میں کی جانے والی پوچھ گچھ سے آگے بڑھ کر قدم اٹھانا ہو گا۔
پاکستان کو اپنی آبی سلامتی کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے جس کے لیے اسے جدید ہائیڈرولوجیک’ اور سیٹلائٹ سسٹمز کے ذریعے دریاؤں کے بہاؤ کی کڑی نگرانی کرنی ہوگی، آبپاشی کی کارکردگی اور پانی ذخیرہ کرنے کے ڈھانچے (انفرااسٹرکچر) کو بہتر بنانا ہوگا تاکہ اپنی کمزوریوں کو کم کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بالائی حصوں (بھارت) میں بننے والے منصوبوں کے زراعت، پن بجلی اور پانی کی مجموعی دستیابی پر اثرات کا جائزہ لینے کے لیے آزادانہ تحقیقاتی مطالعہ جات کروانا ہوں گے اور ان کے نتائج کی بڑے پیمانے پر تشہیر کرنی ہوگی تاکہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بھارتی کوششوں کے بارے میں بین الاقوامی سطح پر آگاہی پیدا کی جا سکے۔
سفارتی کوششوں کے ذریعے نئی دہلی کے اس رویے کو بے نقاب کرنا ضروری ہے جس میں وہ لاکھوں جانوں اور ایک پورے ماحولیاتی نظام کو خطرے میں ڈالنے پر آمادہ ہے۔ اگرچہ موجودہ صورتحال کی تمام تر ذمہ داری براہِ راست بھارت پر عائد ہوتی ہے، لیکن پاکستان خاموش تماشائی بن کر نہیں رہ سکتا؛ اسے بھارت کو معاہدے کی خلاف ورزیوں اور علاقائی استحکام کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرنا ہوں گے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025

























Comments
Comments are closed.