ایف آئی اے کی کاررائی،غیر قانونی طور پر یورپ جانے والے مسافروں کو آف لوڈ کردیا گیا
- ملزمان کو لاہور کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کردیا گیا
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے انسانی اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کے تحت ہفتے کو متعدد مسافروں کو غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوشش پر آف لوڈ کر دیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔
یہ کارروائی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے چند روز قبل یقین دہانی کروائی تھی کہ مکمل سفری دستاویزات رکھنے والے کسی بھی مسافر کو سفر سے نہیں روکا جائے گا، تاہم ناقص یا جعلی دستاویزات رکھنے والے مسافروں کو ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایف آئی اے نے اپنی پریس ریلیز میں بتایا کہ لاہور ایئرپورٹ پر پانچ پاکستانی شہریوں وقار انجم، طیب افتخار، علی شان، ملک ظہیر اور ملک ذیشان کو شارجہ سے برطانیہ جعلی ویزوں کے ذریعے سفر کرنے کی کوشش پر پاکستان واپس بھیج کر گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق، یہ مسافر رواں سال کے شروع میں قانونی وزٹ ویزوں پر لاہور سے ملائیشیا جا چکے تھے لیکن بعد میں شارجہ سے برطانیہ پہنچنے کی کوشش میں جعلی دستاویزات استعمال کیں جو مبینہ طور پر ایجنٹوں کی مدد سے حاصل کی گئی تھیں۔
گرفتاری کے بعد ملزمان کو انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کی مزید تحقیقات کے لیے لاہور کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کر دیا گیا۔
اسی دوران اسلام آباد ایئرپورٹ پر ایف آئی اے کے امیگریشن ونگ نے بھی ایک بڑا آپریشن کرتے ہوئے جعلی دستاویزات کے ذریعے یورپ جانے کی کوشش ناکام بنا دی۔
فلائٹ نمبر PK-749 کے ذریعے فرانس جانے کی کوشش کرنے والے احمد رضا کو امیگریشن کلیئرنس کے دوران مشکوک دستاویزات کی بنیاد پر فوراً حراست میں لے لیا گیا۔
بعد ازاں تصدیق ہوئی کہ رضا کی جانب سے پیش کردہ پولینڈ ریزیڈنٹ کارڈ جعلی تھا۔ انہیں مزید قانونی کارروائی کے لیے اسلام آباد کے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل منتقل کردیا گیا۔
یہ کارروائیاں انسانی اسمگلنگ کے خلاف ایف آئی اے کی جاری مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد غیر قانونی سفر کی کوششوں کو ناکام بنانا اور ملک میں انسانی اسمگلنگ کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے۔

























Comments
Comments are closed.