افرادی قوت ٹیک آف کے لیے تیار نہیں
- اگر 2024–25 کے سروے سے ایک بنیادی نکتہ اخذ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ پاکستان کی افرادی قوت تو بڑھ رہی ہے، مگر معیشت اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ اصل چیلنج صرف نوکریاں پیدا کرنا نہیں، بلکہ درست نوعیت کی نوکریاں پیدا کرنا ہے۔
گزشتہ ہفتے جاری کیا گیا پاکستان لیبر فورس سروے (ایل ایف ایس) 2024-25 محض ایک عددی اپڈیٹ نہیں، بلکہ ایک قومی انتباہ ہے۔
تیز رفتار معاشی ترقی اور تین کھرب ڈالر کی معیشت بننے کے جس خواب کا بارہا حکومتی بیانات اور پالیسی دستاویزات میں ذکر ہوتا ہے، اس کی بنیاد افرادی قوت ہی ہے۔ مگر تازہ اعداد و شمار وہی خدشہ ثابت کرتے ہیں جس سے معیشت دان برسوں سے خبردار کر رہے تھے: پاکستان کی ورک فورس معاشی ٹیک آف کے لیے ساختی طور پر تیار نہیں۔
اعداد و شمار صورتحال کی سنجیدگی واضح کرتے ہیں۔ مجموعی لیبر فورس میں شمولیت معمولی اضافے کے بعد 47.7 فیصد تک پہنچی ہے، مگر یہ اضافہ گہرے نقائص پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ خواتین کی شمولیت اب بھی صرف 24.4 فیصد ہے، جو خطے میں کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے، حالانکہ آبادی میں ان کا حصہ 49 فیصد ہے۔
فارمل سیکٹر اب بھی محدود ہے اور محض 27.9 فیصد ملازمتیں فراہم کرتا ہے، جبکہ غیر زرعی شعبے میں 72 فیصد کارکن غیر رسمی معیشت میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اجرتیں مزید تلخ حقیقت بیان کرتی ہیں: اوسط ماہانہ اجرت صرف 39,042 روپے ہے، جو کسی متوسط آمدنی والی زندگی کا خرچ پورا کرنے سے بہت کم ہے۔ ادھر بے روزگاری کی شرح 6.9 فیصد تک پہنچ گئی ہے، اور نوجوانوں میں بے روزگاری اب بھی تشویشناک حد تک بلند ہے۔
یہ کسی ایسی معیشت کے اعشاریے نہیں جو بلندی کی طرف بڑھ رہی ہو؛ یہ ایک ایسی معیشت کی علامات ہیں جو جمود کا شکار ہے۔
ایل ایف ایس سے ابھرنے والی تصویر ایک ایسی افرادی قوت کی ہے جو نوجوان ہونے کے باوجود کم استعمال شدہ، کم ہنرمند اور کم پیداواری شعبوں میں ساختی جکڑ میں پھنسی ہوئی ہے۔ روزگار کا تقریباً 35 فیصد حصہ اب بھی زراعت میں سمویا ہوا ہے، وہ بھی زیادہ تر کم آمدنی والے، گزر بسر نوعیت کے کھیتوں میں۔ مینوفیکچرنگ بدستور 14 فیصد کے آس پاس رکی ہوئی ہے، نہ تنوع دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی بلند قدرِ پیداوار کی سمت کوئی پیش رفت۔
غیر رسمی تھوک و پرچون تجارت اب دوسرا بڑا روزگار فراہم کرنے والا شعبہ بن چکا ہے، جو اس رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ معیشت پیداواری کاروبار کے بجائے بقا پر مبنی خوردہ کاروبار کی طرف جھک رہی ہے۔ معیشت بڑھ تو رہی ہے، مگر جو روزگار پیدا ہو رہا ہے وہ مستقبل کی نوکریاں نہیں، صرف مجبوری کی نوکریاں ہیں۔
نوجوانوں کے اعداد و شمار صورت حال کو مزید تشویشناک بناتے ہیں۔ پاکستان ہر سال 35 لاکھ افراد لیبر مارکیٹ میں شامل کرتا ہے، مگر معیشت انہیں پیداواری روزگار میں جذب کرنے کی سکت نہیں رکھتی۔
15 سے 29 برس کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 11.5 فیصد ہے، اور تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اسی عمر کی خواتین میں بے روزگاری 14.3 فیصد تک ہے، جس سے تعلیم یافتہ مگر محروم شہریوں کا ایک بڑا طبقہ تشکیل پا رہا ہے۔
این ای ای ٹی (یعنی نہ تعلیم، نہ تربیت، نہ روزگار) کی شرح بدستور بلند ہے، خصوصاً خواتین میں۔ یہ آبادیاتی فائدہ نہیں—آبادیاتی خطرہ ہے۔
تعلیم اور روزگار کے درمیان خلیج بھی واضح ہے۔ شرح خواندگی میں بہتری کے باوجود معیشت اتنی مہارت یافتہ نوکریاں پیدا نہیں کر رہی کہ تکنیکی تربیت یافتہ نوجوانوں کو جذب کر سکے۔
صرف 2.9 فیصد کارکن آن لائن یا گیگ اکانومی میں کام کر رہے ہیں، ایک ایسے ملک کے لیے حیرت انگیز طور پر کم جہاں نوجوان آبادی نمایاں ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم روزگار نوجوانوں کے لیے ایک قدرتی متبادل راستہ ہونا چاہیے تھا، مگر کم مہارتوں، محدود پلیٹ فارمز اور ناکافی انفرااسٹرکچر نے اس شعبے کی ترقی کو روک رکھا ہے۔
اتنی ہی تشویشناک بات کمزور روزگار میں اضافہ ہے۔ کام کرنے والی خواتین میں 49 فیصد سے زیادہ ’’کنٹری بیوٹنگ فیملی ورکرز‘‘ ہیں—یعنی بے اجرت اور بغیر کسی تحفظ کے کام کرنے والی۔ مردوں میں ’’اوون اکاؤنٹ ورک‘‘ کا غلبہ ہے، جو اس امر کی علامت ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ مناسب اجرت والی نوکریاں نہ ملنے کے باعث خود روزگار اختیار کر رہے ہیں۔ روزگار کی مقدار بڑھی ہے مگر معیار مزید بگڑا ہے۔ ایک ایسی معیشت جہاں محض 1.3 فیصد کارکن آجر ہوں، عالمی مسابقت کی طرف اٹھان کا دعویٰ نہیں کر سکتی۔
یہ سب پاکستان کے تین کھرب ڈالر کی معیشت بننے کے خواب کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ خواہش اگرچہ حوصلہ افزا ہے، مگر اس کی بنیاد ایسا معاشی ڈھانچہ ہے جو اسے پورا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا—کم از کم تب تک نہیں جب تک پالیسی سوچ میں بنیادی اور غیر معمولی تبدیلی نہ لائی جائے۔
ایل ایف ایس کا مرکزی پیغام سادہ ہے: پاکستان کے پاس پیداواری بنیاد پر استوار لیبر مارکیٹ نہیں، بقا پر مبنی لیبر مارکیٹ ہے۔ بہت زیادہ لوگ کم آمدنی والے شعبوں میں کام کر رہے ہیں، اور بہت کم تیزی سے بڑھتے ہوئے شعبوں میں۔ بہت سے لوگ لیبر فورس سے باہر ہیں، اور بہت کم جدید معیشت سے ہم آہنگ مہارتیں رکھتے ہیں۔ بہت سی خواتین بے اجرت کام کر رہی ہیں، اور بہت کم فارمل اور زیادہ پیداواری شعبوں میں داخل ہو رہی ہیں۔
اگر پاکستان اپنے معاشی مستقبل کے بارے میں سنجیدہ ہے تو لیبر مارکیٹ کی ازسرِنو تشکیل ناگزیر ہے،ارادے کے ساتھ، فوری اور نظامی انداز میں۔
پہلی ترجیح بڑے پیمانے پر اسکل ٹرانسفارمیشن ہونی چاہیے۔ ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت نہایت محدود ہے اور مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ نہیں۔ مصنوعی ذہانت اور آٹومیشن کے دور میں پاکستان کو ڈیجیٹل اسکلز کا ایک قومی پروگرام درکار ہے، بطورِ علیحدہ نہیں بلکہ مقامی حکومتوں، اسکولوں اور کمیونٹی سینٹرز کے ساتھ منسلک۔ ہر ضلع میں ڈیجیٹل اسکلز ہَب ہونا چاہیے جہاں اے آئی معاون تعلیمی اوزار سب کے لیے دستیاب ہوں—خصوصاً خواتین اور دیہی نوجوانوں کے لیے۔
دوسرا، معیشت کو زراعت اور غیر رسمی پرچون پر حد سے زیادہ انحصار سے نکلنا ہوگا۔ اس کا مطلب زراعت کو ترک کرنا نہیں بلکہ اسے تجارتی بنیادوں پر استوار کرنا ہے۔ حکومت کو بلند قدرِ پیداوار والے اجناس، ایگری ٹیک، اور دیہی انٹرپرائز کلسٹرز کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، جو کولڈ چین لاجسٹکس اور پروسیسنگ سے منسلک ہوں۔ دیہی پاکستان کو محض گزر بسر کا ذریعہ نہیں بلکہ قدر پیدا کرنے والا خطہ بننا ہوگا۔
تیسرا، فارملائزیشن کے تصور کو ازسرنو ترتیب دینا ہوگا—ٹیکسیشن کے طور پر نہیں بلکہ رسائی کے طور پر۔ غیر رسمی کارکن اس وقت تک فارمل نظام میں نہیں آئیں گے جب تک اس کے بدلے صرف ٹیکس اور انسپیکشن ہی ملیں۔ وہ تب شامل ہوں گے جب انہیں قرض، بیمہ، مارکیٹ تک رسائی، ڈیجیٹل شناخت اور قانونی تحفظ میسر ہوگا۔ سہولت کے بغیر فارملائزیشن درحقیقت دباؤ ہے۔
چوتھا، پاکستان کو خواتین کی لیبر فورس میں شمولیت میں نمایاں اضافہ کرنا ہوگا۔ اس کے لیے نگہداشتِ اطفال کی ہدفی معاونت، محفوظ ٹرانسپورٹ، گھر پر مبنی ڈیجیٹل ورک پلیٹ فارمز، اور اجرت میں مساوات کے قوانین کا حقیقی نفاذ ضروری ہے۔ خواتین کے بغیر کبھی کوئی معیشت مسلسل بلند ترقی حاصل نہیں کر سکی۔
پانچواں، اجرتی عدم مساوات کو پیداواری صلاحیت سے جڑی اجرتی اصلاحات، سیکٹرل کم از کم اجرتوں اور انٹرپرائز ماڈرنائزیشن میں سرمایہ کاری کے ذریعے حل کرنا ہوگا۔ کم اجرتیں مسابقت کی علامت نہیں بلکہ ساختی کمزوری کا اشارہ ہیں۔
آخر میں، لیبر مارکیٹ گورننس کو مرکزیت سے نکالنا ہوگا۔ ایل ایف ایس وہ بات پھر دہراتا ہے جس پر ماہرِ معاشیات مدتوں سے زور دیتے آئے ہیں: سخت مرکزیت پر قائم نظام متنوع علاقائی لیبر مارکیٹس کو مؤثر طور پر نہیں چلا سکتا۔ صوبوں، اور ترجیحاً اضلاع،کو اپنا لیبر مارکیٹ انفارمیشن سسٹم، اسکل کونسلز اور روزگار کی حکمتِ عملیاں خود وضع کرنا ہوں گی۔
اگر 2024–25 کے سروے سے ایک بنیادی نکتہ اخذ کیا جائے تو وہ یہ ہے کہ پاکستان کی افرادی قوت تو بڑھ رہی ہے، مگر معیشت اس رفتار سے نہیں بڑھ رہی۔ موجودہ روزگار کا ڈھانچہ پاکستان کو اگلی معاشی دہلیز تک نہیں لے جا سکتا۔ اصل چیلنج صرف نوکریاں پیدا کرنا نہیں، بلکہ درست نوعیت کی نوکریاں پیدا کرنا ہے۔
ایل ایف ایس محض ایک ڈیٹا سیٹ نہیں، ایک آئینہ ہے۔ اور اس میں دکھائی دینے والی تصویر کسی ایسی قوم کی نہیں جو اڑان بھرنے کو تیار ہو، بلکہ ایسی قوم کی ہے جو ابھی تک رن وے تعمیر کر رہی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.