خیبر پختونخوا میں طورخم سرحدی گزرگاہ کو ہفتے کے روز پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔
آج نیوز کے مطابق سرحد کو افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے عمل کی بحالی کے لیے کھولا گیا ہے۔
تاہم طورخم سرحد تجارتی سرگرمیوں اور دونوں جانب سے پیدل آمد و رفت کے لیے بدستور بند رہے گی۔
دو ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت بھڑک اٹھی جب اسلام آباد نے افغان طالبان انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ ان عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کرے جنہوں نے پاکستان میں حملوں میں تیزی لائی ہے، اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ افغانستان میں محفوظ ٹھکانے رکھتے ہیں۔
لڑائی کے بعد دونوں ممالک نے اپنی سرحد کے مختلف راستے بند کر دیے، جس کے نتیجے میں تجارت معطل ہو گئی اور درجنوں مال بردار گاڑیاں پھنس گئیں۔
تاہم جمعے کے روز افغانستان اور پاکستان نے ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں استنبول میں ہونے والے نئے دورِ مذاکرات کے بعد جنگ بندی جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔
بیان کے مطابق “یہ ملاقاتیں 25 سے 30 اکتوبر تک استنبول میں منعقد ہوئیں، جن کا مقصد اس جنگ بندی کو مضبوط بنانا تھا جس پر فریقین نے رواں ماہ کے آغاز میں دوحہ میں ہونے والی بات چیت کے دوران اتفاق کیا تھا۔”
تمام فریقوں نے جنگ بندی کے تسلسل کے عزم کا اعادہ کیا اور اس کے نفاذ کے مزید طریقۂ کار پر غور کے لیے 6 نومبر کو استنبول میں اعلیٰ سطح کے اجلاس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔

























Comments
Comments are closed.