ماری انرجیز پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے ریوٹنٹو اور بی ایچ پی کیساتھ مذاکرات میں مصروف
ماری انرجیز لمیٹڈ (ماری) جو پاکستان کی سب سے بڑی ایکسپلوریشن اینڈ پروڈکشن (ای ایند پی ) کمپنیوں میں سے ایک ہے، نے انکشاف کیا ہے کہ وہ غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور پاکستان کی غیر استعمال شدہ معدنی وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے عالمی کان کنی کی بڑی کمپنیوں ریو ٹنٹو اور بی ایچ پی کے ساتھ فعال طور پر بات چیت کر رہی ہے۔
بروکرج ہاؤس اے کے ڈی سیکیورٹیز کی شرکت میں منعقد ہونے والی کمپنی کی اینالسٹ بریفنگ کے دوران شیئر کی گئی تفصیلات کے مطابق ماری انرجیز کان کنی کے شعبے میں اپنی تنوع کی حکمت عملی کے تحت غیر ملکی آپریٹرز کے تعاون سے جیولوجیکل سروے کر رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے ریو ٹنٹو اور بی ایچ پی جیسی عالمی کان کنی کمپنیوں کے ساتھ پاکستان کے معدنی وسائل کو مالی فائدے میں تبدیل کرنے کے لیے تعلقات کے بارے میں بتایا۔ ریکو ڈک کے مالی معاہدے کی جلد تکمیل کو ملک میں معدنی شعبے میں زیادہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے والا اہم محرک سمجھا جا رہا ہے۔
ریو ٹنٹو اور بی ایچ پی دنیا کی بڑی معدنی کمپنیوں میں شامل ہیں، جن کے ہیڈکوارٹرز بالترتیب برطانیہ اور آسٹریلیا میں ہیں۔ دونوں کمپنیاں لوہا اور تانبا جیسی خام مال کی پیداوار میں سرفہرست ہیں۔
ادھر ماری انرجیز، جو بنیادی طور پر تیل و گیس کے شعبے کے لیے معروف ہے نے معدنیات میں اپنے قدم جما کر اپنی سرگرمیوں کو وسیع کیا ہے۔ کمپنی اپنی ذیلی کمپنی، ماری منرلز کے ذریعے، چاغی میں 3 لائسنسز کے تحت کام کر رہی ہے، ساتھ ہی مختلف مشترکہ منصوبوں میں حصص بھی رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق کمپنی نے کوہِ سلطان مائننگ کمپنی میں 5 فیصد حصص بھی حاصل کیے ہیں اور غیر ملکی آپریٹرز کے ساتھ شراکت میں سروے کر رہی ہے۔
معدنیات کے علاوہ کمپنی نے اپنی ذیلی کمپنیوں ماری ٹیکنالوجیز اور SKY47 کے ذریعے ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی پیشرفت کی ہے جس میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا انفرااسٹرکچر اور ڈیجیٹل خدمات پر توجہ دی گئی ہے۔
گزشتہ ماہ، ماری نے بتایا کہ اسلام آباد میں 5 میگاواٹ کی سہولت آئندہ سال کے اوائل تک مکمل ہونے کی تیاری میں ہے، جبکہ کراچی میں تعمیر کا کام پہلے ہی شروع ہو چکا ہے۔
ماری نے مالی سال 25 میں 65.4 ارب روپے بعد از ٹیکس منافع حاصل کیا جو مالی سال 24 میں 77.3 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہے۔
منافع میں کمی کی وجہ اس عرصے کے دوران کم آمدنی اور بڑھے ہوئے اخراجات بتائے گئے ہیں۔






















Comments
Comments are closed.