بھارتی سپریم کورٹ نے پیر کے روز حکومت سے ایئر انڈیا کے 12 جون کو پیش آنے والے فضائی حادثے کی آزادانہ تحقیقات سے متعلق دائر درخواست پر جواب طلب کر لیا۔ اس حادثے میں 260 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
یہ درخواست غیر سرکاری تنظیم سیفٹی میٹرز فاؤنڈیشن نے دائر کی، جس پر سپریم کورٹ نے پہلی بار بھارتی حکام کی جاری تحقیقات کا جائزہ لیا۔ سماعت کے دوران این جی او کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ تحقیقاتی پینل میں سول ایوی ایشن ریگولیٹر (ڈی جی سی اے) کے افسران کی شمولیت متضاد مفادات پیدا کرتی ہے، کیونکہ تحقیقات میں ریگولیٹری ادارے کی اپنی کارکردگی اور ممکنہ کوتاہیوں کا بھی جائزہ لینا ضروری ہے۔
ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 طیارے کو احمد آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے فوراً بعد انجن کے فیول سوئچز بند ہونے کی وجہ سے تھرسٹ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں 242 میں سے 241 مسافر اور عملہ جاں بحق ہوا، جبکہ زمین پر بھی 19 افراد زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
بھارتی حکومت کی ابتدائی رپورٹ نے حادثے کی ذمہ داری پائلٹس کی ممکنہ غلطیوں پر عائد کی اور بوئنگ یا انجن ساز کمپنی جی ای ایرو اسپیس کو کلیئر قرار دیا، تاہم متاثرہ خاندانوں نے اس نتیجے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تحقیق غیر جانبدارانہ نہیں۔
این جی او کے وکیل پرشانت بھوشن نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی ٹیم کے تین ارکان ڈی جی سی اے کے موجودہ افسران ہیں۔ عدالت نے کیس کا مزید جائزہ لینے کا عندیہ دیتے ہوئے حکومت کو نوٹس جاری کیا ہے۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا میں بھی حادثے کے متاثرہ خاندانوں نے بوئنگ اور ہنی ویل کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

























Comments
Comments are closed.