پاکستان اور بھارت آج اپنے تاریخی کرکٹ مقابلے میں دوبارہ آمنے سامنے آنے جا رہے ہیں، جو کہ ایشیا کپ گروپ اے کے اہم میچ کے طور پر ہونے جا رہا ہے، جبکہ حالیہ فوجی کشیدگی کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان سیاسی تناؤ بھی بڑھا ہوا ہے۔
اس سال کے آغاز میں دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں تقریباً مکمل جنگ کی صورت اختیار کر گئی تھیں، جس سے سفارتی تعلقات متاثر ہوئے اور دو طرفہ کرکٹ معطل ہو گئی۔
تب سے دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلے صرف کثیر ٹیموں والے ٹورنامنٹس تک محدود رہے ہیں، اور سابق بھارتی کھلاڑیوں نے یہاں تک کہا کہ بی سی سی آئی کو اس میچ میں حصہ نہیں لینا چاہیے، تاہم بائیکاٹ کے خطرے کے خاتمے کے بعد یہ مسئلہ ٹل گیا۔
سیاسی کشیدگی کے باوجود، دونوں ٹیموں نے زور دیا ہے کہ ان کی توجہ مکمل طور پر کرکٹ پر مرکوز ہے۔
بھارت کے بیٹنگ کوچ سیتانشو کوٹک نے کہا کہ جب بورڈ نے شرکت کی تصدیق کی، تو کھلاڑیوں کی واحد فکر صرف میچ پر مرکوز ہو گئی۔
پاکستان کے کوچ مائیک ہیسن نے بھی یہی نقطہ نظر پیش کیا، اور اعتراف کیا کہ اگرچہ جذبات عروج پر ہوں گے، لیکن ان کی ٹیم کی ترجیح میدان میں کارکردگی دکھانا ہے۔
بھارت اس مقابلے میں فیورٹ کی حیثیت سے اترا ہے، کیونکہ وہ موجودہ ٹی20 ورلڈ چیمپئن ہیں۔ جسپریت بمرہ اور شبمن گل کی واپسی نے ان کے پیس اٹیک اور ٹاپ آرڈر کو مضبوط کیا ہے، اور متحدہ عرب امارات کے خلاف ابتدائی فتح، جس میں انہیں صرف 57 رنز پر آؤٹ کیا اور ہدف 27 گیندوں میں حاصل کیا، ان کی طاقت کو واضح کرتی ہے۔
پاکستان، جس نے ٹورنامنٹ کا آغاز عمان کے خلاف آسان فتح سے کیا، بیٹنگ میں غیر مستقل مزاجی کے آثار دکھائے ہیں۔ سابق کپتان بابر اعظم اور محمد رضوان کی غیر موجودگی قابل ذکر ہے، لیکن کپتان سلمان علی آغا پراعتماد ہیں، حالیہ یو اے ای ٹرائی سیریز میں اچھی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی ٹیم کی قابلیت پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر پلان پر عمل ہوا تو کوئی بھی مخالف شکست دی جا سکتی ہے۔
دونوں ٹیموں کے لیے آج کا میچ صرف گروپ اسٹیج کے پوائنٹس کے لیے نہیں بلکہ کردار، ذہنی قوت اور کرکٹ کی طاقت کو سیاسی پس منظر سے بالاتر دکھانے کا امتحان بھی ہے، جو کھیل کے سب سے شدید حریفانہ مقابلوں میں سے ایک ہے۔

























Comments
Comments are closed.