ماہرین نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ بین الاقوامی امداد پر انحصار کرنے کے بجائے ایک قابل عمل اقتصادی ماڈل پاکستان کے اندر سے فنڈز پیدا کرکے سیلاب متاثرین کی مدد کرسکتا ہے۔
تباہ کن سیلاب اور موسلادھار بارشوں نے ملک کے زرعی ماحولیاتی نظام، دیہی معیشت اور غذائی تحفظ کو شدید متاثر کیا ہے جبکہ تخمینی نقصانات 50 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے اور جی ڈی پی کی نمو صرف 1.5 فیصد سے 2 فیصد رہ گئی۔ اسی دوران بنیادی اشیائے خورونوش کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں جس سے غذائی مہنگائی میں اضافہ ہورہا ہے۔
معاشی ماہر ڈاکٹر محمودالحسن خان نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اپریل 2025 تک مالیاتی شعبے کے کل اثاثے 51 کھرب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔
بینکنگ نظام کے اثاثے دسمبر 2024 کے آخر تک 53.7 کھرب روپے تک پہنچ گئے، جو 2025 کے ابتدائی مہینوں میں بھی مسلسل توسیع کا عندیہ دیتے ہیں۔ ان وسائل کو مقامی معیشت، کمیونٹیز اور کاروبار کی بحالی کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے، جیسے کہ کھاد، بیج اور دیگر اخراجات کیلئے بغیر سود کے قرضے فراہم کرنا۔
ڈاکٹر خان نے کہا کہ چھوٹے و درمیانی درجے کے کاروبار (ایس ایم ایز)، مائیکرو فنانسنگ ادارے، وقف، بیت المال اور دیگر مذہبی خیراتی چندے سیلاب متاثرین کی بھلائی کے لیے استعمال کیے جائیں۔
اسی طرح لاہور اور دیگر بڑے شہروں کی خوبصورتی کے لیے جمع کیے گئے فنڈز بھی متاثرہ افراد کی مالی معاونت کے لیے منتقل کیے جائیں اور یہی طریقہ ترقیاتی و شہری انفرااسٹرکچر کے منصوبوں پر بھی اپنایا جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان چین کے کمیونٹی ڈیولپمنٹ ماڈل سے سبق حاصل کر سکتا ہے، جو ریاستی قیادت، اجتماعی فلاح اور مقامی سطح پر شمولیت کا امتزاج ہے۔ دریا کے کنارے بنائی گئی ہاؤسنگ سوسائٹیز سے توڑنے کی بجائے بھاری ریگولرائزیشن فیس وصول کی جائے۔ سرکاری ملازمین سے ایک دن کی تنخواہ چندے کے طور پر جمع کرائی جا سکتی ہے، جبکہ سیاسی رہنما قوم سے روزانہ 10 روپے کی چندہ دینے کی اپیل کریں تاکہ بے گھر افراد کی باعزت دوبارہ آباد کاری ممکن ہو سکے، جیسا کہ مصر اور ایتھوپیا میں کیا گیا۔
ساتھ ہی چھوٹے زرعی قرضے معاف کیے جائیں اور تمام چیمبرز آف کامرس، برآمد کنندگان، صنعتکار اور کاروباری حضرات فوری امداد فراہم کرنے کے لیے آگے آئیں۔
صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ متاثرہ کسانوں کیلئے ملکی اسلامی اور کمرشل بینکوں سے صفر شرح سود پر فصلوں کی دوبارہ کاشت کے لیے فنڈز فراہم کرنے کا واضح روڈ میپ تیار کریں۔
معاشی طور پر ہر سال سیاسی وجوہات کی بنیاد پر مختص کیے جانے والے ترقیاتی فنڈز پر پابندی لگائی جائے اور یہ رقم متاثرہ آبادی کے لیے اسٹریٹیجک بفر کے طور پر نئے صوبائی نظام میں منتقل کی جائے۔
خیراتی خوراک کے مراکز، تقسیم کاری کے اقدامات اور این جی اوز بھی اس مہم میں حصہ لیں۔
مزید برآں پنجاب ایمرجنسی سروس ریسکیو 1122 کے دائرہ کار کو مستقل بنیادوں پر وسعت دی جائے، جس میں برقی کشتیوں کے بیڑے، مویشیوں کے لیے پناہ گاہیں، مچھر کے جالے، صفائی و ذاتی نگہداشت کے کٹس، ابتدائی طبی امداد اور ہر گاؤں میں پینے کے صاف پانی کے لیے فلٹریشن/صفائی کے انتظامات شامل کیے جائیں تاکہ مستقبل میں سیلاب کی صورت میں فوری امداد اور تعاون پر مبنی زراعت و دیہی ترقی کے ماڈلز کی حمایت ممکن ہو۔
آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کے پیٹرن ان چیف وحید احمد نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب زرعی شعبے کو بچانے کے لیے فوری اقدامات کے متقاضی ہیں۔ ملک میں آنے والے سیلابوں کو اب عارضی آفت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ بار بار آنے والے قومی ہنگامی حالات ہیں۔ حکومت کو فوری اقدامات کرنے چاہئیں: ڈیم بنائیں، کسانوں کو مالی معاونت فراہم کریں، کلائمٹ اسمارٹ باغات کو فروغ دیں اور ابتدائی الرٹس کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کریں۔
ہر سال کی تاخیر کا مطلب ہے ایک اور فصل کا نقصان، ایک اور باغ کا تباہ ہونا، ایک اور کسان کا دیوالیہ ہونا۔ وعدوں کا وقت گزر چکا — اب عمل کا وقت ہے۔






















Comments
Comments are closed.