پاکستان اور بھارت کے باسمتی چاول پیدا کرنے والے علاقوں میں حالیہ شدید بارشوں اور وسیع پیمانے پر آنے والے سیلاب نے پیداوار کے حوالے سے خدشات بڑھا دیے ہیں، جس کے باعث رسد میں کمی کے امکان کے پیشِ نظر قیمتوں میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
پاکستان اور بھارت دنیا میں واحد ممالک ہیں جو خوشبودار باسمتی چاول کاشت کرتے ہیں، یہ چاول عام اقسام کے مقابلے میں تقریباً دُگنی قیمت پر فروخت ہوتا ہے اور بنیادی طور پر برطانیہ، مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کو برآمد کیا جاتا ہے۔
اولم ایگری انڈیا کے سینئر نائب صدر نیتن گپتا کے مطابق، سیلاب نے باسمتی چاول کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے، تاہم پانی اترنے کے بعد امید ہے کہ نقصان محدود رہے گا، بشرطیکہ مزید بارشیں نہ ہوں۔ بھارت کی شمالی ریاستیں پنجاب اور ہریانہ ملک کی مجموعی پیداوار کا 80 فیصد سے زیادہ فراہم کرتی ہیں، جبکہ پاکستان کا صوبہ پنجاب 90 فیصد سے زائد حصہ مہیا کرتا ہے۔
اگست کے آخر اور رواں ماہ کے آغاز میں ہونے والی موسلا دھار بارشوں کے باعث دریائے راوی، چناب، ستلج اور بیاس میں طغیانی آئی اور اطراف کے علاقے زیرِ آب آگئے۔
بھارتی حکام کے مطابق ابتدائی جائزے میں پنجاب اور ہریانہ کی تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر زرعی زمین متاثر ہوئی جہاں دھان، کپاس اور دالوں کی فصل کھڑی تھی۔
دوسری جانب پاکستان کے صوبہ پنجاب میں بھی ہزاروں ہیکٹر پر کاشت کی گئی دھان، گنا، مکئی، سبزیاں اور کپاس متاثر ہوئیں۔
لطیف رائس ملز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ایکسپورٹ منیجر ابراہیم شفیق نے کہا کہ سیلاب نے کسانوں کو خاصا نقصان پہنچایا ہے، خصوصاً اس موقع پر جب باسمتی چاول اور کپاس جیسی فصلیں کٹائی کے قریب تھیں۔
ان کے مطابق صنعت کو ریکارڈ پیداوار کی توقع تھی، تاہم نقصان کے باعث رسد کم ہونے اور باسمتی چاول کی قیمتیں بڑھنے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محتاط اندازوں کے مطابق پاکستان میں فصل کو 20 فیصد تک نقصان پہنچا ہے جس سے مقامی اور عالمی منڈیوں میں قیمتوں میں اضافہ یقینی ہے۔
اولم کے نیتن گپتا نے کہا کہ تاجروں نے پہلے ہی فی ٹن 50 ڈالر تک قیمتیں بڑھا دی ہیں اور اگر کٹائی کے اختتام تک رسد میں کمی برقرار رہی تو یہ مزید بڑھ سکتی ہیں۔
تاہم کراچی سے تعلق رکھنے والے چیلا رام کیولانی سمیت کچھ صنعت کاروں کا خیال ہے کہ موجودہ اضافہ وقتی ہے، جو فصل کو پہنچنے والے نقصان کی خبروں سے جڑا ہوا ہے اور توقع ہے کہ نئی فصل منڈی میں آتے ہی قیمتوں کا دباؤ کم ہوجائے گا۔






















Comments
Comments are closed.