یروشلم کے مضافات میں پیر کے روز ایک بس اسٹاپ پر فائرنگ کے واقعے میں 5 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔ اسرائیلی ایمبولینس سروس کے مطابق ہلاک شدگان میں ایک 50 سالہ مرد، پچاس برس کی ایک خاتون اور تین مرد شامل ہیں جن کی عمریں تیس سے چالیس برس کے درمیان تھیں۔ زخمیوں میں سے 6 کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔
اسرائیلی پولیس کے مطابق دو حملہ آور کار میں آئے اور رموٹ جنکشن پر بس اسٹاپ پر اندھا دھند فائرنگ کردی۔ جائے وقوعہ پر موجود ایک سکیورٹی افسر اور ایک شہری نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں حملہ آوروں کو مار دیا۔ پولیس نے انہیں دہشت گرد قرار دیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود اور ایک چاقو برآمد کیا۔
فلسطینی تنظیم حماس نے واقعے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی دو فلسطینی مزاحمتی جنگجوؤں نے کی، تاہم اس کی براہِ راست ذمہ داری قبول نہیں کی۔ اسی طرح اسلامی جہاد نے بھی حملے کو سراہا مگر ذمہ داری نہیں لی۔
یہ واقعہ یروشلم کے اس علاقے میں پیش آیا جسے اسرائیل نے 1967 کی جنگ میں قبضے کے بعد ضم کر لیا تھا، تاہم اقوام متحدہ اور بیشتر ممالک اس الحاق کو تسلیم نہیں کرتے۔
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واقعے کے بعد سکیورٹی حکام کے ساتھ ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔ اسرائیلی فوج نے بتایا کہ علاقے میں مزید فوجی تعینات کر دیے گئے ہیں تاکہ پولیس کی مدد کی جا سکے۔ فوجی دستے رام اللہ کے قریبی علاقوں میں بھی کارروائی کر رہے ہیں تاکہ مبینہ طور پر مزید حملوں کو روکا جا سکے۔
ایمبولینس سروس نے بتایا کہ جائے وقوعہ پر کئی افراد سڑک اور فٹ پاتھ پر پڑے تھے، بعض بے ہوش تھے۔ ایک پیرا میڈک نے اسے انتہائی سنگین منظر قرار دیا۔
یاد رہے کہ نومبر 2023 میں بھی یروشلم کے ایک بس اسٹاپ پر دو فلسطینی حملہ آوروں نے 3 افراد کو ہلاک کیا تھا جبکہ اکتوبر 2024 میں تل ابیب میں 7 افراد کو ہلاک کیا گیا تھا۔

























Comments
Comments are closed.