فاطمہ فرٹیلائزر کا نوجوانوں کو بااختیار بنانے کیلئے کنگز ٹرسٹ اور سیڈونچرزسے اشتراک
فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی لمیٹڈ (ایف ایف ایل) نے نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے لئے سیڈ وینچرز کے ساتھ معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ اس معاہدے کا مقصد نوجوانوں کو بااختیار بنانے کے ساتھ اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف پر عمل کرنا بھی شامل ہے۔
فاطمہ فرٹیلائزر پاکستان کی پہلی کمپنی ہے جس نے اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ایس ڈی جی امپیکٹ فریم ورک کو اپنایا اور کمیونٹی ڈیولپمنٹ میں اپنا کردار ادا کیا۔
اس تعاون میں انٹرپرائز چیلنج پاکستان پروگرام کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کنگز ٹرسٹ انٹرنیشنل (جسے برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے قائم کیا) اور سیڈ وینچرز کا نمایاں منصوبہ ہے۔ اس پروگرام کا مقصد 14 سے 18 سال کے طلباء میں کاروباری سوچ کو فروغ دینا ہے، جس میں خاص طور پر سرکاری سکولوں کے طلباء، معذوراورپسماندہ طبقے سے تعلق رکھنے والے بچوں اور صنفی مساوات کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔
تقریب کی مہمانِ خصوصی برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ تھیں جبکہ فاطمہ فرٹیلائزر کی ڈائریکٹر مارکیٹنگ اینڈ سیلز رابیل سدوزئی، سیڈوینچرز کی سی ای او، شائستہ عائشہ اور دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوئیں۔
پروگرام کے نویں سائیکل (2025-2026) کے دوران انٹرپرائز چیلنج پاکستان میں 100 سے زائد دیہی اسکولوں کے 3 ہزار طلباء شامل ہوں گے۔ اس اقدام کے ذریعے معیاری تعلیم، بہتر روزگار اور معاشی ترقی اور صنعت و جدت کے فروغ جیسے اہداف حاصل کرنے میں مدد ملے گی۔
کنگز ٹرسٹ انٹرنیشنل کے سی ای او، وِل سٹرا نے اس تقریب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ کنگز ٹرسٹ انٹرنیشنل کیلئے فاطمہ فرٹیلائزر اور سیڈ وینچرز کے ساتھ انٹرپرائز چیلنج پاکستان سے متعلق اشتراک نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس مضبوط شراکت داری کے ذریعے ہم پاکستان کے نوجوانوں کو بااختیار بنا سکتے ہیں تاکہ وہ اپنے خیالات کو عملی اقدامات میں بدلیں اور کاروباری سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔’’
اس موقع پرمہمانِ خصوصی برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا، ’’پاکستان کے نوجوانوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انٹرپرائز چیلنج پاکستان اس صلاحیت کو اجاگر کرنے کا بہترین پلیٹ فارم ہے۔ یہ شراکت داری ایک نیا اور اہم قدم ہے جو مزید نوجوانوں کو حصہ لینے کا موقع فراہم کرے گا۔‘‘
فاطمہ فرٹیلائزر کا عزم ہے کہ وہ اس شراکت داری کے ذریعے نوجونواں کو باختیار بنانے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی کی ترقی اور 2030 تک پاکستان کیلئے عالمی پائیدارترقیاتی اہداف کے حصول میں اپنا کردار ادا کرے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025






















Comments
Comments are closed.