وزیراعظم شہباز شریف نے جمعہ کو کہا ہے کہ ملک کے چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان میں آبی ذخائر کی تعمیر اور پانی کے بہتر انتظام کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی تیار کی جا رہی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کئی ہفتوں سے مون سون بارشوں سے نبرد آزما ہے، جن کے باعث اب تک 2 لاکھ 10 ہزار سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں 40 ہزار ایسے بھی ہیں جو 14 اگست سے سیلابی انتباہات کے بعد رضاکارانہ طور پر گھروں سے نکلے۔
ملک میں رواں سال جون کے آخر سے شروع ہونے والے مون سون سیزن میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد جمعہ تک 820 ہو گئی، جن میں سے نصف ہلاکتیں صرف اگست میں ہوئی ہیں۔
وزیراعظم آفس کے مطابق شہباز شریف نے کہا کہ آبی ذخائر صوبوں سے مشاورت اور مکمل ہم آہنگی کے ساتھ تعمیر کیے جائیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقت ہے، اور صرف مؤثر تیاری کے ذریعے ہی قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ تمام صوبوں، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور وفاقی دارالحکومت کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ عوام کو موسمیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچایا جا سکے، اسے ایک قومی مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے حل کے لیے اجتماعی کوشش ناگزیر ہے۔
وزیراعظم آفس نے کہا کہ وزیرِاعظم کی ہدایات پر پہلے ہی کام جاری ہے تاکہ موسمیاتی تبدیلی اور مون سون کے اثرات کا بروقت مقابلہ کرنے کے لیے ایک مؤثر پالیسی تیار کی جا سکے۔ اس پالیسی کا ورکنگ پیپر تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا تاکہ مشترکہ لائحہ عمل وضع کیا جا سکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جیسے ہی ہنگامی صورتحال قابو میں آئے گی، وزیراعظم چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ اداروں کے سربراہان کے ساتھ ایک اعلیٰ سطح اجلاس طلب کریں گے۔ اس اجلاس میں آزاد کشمیر کے وزیراعظم اور گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ کو بھی مدعو کیا جائے گا۔






















Comments
Comments are closed.