بھارت کی آبی جارحیت اور شدید بارشیں، پاکستان میں سیلابی صورتحال مزید سنگین
- اس سال کے مون سون کے موسم میں سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے۔
پاکستان اس وقت بے مثال اور شدید سیلاب کی زد میں ہے جسے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے (آئی ڈبلیو ٹی) کی دانستہ معطلی اور دریاؤں کے بہاؤ میں تبدیلی نے مزید سنگین بنا دیا ہے، کیونکہ بھارت نے بروقت فلڈ وارننگز فراہم نہیں کیں۔
پاکستان پہلے ہی حالیہ ہفتوں میں مون سون بارشوں سے نبرد آزما ہے، صرف پنجاب میں 1 لاکھ 67 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں 40 ہزار وہ لوگ شامل ہیں جنہوں نے 14 اگست کے بعد جاری کردہ فلڈ وارننگز کے بعد خود ہی نقل مکانی کی۔
ملک بھر میں جون کے آخر سے شروع ہونے والے مون سون سیزن کے دوران بدھ تک ہلاکتوں کی سرکاری تعداد 804 تک پہنچ گئی، جن میں سے نصف اموات اگست میں ہوئیں۔
اے پی پی کے مطابق بھارت کی جانب سے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سے پاکستان کو اس کے ڈیموں سے غیر معمولی پانی کے اخراج کے بارے میں اہم پیشگی وارننگز سے محروم کر دیا گیا ہے۔ بروقت الرٹس نہ ملنے کے باعث بھاری مون سون بارشوں سے ہونے والی تباہی میں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دریائے چناب، راوی اور ستلج میں انتہائی بلند سطح کے سیلاب دیکھنے میں آئے۔
ایک رپورٹ میں جسے میڈیا کے کچھ حصوں نے شائع کیا، 1960 کے سندھ طاس معاہدے کی دفعات کا حوالہ دیا گیا جس کے تحت دونوں ممالک پابند ہیں کہ پانی کے غیر معمولی اخراج کے بارے میں ایک دوسرے کو آگاہ کریں اور ڈیموں کو اس طرح چلائیں کہ مادی نقصان نہ ہو۔ تاہم، بھارت نے صرف دریائے توی کی ایک محدود وارننگ جاری کی مگر دریائے ستلج کے بارے میں کوئی تازہ ڈیٹا فراہم نہ کیا، جس کا بہاؤ 1 لاکھ 22 ہزار کیوسک سے تجاوز کر گیا اور اس نے جنوبی پنجاب کے بڑے حصے کو زیرآب کر دیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ 23 اپریل کو سندھ طاس معاہدہ معطل کرنے کے بعد بھارت نے دریائے چناب کے بہاؤ میں ردوبدل کیا، پہلے اسے کم کرکے قلت پیدا کی اور پھر اچانک پانی چھوڑ دیا جس سے زیریں علاقوں میں سیلابی صورتحال سنگین ہوگئی۔ حالیہ دنوں بھارت کی جانب سے ملنے والے چند الرٹس ناکافی تھے، کیونکہ سابقہ عمل کے برعکس ان میں مشرقی دریاؤں کے تمام ذخائر شامل نہیں تھے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت کا سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرنا اور بے ترتیب پانی کا اخراج نہ صرف پاکستان کی زراعت، معیشت اور غذائی تحفظ کو خطرے میں ڈالتا ہے بلکہ انسانی المیے اور عوامی بے چینی کے خطرات کو بھی بڑھاتا ہے۔
ڈیم کھل گئے
ایک ریسکیو اہلکار نے رائٹرز کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ سرحد پار، سیلابی پانی نے پنجاب میں واقع ایک مشہور سکھ عبادت گاہ کرتار پور صاحب کے کچھ حصوں کو ڈبو دیا۔
بھارتی حکومت کے ایک ذریعے نے کہا کہ بھارت نے اپنی جانب کشمیر کے دریاؤں پر قائم بڑے ڈیموں کے دروازے بھاری بارشوں کے بعد کھول دیے۔
بھارت معمول کے مطابق اس وقت اپنے ڈیموں سے پانی چھوڑتا ہے جب وہ حد سے زیادہ بھر جاتے ہیں، اور یہ فاضل پانی پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔
بدھ کو حکام نے کہا کہ پاکستان میں دریائے راوی، چناب اور ستلج کے پانی کی سطح میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی نے اتوار کے بعد سے دو بار فلڈ وارننگ دی تھی۔
وزیرِاعظم کا فضائی جائزہ
وزیرِاعظم شہباز شریف نے پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا۔
روانگی سے قبل اور فضائی معائنہ کے دوران این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل انعام حیدر نے وزیرِاعظم کو ملک میں مجموعی طور پر سیلابی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
وزیرِاعظم کو پنجاب کے دریاؤں میں آنے والے سیلاب اور زیرآب علاقوں میں جاری ریسکیو و ریلیف آپریشنز کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
وزیرِاعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف بھی وزیرِاعظم کے ہمراہ تھیں۔
سیلاب زدہ علاقوں کے فضائی معائنے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت دی کہ سیلاب سے بچاؤ اور امدادی کارروائیوں کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں۔
وزیراعظم اور وزیراعلیٰ کو نارووال میں بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
موسم کی ایڈوائزری
بدھ کو این ڈی ایم اے نے موسم کی پیشگوئی جاری کی جس میں آئندہ 48 گھنٹوں میں ملک بھر میں شدید بارشوں کی وارننگ دی گئی ہے، جو خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والے طاقتور مون سون سسٹمز کے باعث متوقع ہیں۔
آفات سے نمٹنے والے ادارے نے کہا کہ خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے آنے والی نمی ملک کے بیشتر حصوں میں 29 اگست سے 2 ستمبر تک درمیانی سے شدید بارشیں لائے گی۔

این ڈی ایم اے نے کہا کہ پنجاب کے بالائی، شمال مشرقی اور جنوبی حصوں بشمول اسلام آباد، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، میانوالی، سرگودھا، فیصل آباد، سیالکوٹ، نارووال، لاہور، گوجرانوالہ، ملتان، بہاولپور اور رحیم یار خان میں یکم ستمبر تک درمیانی سے شدید بارشیں اور طوفانی ہوائیں متوقع ہیں۔
اسی طرح چترال، دیر، ہری پور، کرک، خیبر، کرم، مانسہرہ، مہمند، نوشہرہ، چارسدہ، ایبٹ آباد، بنوں، بونیر، ہزارہ ڈویژن، پشاور، سوات، وزیرستان اور ملحقہ علاقوں میں بھی 29 اگست سے یکم ستمبر تک بارش اور طوفان کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
فوج کی ریلیف کارروائیاں جاری
پاکستان آرمی پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں مقامی سول انتظامیہ کے ساتھ مل کر ریلیف آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔
لاہور ڈویژن میں تقریباً پانچ سو فوجی افسر اور جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔
اکیس ریسکیو اور ریلیف کیمپ سول انتظامیہ کے تعاون سے قائم کیے گئے ہیں۔

ڈسکہ میں پاک فوج نے سکھ برادری کے درجنوں افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ سکھ برادری نے بروقت کارروائی پر فوج کا شکریہ ادا کیا۔
پاک فوج نے کوٹ مومن میں بھی ریلیف آپریشن شروع کیا ہے تاکہ متاثرین کو مدد فراہم کی جا سکے۔
پاکستان آرمی اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل تین ریسکیو ٹیمیں مڈھ رنجھا، طالبوالا اور ہلالپور میں تعینات کی گئی ہیں۔
ریسکیو ٹیموں میں ماہر تیراک بھی شامل کیے گئے ہیں۔

























Comments
Comments are closed.