امریکی شہرمنیاپولس میں ایک کیتھولک چرچ میں فائرنگ کے ایک المناک واقعے میں دو بچوں سمیت 17 افراد زخمی اور دو بچے ہلاک ہو گئے۔ یہ واقعہ بدھ کے روز اس وقت پیش آیا جب پارش اسکول کے طالب علم ایک اجتماعی عبادت میں شریک تھے۔ پولیس کے مطابق، 23 سالہ حملہ آور رابن ویسٹ مین نے چرچ کی پچھلی جانب خود کو گولی مار کر ہلاک کر لیا۔
منیاپولس کے پولیس چیف برائن او’ہارا نے بتایا کہ حملہ آور نے تین بندوقوں سے رنگین شیشوں والی کھڑکیوں سے فائرنگ کی، جس سے وہاں موجود عبادت گزاروں اور بچوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ فائرنگ کا نشانہ بننے والے 17 زخمیوں میں 14 طلباء اور تین 80 سال سے زائد عمر کے عبادت گزار شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی عمریں 8 اور 10 سال تھیں۔
ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کاش پٹیل نے اس واقعے کو کیتھولک کو نشانہ بنانے والی گھریلو دہشت گردی اور نفرت انگیز جرم قرار دیا۔ پولیس کے مطابق، حملہ آور کی ایک ویڈیو بھی سامنے آئی ہے جس میں اس نے ڈپریشن اور ماضی کے بڑے پیمانے پر فائرنگ کرنے والے افراد سے متاثر ہونے کی بات کی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ رابن ویسٹ مین ماضی میں اسی اسکول کا طالب علم تھا۔
منیاپولس کے میئر جیکب فرے نے اس واقعے کو صنفی سیاست سے جوڑنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی اس سانحے کو ٹرانس کمیونٹی یا کسی اور کمیونٹی کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے، وہ اپنی انسانیت کھو چکا ہے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک بھر میں قومی پرچم سرنگوں رکھنے کا حکم دیا۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور نے قانونی طور پر یہ اسلحہ خریدا تھا اور اس کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں تھا۔




















Comments
Comments are closed.