کراچی: کریم آباد انڈر پاس کی تعمیر تاخیر کا شکار، تاجر پریشان، گزارا مشکل ہوگیا
- منصوبے کی لاگت 3.810 ارب روپے ہے ، تقریباً ڈھائی سال سے زیرتعمیر انڈر پاس مارکیٹ کی رونق متاثر کر رہا ہے
کراچی کے علاقے کریم آباد کے مرکز میں خواتین کے ملبوسات کے تاجر فیصل سمیع نے بتایا کہ زیرِ تعمیر انڈر پاس منصوبے کی تاخیر نے ان کا کاروبار بری طرح متاثر کیا ہے۔
فیصل سمیع نے اپنی دکان کے باہر کھڑے ہو کر کہا کہ یہ تعمیر میرے لیے سب کچھ تباہ کر گئی ہے جبکہ یہاں کبھی گاہکوں کی ہلچل ہوا کرتی تھی۔
واضح رہے کہ 2023 میں شروع ہونے والا کریم آباد انڈر پاس منصوبہ دو سال میں مکمل ہونا تھا اور اسے مکمل طور پر سندھ حکومت فنڈ کر رہی ہے۔
کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (کے ڈی اے) کے ایک اہلکار کے مطابق، یہ منصوبہ عثمان میموریل اسپتال سے سمرُوز اسپتال تک پھیلا ہوا ہے، جس کی کل لمبائی 1,080 میٹر (تقریباً ایک کلومیٹر) ہے۔
انڈر پاس میں دو-دو لینز شامل ہیں۔ ابتدائی طور پر منصوبے کی لمبائی 550 میٹر رکھی گئی تھی، جو بعد میں بڑھا کر 1,080 میٹر کردی گئی۔
ابتدائی لاگت کا تخمینہ 1.35 ارب روپے تھا، لیکن لمبائی میں اضافے کے سبب یہ 3.810 ارب روپے تک پہنچ گئی۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے منصوبے کی تکمیل کی تاریخ 30 ستمبر 2025 مقرر کی تھی تاہم کے ڈی اے کے اہلکار کے مطابق منصوبے کی تکمیل ممکنہ طور پر ایک اور سال یعنی جون 2026 تک ہو سکتی ہے۔

تقریباً ڈھائی سال سے یہ انڈر پاس منصوبہ مارکیٹ کی رونق متاثر کر رہا ہے جس کے باعث سمیع جیسے کاروباری مالکان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔
کریم آباد جو درمیانے طبقے کے لیے مشہور خریداری کا مرکز ہے کبھی ایک پررونق ہب ہوا کرتا تھا، خاص طور پرسردیوں اور گرمیوں کے سیزن کے دوران یہ مارکیٹ خریداروں بھری ہوتی تھی، تاہم منصوبے کے آغاز کے بعد سے ٹریفک میں کمی اور گاہکوں کی آمد گھٹ گئی۔ فیصل سمیع نے بتایا کہ وہ خواتین جو موسم کے مطابق ملبوسات خریدنے آتی تھیں، اب یہاں نہیں آتیں، اور ان کے بغیر ہم بمشکل گزارہ کر پا رہے ہیں۔
یہ صورتحال علاقے کے دیگر دکانداروں کے لیے بھی یکساں ہے۔ چاہے وہ برائیڈل ویئر کے بیچنے والے ہوں یا کپڑوں کے تاجر، ہر کاروبار طویل تعمیراتی کام اور سڑکوں کی بندش سے شدید متاثر ہے۔ برائیڈل ویئر کے تاجر اسامہ خان نے کہا کہ یہ ہمارے لیے بمشکل موت کے مترادف ہے۔
مہنگائی پہلے ہی صارفین کے بجٹ پر دباؤ ڈال رہی ہے اور نقصان زدہ سڑکوں پر گزرنے کی اضافی مشکلات کے سبب کئی گاہک قریبی اور آسان مارکیٹوں کا رخ کر رہے ہیں۔
کاروباری مالکان کے لیے جو وقتی تکلیف ہونی چاہیے تھی، وہ اب ایک ایسا خوابِ خرابی میں بدل گئی ہے جو ان کی روزی روٹی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ کریم آباد انڈر پاس کی تکمیل کی تاریخ جون 2026 تک مؤخر ہونے کے بعد، کئی کاروباری مالکان سوال کر رہے ہیں کہ آیا وہ ایک اور سال آمدنی کے نقصان کے ساتھ برداشت کر پائیں گے یا نہیں۔
علاقے کے ایک کپڑوں کے تاجر نے بتایا کہ وہ واحد نہیں ہیں جو یہی مصنوعات فروخت کر رہے ہیں۔ “یہی مصنوعات آپ قریبی مارکیٹوں جیسے لیاقت آباد اور واٹر پمپ مارکیٹ میں بھی خرید سکتے ہیں، جہاں رسائی آسان ہے اور سڑکیں بند نہیں ہیں۔
تاجر کے مطابق کئی گاہکوں نے کریم آباد آنے کے بجائے قریبی مارکیٹوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔
بالواسطہ کاروبار جیسے درزی کی خدمات بھی شدید متاثر ہوئے ہیں۔ محمد احمر، جو کریم آباد کی دکانوں سے خریدی جانے والی اَن سِٹچ شدہ کپڑوں پر اپنے کاروبار کا انحصار کرتے ہیں نے کہا کہ ان کے گاہک تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ دکاندار مشکلات کا شکار ہیں اور میرا کاروبار بھی متاثر ہو رہا ہے۔
حارث احمد جو اسٹیشنری اور فوٹو کاپی کی دکان چلاتے ہیں، نے کہا کہ طلبہ اور آنے والے گاہک، جو کبھی ان کی دکان کو بھرتے تھے، اب کم ہو گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے گاہک پہلے قریبی اسکولوں اور کوچنگ سینٹرز سے آتے تھے لیکن سڑکیں بند ہونے کی وجہ سے وہ دیگر مارکیٹوں کی طرف چلے گئے ہیں۔
عارضی طور پر دکان منتقل کرنے پر غور کرنے کے باوجود احمد نے بتایا کہ مالی وسائل کی کمی اور منصوبے کی تکمیل میں غیر یقینی صورتحال کے باعث کوئی فیصلہ ممکن نہیں ہے، ہم مستقبل کے لیے بھی منصوبہ بندی نہیں کر سکتے۔
دھول اور خطرہ
کریم آباد میں زیرِ تعمیر انڈر پاس کے صحت پر اثرات بھی تیزی سے بڑھتی ہوئی تشویش کا باعث بن چکے ہیں۔
پرنٹنگ کے کاروبار سے وابستہ ایک ٹیکنیشن نے بتایا کہ منصوبے کے آغاز سے پہلے انہیں کبھی صحت کے مسائل کا سامنا نہیں تھا لیکن اب سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ مسئلہ صرف کاروبار تک محدود نہیں، ہماری صحت بھی تباہ ہو رہی ہے۔
کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے شعبۂ میڈیسن کے سربراہ، پروفیسر قیصر جمال نے خبردار کیا کہ باریک ذرات والی مٹی، خاص طور پر PM2.5، PM10 اور سلیکا ڈسٹ، صحت کے لیے شدید خطرات پیدا کر سکتی ہے۔
پروفیسر جمال نے کہا کہ طویل عرصے تک ایسے ذرات کے سامنے رہنے سے دمہ، دائمی برونکائٹس اور سی او پی ڈی (دائمی رکاوٹی پھیپھڑوں کی بیماری) جیسے مسائل لاحق ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے سلیکوسس، جو سلیکا ڈسٹ کے سانس میں داخل ہونے سے پھیپھڑوں کی بیماری ہے کو خاص طور پر خطرناک قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مٹی اور ملبے کی وجہ سے آنکھوں میں خراش، آشوب چشم اور جلدی الرجی کے بڑھتے ہوئے کیسز بھی رپورٹ ہو رہے ہیں۔
پروفیسر جمال نے واضح کیا کہ خطرہ صرف کاروباری افراد تک محدود نہیں؛ تعمیراتی علاقے کے آس پاس موجود ہر شخص کی صحت داؤ پر ہے۔
تاخیر کی کیا وجوہات ہیں؟
حکومتی اہلکاروں کے مطابق کریم آباد انڈر پاس منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجوہات میں اہم انفرااسٹرکچر، جیسے گیس اور بجلی کی لائنوں کی بروقت ہٹانے میں تاخیر شامل ہے۔
کے ڈی اے کے اہلکار نے بتایا کہ اگریہ [بجلی اور گیس] تنصیبات وقت پر ہٹا دی جاتیں تو منصوبہ جون 2025 تک مکمل ہوچکا ہوتا۔
رابطہ کرنے پر کے-الیکٹرک کے ترجمان نے کہا کہ ادارہ شہر کی ترقی کے لیے پرعزم ہے اور تمام شہری ایجنسیوں اور حکومتی محکموں کے ساتھ تعاون کر رہا ہے تاکہ انفرااسٹرکچر پر کام بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔
ترجمان نے کریم آباد انڈر پاس منصوبے کے حوالے سے بتایا کہ کے-الیکٹرک نے متعلقہ حکام کے ساتھ باہمی طے شدہ شیڈول کے مطابق حاصل شدہ ادائیگیوں کے تحت اپنے اہداف کو مکمل کرنا جاری رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ڈی اے کے ساتھ 196 ملین روپے کا تخمینہ شیئر کیا گیا، جس میں سے 30 ملین روپے موصول ہوئے، اور باقی ادائیگی کی وصولی کے بعد ادارہ منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہے۔
دریں اثنا سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ کے ترجمان نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔
کریم آباد میں انڈر پاس کی تعمیر نے نہ صرف کاروبار بلکہ رہائشیوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر کردی ہے۔ دکاندار اور مقامی رہائشی اب اس بارے میں سوچ میں مبتلا ہیں کہ وہ اس صورتحال کو کتنے عرصے تک برداشت کرسکیں گے۔ منصوبے کی بروقت تکمیل اور مارکیٹ تک رسائی کی بحالی کے بغیر کئی افراد خوفزدہ ہیں کہ نقصان ناقابلِ تلافی ہوسکتا ہے۔






















Comments
Comments are closed.