بھارت کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اس نے صنعتکار انیل امبانی اور ان کی کمپنی ریلائنس کمیونی کیشنز لمیٹڈ کے خلاف ایک فوجداری مقدمہ درج کیا ہے، جو بھارت کے سب سے بڑے بینک کی جانب سے مبینہ فراڈ کی شکایت پر قائم کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف انڈیا نے الزام عائد کیا ہے کہ انیل امبانی، جو ارب پتی مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، اور ان کی کمپنی ری لائنس کمیونی کیشنز نے بینک کو دھوکہ دے کر 3,000 کروڑ روپے (تقریباً 344 ملین امریکی ڈالر) کا نقصان پہنچایا۔
بھارتی تحقیقاتی ادارے (سی بی آئی) نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ اس نے ممبئی میں انیل امبانی کی رہائش گاہ اور دیوالیہ قرار دی گئی ریلائنس کمیونی کیشنز کے دفاتر پر تلاشی کی کارروائیاں کی ہیں۔
تحقیقاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ انیل امبانی اور ان کی کمپنی نے بینک سے حاصل کردہ فنڈز کا غلط استعمال کیا اور انہیں طے شدہ مقاصد کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے منتقل کیا۔
انیل امبانی اور ریلائنس کمیونی کیشنز کے ترجمان نے فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا، جبکہ اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کو بھیجی گئی ای میل کا جواب فوری طور پر موصول نہیں ہوا۔
گزشتہ ماہ، بھارت کے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے بھی منی لانڈرنگ اور عوامی فنڈز کے ناجائز استعمال کی تحقیقات کے سلسلے میں ریلائنس گروپ سے منسلک 35 مقامات پر چھاپے مارے تھے، جیسا کہ ایک سرکاری ذریعے نے رائٹرز کو بتایا۔
ریلائنس گروپ نے اس وقت بھی کسی تبصرے سے گریز کیا تھا، تاہم گروپ سے منسلک ایک ذریعے نے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔






















Comments
Comments are closed.