صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے خبردار کیا ہے کہ بالائی علاقوں میں متوقع بارشوں اور بھارت کی جانب سے ممکنہ پانی چھوڑنے کے باعث صوبے کی دریاوں میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ترجمان نے بتایا کہ آئندہ دو دنوں میں بھارت کی جانب سے دریائے ستلج میں پانی چھوڑے جانے کا خدشہ ہے کیونکہ بھارتی ڈیموں میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھاکڑا ڈیم 61 فیصد، پونگ ڈیم 76 فیصد اور تھین ڈیم 64 فیصد بھر چکا ہے۔
پی ڈی ایم اے کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ پی ڈی ایم اے پنجاب، انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) اور محکمہ آبپاشی دریاوں اور ڈیموں کی صورتحال پر چوبیس گھنٹے نظر رکھے ہوئے ہیں۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح معمول پر آ گئی ہے تاہم اس میں دوبارہ اضافے کا خدشہ موجود ہے۔ دریائے چناب میں مرالہ، خانکی اور قادرآباد پر درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ جاری کر دی گئی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے تمام کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اور متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے۔ عرفان علی کاٹھیا نے دریا کے کناروں پر رہائش پذیر افراد سے کہا کہ وہ فوراً محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں اور کسی بھی ایمرجنسی انخلا میں انتظامیہ سے تعاون کریں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں، دریا، نہروں، نالوں اور تالابوں میں نہانے سے گریز کریں، اور سیلاب کی صورت میں دریاؤں کے قریب پکنک یا غیر ضروری آمد و رفت نہ کریں۔ والدین بچوں کو دریاؤں اور نالوں سے دور رکھیں۔ ایمرجنسی کی صورت میں پی ڈی ایم اے پنجاب کی ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کریں۔
دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبوں کے ساتھ تعاون مزید مضبوط کرے اور متاثرین کی امداد اور بحالی کے کام کو تیز کیا جائے، جبکہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر بروقت وارننگ عوام تک پہنچائی جائے۔
ارسا نے منگل کو مختلف مقامات سے 3,75,200 کیوسک پانی چھوڑا جبکہ پانی کا مجموعی بہاؤ 4,00,000 کیوسک رہا۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1546.50 فٹ، منگلا ڈیم میں 1206.50 فٹ ریکارڈ کی گئی۔

























Comments
Comments are closed.