پی ٹی آئی کے مزید اراکین اسمبلی کی رکنیت ختم، نااہل ارکان کی تعداد 14 ہو گئی
الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 9 مئی کے فسادات میں انسداد دہشت گردی عدالت سے سزا یافتہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مزید 9 ارکانِ اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا ہے۔ نااہل قرار دیے گئے ارکان میں قومی اسمبلی کے 5، پنجاب اسمبلی کے 3، اور ایک سینیٹر شامل ہیں۔ اس طرح گزشتہ تین ہفتوں کے دوران عدالتوں کے فیصلوں کی بنیاد پر نااہل قرار دیے گئے پی ٹی آئی ارکانِ اسمبلی کی مجموعی تعداد 14 ہو گئی ہے۔
منگل کو آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت نااہل قرار دیے جانے والوں میں قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز بھی شامل ہیں۔
دیگر نااہل ارکان میں قومی اسمبلی کے رکن رائے حیدر علی (این اے-96 فیصل آباد)، صاحبزادہ حمید رضا (این اے-104 فیصل آباد)، رائے حسن نواز (این اے-143 ساہیوال)، زرتاج گل (این اے-185 ڈیرہ غازی خان)، پنجاب اسمبلی کے رکن (پی پی-73 سرگودھا)، جنید افضل ساہی (پی پی-98 فیصل آباد)، اور رائے مرتضیٰ اقبال (پی پی-203 ساہیوال) شامل ہیں۔
اگرچہ یہ تمام 9 ارکان پی ٹی آئی سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم پی ٹی آئی کے انتخابی نشان کے تنازع کے باعث ان میں سے 6 نے گزشتہ سال کے عام انتخابات سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) کے ٹکٹ پر لڑے تھے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر نے آزاد امیدوار کے طور پر کامیابی حاصل کی تھی جبکہ باقی چار ایم این ایز اور دو ایم پی ایز نے ایس آئی سی کے ٹکٹ پر کامیابی حاصل کی۔ صرف ایک رکن پنجاب اسمبلی، مرتضیٰ اقبال، اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے تھے۔
31 جولائی کو انسداد دہشت گردی عدالت فیصل آباد نے ان پی ٹی آئی رہنماؤں کو 9 مئی 2023 کے فسادات میں مبینہ ملوث ہونے پر 10 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
اس سے قبل 29 جولائی کو پی ٹی آئی کے ایم این اے عبد اللطیف کو بھی 9 مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں الیکشن کمیشن نے آئین کے آرٹیکل 63(1)(h) کے تحت نااہل قرار دے دیا تھا۔
ای سی پی کے پانچ رکنی فل بینچ نے عبد اللطیف کی نااہلی سے متعلق مختلف درخواستوں پر سماعت کے بعد فیصلہ سنایا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025






















Comments
Comments are closed.