دبئی سے پاکستان، مشرق کا 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے ڈیجیٹل بینکاری انقلاب لانے کا عزم
دبئی میں قائم عالمی ڈیجیٹل بینک ”مشرق“ پاکستان میں بینکاری کے منظرنامے کو تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے، جس کا مقصد روایتی برانچوں کی جگہ ڈیجیٹل لین دین کو فروغ دینا ہے۔
اس کی پاکستان میں توسیعی سرگرمیوں کا محور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر کو ڈیجیٹل بنانا ہے، تاکہ وہ اپنے خاندان اور دوستوں سے زیادہ مؤثر انداز میں جُڑے رہیں۔
مشرق پاکستان کے سی ای او محمد ہمایوں سجاد نے ”بزنس ریکارڈر“ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ”مشرق کی بڑی توجہ ترسیلاتِ زر کو پاکستان لانے پر ہے۔“
دبئی اور دیگر امارات میں مقیم پاکستانی ہر سال تقریباً 6.25 سے 6.50 ارب ڈالر پاکستان بھجواتے ہیں۔ مشرق پہلے ہی دیگر مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر ان ترسیلات کا ایک بڑا حصہ سہولت سے منتقل کر رہا ہے۔
محمد ہمایوں سجاد کے مطابق ہم مشرق دبئی اور مشرق پاکستان کے درمیان ایک تیز، آسان اور شفاف مالیاتی نظام قائم کر رہے ہیں تاکہ ترسیلات فوری طور پر وصول ہوں۔ فی الحال یہ ترسیلات مشرق دبئی سے چلائی جا رہی ہیں، اور ہمارا پہلا ہدف ان ترسیلات کو پاکستان میں ہمارے پلیٹ فارم پر منتقل کرنا ہے۔
دوسرا مقصد پاکستان میں ترسیلات کے عمل میں حائل رکاوٹوں کی نشاندہی اور ان کا حل تلاش کرنا ہے۔ ان مسائل سے سیکھ کر ہم صارف کے تجربے کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ ترسیلات، جو کہ ملک کی مالیاتی زندگی کا اہم جزو ہیں، ان میں بہتری کی گنجائش واضح ہے۔
مشرق کو دنیا بھر میں — مشرقِ وسطیٰ، امریکہ، برطانیہ اور یورپ — میں خدمات فراہم کرنے کا 60 سال سے زائد کا تجربہ ہے۔ پاکستان میں ایک مکمل ڈیجیٹل ریٹیل بینک کے آغاز کے لیے ایک پائلٹ منصوبہ جاری ہے، جس کا ہدف دسمبر 2025 کے آخر تک لانچ ہے۔
مشرق دبئی پاکستان میں تین یونٹس چلاتا ہے۔ مشرق بینک (پائلٹ مرحلے میں)،مشرق گلوبل نیٹ ورک (عملہ کی بھرتی و نظم)، مشرق فنانشل انسٹی ٹیوشنز گروپ کا برانچ آفس (مالیاتی اداروں کو بینکاری حل فراہم کرتا ہے)۔ گزشتہ چار برسوں میں پاکستان میں 70 ملین ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کی جا چکی ہے، اور یہ رقم 2025 کے اختتام تک 100 ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔
ٹریڈ فنانس میں دلچسپی
محمد ہمایوں سجاد نے بتایا کہ ترسیلات کے ساتھ ساتھ بینک ٹریڈ فنانس کے شعبے میں بھی سرگرم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ہمارے پاکستان کے لائسنس میں فی الحال تجارتی لین دین کی اجازت نہیں، لیکن مشرق دبئی پاکستانی بینکوں کے ساتھ ٹریڈ فلو کو ہینڈل کر رہا ہے۔ یہ بینک امریکی ڈالر کلیئرنگ میں دنیا کے سرفہرست چھ اداروں میں شامل ہے اور 14 ممالک میں ٹریڈ حب کے طور پر کام کرتا ہے۔
پاکستان میں مکمل لائسنس ملنے کے بعد مشرق آئندہ 3 سے 5 سال کے اندر مقامی طور پر ٹریڈ سروسز شروع کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس دوران بینک متحدہ عرب امارات اور پاکستان کے درمیان تیز رفتار مالیاتی راہداریوں پر توجہ دے رہا ہے۔
ایس ایم ایز اور نوجوانوں کے لیے الگ پورٹلز
عام طور پر بینک ایس ایم ای کلائنٹس کو انفرادی یا کارپوریٹ پلیٹ فارمز پر سروس دیتے ہیں، جو چھوٹے کاروباروں کی مخصوص ضروریات کو نظرانداز کرتے ہیں۔ اس مسئلے کا حل پیش کرتے ہوئے محمد ہمایوں سجاد نے بتایا کہ مشرق ”مشرق نیو بزنس“ کے نام سے ایک مخصوص ایپ اور پورٹل متعارف کرا رہا ہے۔
افراد کے لیے مشرق ڈیجیٹل جوائنٹ اکاؤنٹس فراہم کرے گا، جس کے لیے برانچ جانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ مزید یہ کہ مشرق ”نیو این ایکس ٹی“ کے نام سے ایک علیحدہ پلیٹ فارم بھی متعارف کرا رہا ہے، جو 18 سال سے کم عمر نوجوانوں کے لیے ہے۔ اگرچہ نابالغ مکمل بینک اکاؤنٹ نہیں کھول سکتے، لیکن یہ پلیٹ فارم والدین کی نگرانی میں بچت اور خرچ کے لیے محدود بینکاری کی سہولت دے گا — جس سے بچپن سے مالی خواندگی کو فروغ دیا جا سکے گا۔
سائبر سیکیورٹی اور اے آئی: کامیابی کی کنجی
مشرق ایک مضبوط سائبر سیکیورٹی فریم ورک پر زور دیتا ہے جو جدید اے آئی پر مبنی مانیٹرنگ اور فراڈ ڈیٹیکشن کے نظام سے تقویت پاتا ہے۔ بینک اپنے ڈیجیٹل بینکاری نظام کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ضوابط سے ہم آہنگ رکھتا ہے، جس میں غیر معمولی لین دین کے لیے خودکار الرٹس شامل ہیں — جیسے کہ 20 لاکھ روپے سے زائد کی منتقلی پر کال کی صورت میں صارف کو مطلع کرنا۔
بینک اپنے متحدہ عرب امارات کے ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر کو پاکستان میں بھی دہرانے کا ارادہ رکھتا ہے، تاکہ ڈیجیٹل بینکاری کے شعبے میں اعتماد اور ادارہ جاتی ساکھ قائم کی جا سکے۔
محمد ہمایوں سجاد کے مطابق پاکستان کے ڈیجیٹل بینکاری خلا میں ایک بہت بڑی ممکنہ مارکیٹ موجود ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 90 سے 100 ملین اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں، جن میں سے صرف 20 ملین آن لائن بینکاری استعمال کرتے ہیں۔ باقی 70 ملین افراد اب بھی غیر ڈیجیٹل ذرائع پر انحصار کرتے ہیں۔ موجودہ بینکوں کو زیادہ لاگت اور محدود ڈیجیٹل صلاحیت کا سامنا ہے، جبکہ صارفین کو دھوکہ دہی، رسائی اور اعتماد کے مسائل کا سامنا ہے۔ ایک جدید اور صرف ڈیجیٹل بینک جیسے مشرق اس خلا کو مؤثر اور کم لاگت طریقے سے پورا کر سکتا ہے۔
ریموٹ ورک ماڈل اور لاگت میں کمی
پاکستان میں مقیم تقریباً 500 ماہرین — جن میں 43 فیصد سینئر عملہ شامل ہے — 18 شہروں سے مشریق دبئی کے لیے بغیر کسی مقامی دفتر کے کام کرتے ہیں۔
مشریق پاکستان کے عملے کی تعداد 250 سے 300 افراد پر مشتمل ہے، جو روایتی بینکوں کی ہزاروں کی تعداد سے کہیں کم ہے۔ بغیر برانچ کے ریموٹ ماڈل اور محدود عملے کے ساتھ کام کرنا بینکاری اخراجات کو نمایاں طور پر کم کرتا ہے۔
ای کامرس میں اضافہ اور مشرق کی حکمت عملی
مشرق یہ بھی تسلیم کرتا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ 12 سے 15 سال کے دوران ای کامرس کے شعبے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ صارفین کی عادات تیزی سے فزیکل خریداری سے ڈیجیٹل خریداری کی طرف منتقل ہو رہی ہیں۔
محمد ہمایوں سجاد کے مطابق بینک اس رجحان میں مواقع دیکھ رہا ہے، اور توقع ہے کہ ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافے سے ای کامرس میں مزید وسعت آئے گی۔ مشرق کا انفرااسٹرکچر اور شراکت داروں کے ساتھ تعلقات ای کامرس کی ادائیگیوں، لاجسٹکس، بینکوں اور پلیٹ فارمز کے بدلتے ہوئے ایکو سسٹم کو مؤثر انداز میں سپورٹ کر سکتے ہیں، تاکہ صارفین کی اپنانے کی شرح میں اضافہ ہو، سجاد نے بتایا۔
کاپی رائٹ: بزنس ریکارڈر، 2025

























Comments
Comments are closed.