BR100 Increased By (0.8%)
BR30 Increased By (1.35%)
KSE100 Increased By (0.88%)
KSE30 Increased By (0.73%)
BAFL 56.43 Increased By ▲ 0.72 (1.29%)
BIPL 23.31 Decreased By ▼ -0.21 (-0.89%)
BOP 27.51 Increased By ▲ 0.29 (1.07%)
CNERGY 12.72 Increased By ▲ 0.42 (3.41%)
DFML 15.88 Decreased By ▼ -0.18 (-1.12%)
DGKC 183.30 Increased By ▲ 1.86 (1.03%)
FABL 90.70 Increased By ▲ 0.96 (1.07%)
FCCL 52.62 Increased By ▲ 1.01 (1.96%)
FFL 12.97 Decreased By ▼ -0.11 (-0.84%)
GGL 19.66 Increased By ▲ 0.61 (3.2%)
HBL 284.62 Increased By ▲ 2.50 (0.89%)
HUBC 188.62 Increased By ▲ 0.31 (0.16%)
HUMNL 8.11 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
KEL 5.80 Increased By ▲ 0.15 (2.65%)
LOTCHEM 22.93 Increased By ▲ 0.42 (1.87%)
MLCF 90.41 Increased By ▲ 1.58 (1.78%)
OGDC 302.46 Increased By ▲ 1.54 (0.51%)
PAEL 32.75 Increased By ▲ 0.35 (1.08%)
PIBTL 13.21 Increased By ▲ 0.32 (2.48%)
PIOC 233.50 Increased By ▲ 6.22 (2.74%)
PPL 215.27 Increased By ▲ 2.91 (1.37%)
PRL 96.09 Increased By ▲ 0.38 (0.4%)
SNGP 90.20 Increased By ▲ 0.47 (0.52%)
SSGC 22.72 Increased By ▲ 0.19 (0.84%)
TELE 6.71 Increased By ▲ 0.16 (2.44%)
TPLP 11.52 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
TRG 54.71 Increased By ▲ 1.03 (1.92%)
UNITY 7.72 Increased By ▲ 0.02 (0.26%)
WTL 0.96 Increased By ▲ 0.08 (9.09%)

امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے بعد عالمی اقتصادی منظرنامے میں پائی جانے والی غیر یقینی صورتحال اور سرمایہ کاروں کی جانب سے امریکی فیڈرل ریزرو کے شرح سود کے فیصلے کا انتظار منگل کو خام تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا باعث بنا۔

برینٹ کروڈ فیوچرز 6 سینٹ یا 0.1 فیصد کی کمی سے 69.98 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کروڈ 11 سینٹ یا 0.2 فیصد کی کمی کے ساتھ 66.60 ڈالر پر رہا۔

دونوں کنٹریکٹس نے پچھلے سیشن میں 2 فیصد سے زائد اضافہ کیا تھا، اور پیر کو برینٹ نے 18 جولائی کے بعد اپنی بلند ترین سطح چھوا تھا۔

امریکہ اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی معاہدے کے تحت اگرچہ زیادہ تر یورپی اشیاء پر 15 فیصد درآمدی ٹیکس عائد کیا گیا ہے تاہم اس معاہدے نے دونوں بڑے اتحادیوں کے درمیان ایک مکمل تجارتی جنگ سے گریز کیا جو عالمی تجارت کے تقریباً ایک تہائی حصے کو متاثر کر سکتی تھی اور ایندھن کی طلب کے مستقبل پر منفی اثر ڈال سکتی تھی۔

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ یورپی یونین آئندہ برسوں میں امریکی توانائی کی 750 ارب ڈالر مالیت کی خریداری کرے گی، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے لیے اس ہدف کو حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ دوسری جانب یورپی کمپنیوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران امریکہ میں 600 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔

Comments

Comments are closed.