بھارت کی مالیاتی جرائم سے نمٹنے والی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کے روز ریلائنس انیل امبانی گروپ سے منسلک 35 مقامات پر چھاپے مارے۔ یہ کارروائی مبینہ منی لانڈرنگ اور عوامی فنڈز کی خرد برد کی تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، ایک سرکاری ذریعے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کیونکہ اسے میڈیا سے بات کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق ای ڈی کا الزام ہے کہ گروپ نے 2017 سے 2019 کے دوران وائی ای ایس بینک سے 30 ارب روپے (350 ملین ڈالر) کے قرضے حاصل کیے اور انہیں متعدد شیل کمپنیوں کے ذریعے خرد برد کرنے کا ایک مربوط منصوبہ بنایا۔ انیل امبانی گروپ پر الزام ہے کہ قرضوں کی اجرا سے قبل وائی ای ایس بینک کے حکام کو رشوت دی گئی اور قرضوں کی منظوری میں بینک کے داخلی قواعد کی خلاف ورزی کی گئی۔
ریلائنس گروپ اور وائی ای ایس بینک نے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔ انل امبانی، جو ارب پتی مکیش امبانی کے چھوٹے بھائی ہیں، کے گروپ کی کئی کمپنیاں 2017 کے بعد سے دیوالیہ ہو چکی ہیں۔ وائی ای ایس بینک، جس سے گروپ نے بھاری قرضے لیے تھے، کو 2020 میں دیوالیہ قرار دیا گیا اور بعد میں مرکزی بینک کی منظوری سے بھارتی قرض دہندگان کے ایک گروپ نے اسے سنبھالا۔
تحقیقات میں قرضوں کی منظوری کے عمل میں سنگین خلاف ورزیاں سامنے آئیں، جیسے کمزور مالی حیثیت والی کمپنیوں کو قرض دینا، کریڈٹ میموز کو پچھلی تاریخوں پر تیار کرنا، ’’ایورگریننگ‘‘ یعنی ناقص قرضوں کو چھپانے کے لیے نئے قرض جاری کرنا اور مالی اعداد و شمار میں ہیر پھیر کرنا۔
وائی ای ایس بینک کے سابق پروموٹر رنا کپور پر 2020 میں بینک فراڈ کا الزام لگا اور انہیں گرفتار کیا گیا، تاہم 2024 میں ممبئی کی خصوصی عدالت نے انہیں ضمانت دے دی۔ انیل امبانی گروپ کی کمپنیوں پر حالیہ برسوں میں متعدد ضابطہ جاتی کارروائیاں ہوئیں۔ اگست 2024 میں ایس ای بی آئی نے فنڈز کے غلط استعمال پر انیل امبانی اور 24 دیگر افراد کو پانچ سال کے لیے سیکیورٹیز مارکیٹ سے پابندی عائد کر دی۔
تازہ تحقیقات کی خبر سامنے آنے کے بعد ریلائنس انفراسٹرکچر اور ریلائنس پاور کے حصص جمعرات کو 5 فیصد تک گر گئے۔





















Comments
Comments are closed.