بینک دولتِ پاکستان کے ذیلی ادارے بینکنگ سروسز کارپوریشن نے کسانوں میں مالی خواندگی کو فروغ دینے پر اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے بینکوں کو ایوارڈ سے نوازا۔
اسٹیٹ بینک بینکنگ سروسز کارپوریشن نے اسٹیٹ بینک کراچی میں ایک ایوارڈ تقریب کا انعقاد کیا، جس میں زرعی مالیاتی خواندگی پروگرام میں نمایاں خدمات انجام دینے والے بینکوں کو سراہا گیا۔
سال 2023 میں شروع ہونے والا زرعی مالی خواندگی پروگرام ایس بی پی- بی ایس سی کا اپنی طرز کا ایک منفرد اقدام ہے جسے اسٹیٹ بینک کے شعبہ زرعی قرضہ و مالی شمولیت کا تعاون حاصل ہے۔ پروگرام کا مقصد کسانوں، خاص طور پر بینک سے متعارف ہونے والے نئے کسانوں، خواتین، اور محروم طبقات میں مالی خواندگی بڑھانا ہے تاکہ وہ قرضوں کے باضابطہ نظام سے آگاہ ہوں اور قرضوں کے حصول سے متعلق بہتر فیصلے کرسکیں ۔
اپنے دوسرے سال کے دوران اے ایف ایل پی نے ملک بھر میں اپنی سرگرمیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا اور 6,326 آگاہی سیشن منعقد کیے، ان سیشن کے ذریعے 105,000 کسانوں کو بینکاری نظام سے منسلک کرنے میں مدد ملی جن میں 10,740 خواتین کاشتکار بھی شامل تھیں۔ مزید برآں 3,297 سیشن سہولتوں سے نیم محروم اضلاع میں منعقد کیے گئے، چنانچہ کم رسائی والے علاقوں میں بھی زرعی خواندگی کا پیغام پہنچایا گیا۔ معیار اور تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے 400 سے زیادہ سیشن ایس بی پی- بی ایس سی کے فیلڈ دفاتر نے اپنی نگرانی میں منعقد کرائے۔
اس پروگرام کے انتہائی حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے۔ آگاہی سیشن میں شرکت کے بعد 18,000 سے زائد کسانوں نے زرعی قرضے حاصل کیے اور زرعی قرضوں کی تقسیم کا حجم 21.47 ارب روپے سے تجاوز کرگیا۔ آگاہی سیشن میں شرکت کے بعد قرضہ لینے والے کسانوں کا جو تناسب اس پروگرام کے پہلے سال 4 فیصد تھا وہ دوسرے سال بڑھ کر 17.12 فیصد ہو گیا، یہ اضافہ ظاہر کرتا ہے کہ آگاہی کو عملی مالی اقدام میں بدلنے کے حوالے سے یہ پروگرام بہت موثر ہے۔
اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید ثمر حسنین نے تقریب سے خطاب میں انعام یافتہ بینکوں کو مبارکباد دی اور ان کی مستقل مزاجی اور عملی میدان میں کوششوں کی تعریف کی۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ ’مالی شمولیت کی شروعات آگاہی سے ہوتی ہے محض رسائی سے نہیں اور آگاہی کو عمل میں بدلنے کی کنجی خواندگی ہے۔
تقریب میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور ایس بی پی- بی ایس سی کے سینئر افسران، بینکاری شعبے کے نمائندوں، اور فیلڈ اسٹاف نے شرکت کی۔
























Comments
Comments are closed.