قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) نے پنجاب، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے مختلف علاقوں میں ممکنہ اچانک سیلاب کے خدشے کے پیش نظر موسمی الرٹ جاری کر دیا ہے۔
سرکاری نشریاتی ادارے پی ٹی وی کے مطابق شدید بارشوں کا سلسلہ 17 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے، جو خاص طور پر نشیبی اور پہاڑی علاقوں میں سنگین خطرات پیدا کر سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے متاثرہ صوبوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، گھروں میں رہیں اور مقامی موسمی صورتحال پر مسلسل نظر رکھیں۔ متعلقہ علاقوں میں ریسکیو ٹیمیں ہائی الرٹ پر ہیں اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ حالات کے مطابق مزید ہدایات بھی جاری کی جائیں گی۔
یہ انتباہ پاکستان میں مون سون کے موسم کی شدت کے دوران جاری کیا گیا ہے۔ موجودہ موسمی نظام بھارت کے شمال مغربی مدھیہ پردیش میں کم دباؤ کے علاقے اور ایک فعال مغربی ہوا کے سلسلے کی وجہ سے مضبوط مون سون ہواؤں کا حامل ہے۔
این ڈی ایم اے کی پیش گوئی کے مطابق پنجاب کے مری، گلیات، اسلام آباد/راولپنڈی، ڈیرہ غازی خان کے پہاڑی ندی نالے اور شمال مشرقی پنجاب کے علاقے خاص طور پر اچانک سیلاب اور شہری سیلاب کے خطرے سے دوچار ہیں۔
لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور فیصل آباد جیسے شہروں کے نشیبی علاقے بھی پانی جمع ہونے کا سامنا کر سکتے ہیں۔ مری جیسے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور پتھروں کے گرنے کا بھی خدشہ ہے۔
خیبر پختونخوا کے دیر، چترال، سوات، کوہستان، مانسہرہ، ایبٹ آباد، ہری پور اور پشاور اضلاع میں شدید سے بہت شدید بارش متوقع ہے، جس سے مقامی ندی نالوں میں طغیانی، شہری سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
بلوچستان کے شمال مشرقی اور جنوبی حصوں میں، بشمول کوئٹہ، ژوب، قلعہ سیف اللہ اور خضدار میں بارش، تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش متوقع ہے، جو مقامی ندی نالوں میں اچانک سیلاب کا باعث بن سکتی ہے۔
حکام کمیونٹی کی تیاری یعنی مقامی لوگوں کی طرف سے ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے حفاظتی اقدامات کرنے، نکاسی آب کے نظام کو صاف رکھنے، اور ایک دوسرے کی مدد کے لیے تیار رہنے کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ فوری ردعمل کی ٹیموں کی مکمل تیاری کو بھی یقینی بنایا جا رہا ہے۔ عوام کو سخت احتیاط برتنے، سیلابی راستوں یا پلوں پر جانے سے گریز کرنے اور اپنی قیمتی اشیاء کو محفوظ رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
شہری سرکاری ذرائع، بشمول این ڈی ایم اے اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی/ضلعی اداروں کی انتظامیہ سے تازہ ترین صورتحال حاصل کر کے خود کو باخبر رکھ سکتے ہیں۔ مون سون کے موسم نے جون کے آخر سے پاکستان بھر میں 110 سے زائد جانیں لے لی ہیں، جن میں برقی حادثات اور اچانک سیلاب بنیادی وجوہات ہیں، جو موجودہ موسمی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔






















Comments
Comments are closed.