ایئر انڈیا طیارہ حادثے کی ابتدائی رپورٹ جاری،فیول کنٹرول سوئچز کے ٹیک آف پوزیشن میں جانے کا انکشاف
ایئر انڈیا طیارے کے احمد آباد میں حادثے کے پورے ایک ماہ بعد اس کی ابتدائی رپورٹ جاری کردی گئی۔ جون کو ہونے والے حادثے میں حکام کے مطابق کم از کم 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور یہ انڈیا میں کئی دہائیوں کے بدترین ہوابازی کے حادثے میں سے ایک ہے۔
بھارتی حادثہ تحقیقاتی ادارے کی جانب سے ہفتے کو جاری کی گئی ابتدائی رپورٹ میں طیارے کے حادثے کی اصل وجوہات پر روشنی ڈالی گئی لیکن ابھی بھی بہت سے سوالات کے جواب طلب ہیں۔
حادثے کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ ایئر انڈیا کے طیارے کے انجنوں کے فیول کنٹرول سوئچز حادثے سے چند لمحے قبل رن (چالو) پوزیشن سے کٹ آف (بند) پوزیشن پر منتقل ہو گئے جس کے باعث دونوں انجنوں کو ایندھن کی فراہمی بند ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق احمد آباد سے لندن جانے والا بوئنگ 787 ڈریم لائنر جیسے ہی انجنوں کی طاقت سے محروم ہوا، فوری طور پر اس کی رفتار کم ہونے لگی اور وہ نیچے گرنے لگا۔
بھارت کے ایئرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹیگیشن بیورو (اے اے آئی بی) کی رپورٹ، جو 12 جون کو ٹیک آف کے فوراً بعد ہونے والے حادثے سے متعلق ہے، ایندھن کے اہم انجن کٹ آف سوئچز کی پوزیشن پر نئے سوالات اٹھاتی ہے جبکہ یہ عندیہ بھی دیتی ہے کہ بوئنگ اور انجن ساز کمپنی جی ای کی اس حادثے میں بظاہر کوئی ذمہ داری نہیں بنتی، یہ حادثہ ٹاٹا گروپ کیلئے ایک چیلنج ہے جو 2022 میں حکومت سے ایئر انڈیا کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد اس کی ساکھ بحال کرنے اور بیڑے کو جدید بنانے کی ایک پرجوش مہم چلارہا ہے۔
جیسے ہی طیارہ زمین سے بلند ہوا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں یہ دیکھا جاسکتا ہے کہ رام ایئر ٹربائن خودبخود فعال ہوگیا — جو اس بات کی علامت ہے کہ انجنوں نے طاقت فراہم کرنا بند کردی تھی۔
پرواز کے آخری لمحے میں کاک پٹ وائس ریکارڈر پر ایک پائلٹ کو دوسرے سے یہ پوچھتے سنا گیا کہ اُس نے ایندھن کی فراہمی کیوں بند کی؟ رپورٹ کے مطابق، دوسرے پائلٹ نے جواب دیا کہ اُس نے ایسا نہیں کیا۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ یہ جملے پرواز کے کپتان نے کہے یا فرسٹ آفیسر نے اور نہ ہی یہ بتایا گیا کہ حادثے سے فوراً پہلے ”میڈے، میڈے، میڈے“ کا پیغام کس پائلٹ دیا۔
ایئرانڈیا طیارے کے کمانڈنگ پائلٹ سمیت سبھروال تھے جن کی عمر 56 سال تھی اور ان کے کل پرواز کا تجربہ 15,638 گھنٹے کا تھا۔ بھارتی حکومت کے مطابق وہ ایئر انڈیا کے انسٹرکٹر بھی تھے۔ ان کے شریک پائلٹ کلائیو کنڈر تھے جن کی عمر 32 سال تھی اور ان کا مجموعی پرواز کا تجربہ 3,403 گھنٹے تھا۔
ٹیک آف کے فوراً بعد ایندھن کے سوئچز تقریباً ایک ہی وقت میں رن سے کٹ آف کی پوزیشن پر چلے گئے۔ ابتدائی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ پرواز کے دوران یہ سوئچز کٹ آف پوزیشن پر کیسے چلے گئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئی پائلٹ حادثاتی طور پر ایندھن کے سوئچز کو حرکت نہیں دے سکتا۔
امریکی ماہر انتھونی برک ہاؤس نے سوال اٹھایا کہ اگر یہ سوئچز کسی پائلٹ کی وجہ سے حرکت میں آئے، تو کیوں؟
رپورٹ کے مطابق ایندھن کے سوئچز ایک دوسرے سے ایک سیکنڈ کے وقفے سے پلٹے جو کہ امریکی ہوابازی ماہر جان نینس کے مطابق اتنا وقت ہے جتنا ایک کے بعد دوسرا سوئچ پلٹنے میں لگتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کوئی پائلٹ عام حالات میں پرواز کے دوران، خاص طور پر جب طیارہ بلندی کی جانب بڑھ رہا ہو ان سوئچز کو کبھی بند نہیں کرتا۔
رپورٹ کے مطابق جائے حادثہ پر دونوں ایندھن کے سوئچز رن پوزیشن میں پائے گئے اور دونوں انجنوں کے دوبارہ جلنے کے آثار بھی موجود تھے، اس سے پہلے کہ کم بلندی پر طیارہ گر کر تباہ ہو گیا۔
ایئر انڈیا نے ایک بیان میں اس رپورٹ کی تصدیق کی۔ فضائی کمپنی نے کہا کہ وہ بھارتی حکام کے ساتھ تعاون کررہی ہے تاہم انہوں نے اس معاملے پر مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے ایک بیان میں بھارتی حکام کا تعاون پر شکریہ ادا کیا اور یہ نوٹ کیا کہ رپورٹ میں بوئنگ 787 طیاروں یا جی ای انجنوں کے آپریٹرز کے لیے کوئی سفارشات شامل نہیں تھیں۔
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے کہا کہ اس کی اولین ترجیح حقائق کا پتہ لگانا ہے، چاہے وہ جہاں بھی لے جائیں، اور وہ اس عمل کے دوران سامنے آنے والے کسی بھی ممکنہ خطرے کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
بوئنگ نے کہا کہ وہ تحقیقات اور اپنے صارف، ایئر انڈیا، دونوں کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔ جی ای ایرو اسپیس نے تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
طیارہ حادثے کی چھان بین
بھارتی وزارت شہری ہوا بازی کے تحت کام کرنے والا ادارہ اے اے آئی بی اس حادثے کی تحقیقات کی قیادت کررہا ہے، جس میں طیارے پر سوار 242 میں سے صرف ایک شخص زندہ بچا جب کہ زمین پر موجود مزید 19 افراد بھی ہلاک ہو گئے۔
طیارے کے بلیک باکس، جن میں کاک پٹ وائس ریکارڈر اور فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر شامل ہوتے ہیں، حادثے کے بعد چند دنوں میں برآمد کر لیے گئے تھے اور بعد میں بھارت میں ان کا ڈیٹا ڈاؤن لوڈ کیا گیا۔
بلیک باکس اہم معلومات فراہم کرتے ہیں، جیسے کہ پرواز کی بلندی، ہوائی رفتار، اور پائلٹس کی آخری گفتگو، جو حادثے کی ممکنہ وجوہات کا تعین کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
حادثے کے بعد سے ایئر انڈیا شدید جانچ پڑتال کی زد میں ہے۔

























Comments
Comments are closed.