واشنگٹن میں چینی سفارتخانے کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی ہم منصب شی جن پنگ کے درمیان جمعرات کو ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے جس کا مقصد اُن ٹیرف پر اختلافات کو دور کرنا تھا جنہوں نے عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔
چین کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت ٹرمپ کی درخواست پر ہوئی تاہم دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
وائٹ ہاؤس نے فوری طور پر اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
انتہائی متوقع ٹیلی فونک گفتگو ایسے وقت پر ہوئی ہے جب حالیہ ہفتوں میں واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان اہم معدنیات پر الزامات کا تبادلہ ہوا ہے جو دونوں بڑی معیشتوں کے درمیان تجارتی جنگ میں موجود نازک اتفاق رائے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
دونوں ممالک نے 12 مئی کو ایک 90 روزہ معاہدہ کیا تھا جس کے تحت انہوں نے ایک دوسرے پر ردعمل میں 3 ہندسوں میں لگائے گئے محصولات کو جزوی طور پر واپس لینے پر اتفاق کیا تھا۔
اگرچہ اس معاہدے کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں بہتری آئی، لیکن یہ عارضی معاہدہ دوطرفہ تعلقات میں تناؤ پیدا کرنے والے وسیع تر مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہا جن میں غیر قانونی فینٹانائل کی تجارت، جمہوری طور پر چلنے والے تائیوان کی حیثیت اور چین کی ریاستی غلبے والی، برآمدات پر مبنی معیشت پر امریکی اعتراضات شامل ہیں۔
جمعرات کے روز امریکی اسٹاک مارکیٹ میں ابتدائی طور پر معمولی اضافہ دیکھا گیا تاہم ٹرمپ اور شی کے درمیان فون کال کی خبر کے بعد مارکیٹ میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی۔
جنوری میں وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے صدر ٹرمپ نے بارہا مختلف تجارتی شراکت داروں کو سخت پابندیوں کی دھمکیاں دیں لیکن اکثر ان میں سے کچھ اقدامات کو آخری لمحے پر واپس لے لیا۔ ان کے اس ”کبھی ہاں، کبھی ناں“ والے رویے نے عالمی رہنماؤں کو الجھن میں ڈال دیا ہے اور کاروباری رہنماؤں کو بھی پریشان کر دیا ہے جو کہتے ہیں کہ اس غیر یقینی صورتحال نے مارکیٹ کی پیش گوئی کو مشکل بنا دیا ہے۔
چین کی جانب سے اپریل میں اہم معدنیات اور میگنٹس کی برآمدات معطل کرنے کے فیصلے نے دنیا بھر میں آٹو مینوفیکچررز، کمپیوٹر چپ ساز اداروں، اور دفاعی کنٹریکٹرز کو درکار سپلائی چین کو متاثر کیا ہے۔
بیجنگ ان معدنیات کو ایک دباؤ کے ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے — ان کی برآمدات روکنے سے امریکی معیشت پر منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، جس سے ریپبلکن صدر ٹرمپ کو سیاسی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے اگر کمپنیاں مطلوبہ مصنوعات تیار نہ کر سکیں۔
محصولات اور تجارتی پابندیوں کو واپس لینے سے متعلق 90 روزہ معاہدہ کمزور بنیادوں پر کھڑا ہے۔ ٹرمپ نے چین پر اس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے اور چپ ڈیزائن سافٹ ویئر سمیت دیگر اشیاء کی برآمدات پر پابندیوں کا حکم دیا ہے جب کہ اسٹیل اور ایلومینیم پر محصولات کو دوگنا کر کے 50 فیصد کر دیا ہے۔ چین نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے جوابی اقدامات کی دھمکی دی ہے۔
حالیہ برسوں میں امریکہ نے چین کو اپنا سب سے بڑا جغرافیائی حریف قرار دیا ہے — دنیا کا واحد ملک جو اقتصادی اور عسکری لحاظ سے امریکہ کو چیلنج کر سکتا ہے۔
اس سب کے باوجود اور بار بار کی تجارتی دھمکیوں کے باوجود ٹرمپ نے چینی صدر شی جن پنگ کی سخت مزاجی اور بغیر مدت کی حدود کے اقتدار میں رہنے کی صلاحیت کی تعریف کی ہے۔
ٹرمپ طویل عرصے سے شی کے ساتھ کال یا ملاقات کے خواہاں رہے ہیں لیکن چین نے ہمیشہ یہ مؤقف اپنایا ہے کہ ایسے رہنماؤں کی سطح پر رابطے اُس وقت ہی کیے جاتے ہیں جب معاہدے کی تفصیلات پہلے ہی نچلی سطح پر طے پا چکی ہوں۔
ٹرمپ اور ان کے مشیر ان رہنما سطح کی بات چیت کو اہم سمجھتے ہیں تاکہ ان مسائل کو حل کیا جا سکے جو نچلی سطح کے مذاکرات کاروں کو الجھا رہے ہیں۔
یہ واضح نہیں کہ دونوں رہنماؤں کی آخری بار کب بات ہوئی تھی۔
دونوں جانب سے کہا گیا تھا کہ انہوں نے 17 جنوری کو، ٹرمپ کی حلف برداری سے چند روز قبل، بات کی تھی۔ ٹرمپ بعد میں بار بار یہ کہتے رہے کہ انہوں نے 20 جنوری کو صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد شی سے بات کی ہے تاہم انہوں نے کسی کال کی تاریخ یا بات چیت کی تفصیلات نہیں بتائیں۔ چین کا مؤقف تھا کہ حالیہ دنوں میں ایسی کوئی کال نہیں ہوئی۔
اس بات چیت پر سرمایہ کار غور کررہے ہیں جو اس خدشے میں مبتلا ہیں کہ اگر تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کرتی ہے تو وہ کارپوریٹ منافع اور سپلائی چینز کو متاثر کر سکتی ہے، خاص طور پر کرسمس شاپنگ سیزن سے قبل کے اہم مہینوں میں۔
ٹرمپ کی محصولات سے متعلق پالیسیوں پر امریکہ کی عدالتوں میں بھی مقدمات زیر سماعت ہیں۔
ٹرمپ اور شی نے ماضی میں کئی بار ملاقاتیں کیں، جن میں 2017 میں ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے بھی شامل ہیں، لیکن ان کی آخری بالمشافہ ملاقات 2019 میں جاپان کے شہر اوساکا میں ہوئی تھی۔
شی نے آخری بار نومبر 2023 میں امریکہ کا دورہ کیا تھا، جب ان کی اس وقت کے صدر جو بائیڈن سے ملاقات ہوئی تھی، جس کے نتیجے میں عسکری روابط کی بحالی اور فینٹانائل کی پیداوار پر قابو پانے کے معاہدے ہوئے تھے۔

























Comments
Comments are closed.