BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)

ونسٹن چرچل نے ایک بار کہا تھا: ”جتنا پیچھے جا کر آپ دیکھیں گے، اتنا ہی آگے آپ دیکھ سکیں گے۔“ حالیہ تجارتی جنگ کا شدت اختیار کرنا اور بکھرتا ہوا عالمی معاشی نظام حیرت انگیز طور پر پہلی جنگِ عظیم سے پہلے کے دور کی یاد دلاتا ہے۔ انیسویں صدی کے اختتام تک، عالمی معیشت پہلے ہی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو رہی تھی۔

جرمنی، فرانس، اٹلی اور امریکہ میں لگائے گئے جوابی محصولات کی لہر نے 1800 کی دہائی کے آزاد تجارتی نظریے کو چکناچور کر دیا۔ جب معیشتیں ایک دوسرے سے کٹنے لگیں تو 1873 کے مالی بحران جیسے حالات نے مغرب کو مختلف اقتصادی بلاکس میں تقسیم کر دیا، جو بالآخر پہلی جنگِ عظیم پر منتج ہوئے۔ ایک صدی بعد، جب دنیا کی بڑی معیشتیں ایک دوسرے سے ٹکرا رہی ہیں، تو ہم ایک نئے معاشی نظام کو ابھرتے دیکھ رہے ہیں، جس میں مختلف بلاکس ایک دوسرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ مارک ٹوین نے کہا تھا، شاید ہم تاریخ کو ایک بار پھر ”قافیہ بندی“ کرتے دیکھ رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ”یومِ آزادی“ محصولات نے اُس کثیرالملکی تجارتی نظام کو نقصان پہنچایا ہے جسے ان کے پیش رو قائم رکھنے کی کوشش کرتے رہے تھے۔ ایک جامع 10 فیصد محصول کے بعد چینی درآمدات پر 145 فیصد کا جوابی وار کیا گیا۔ چین نے اس کا جواب 125 فیصد محصولات اور یوآن کی قدر میں کمی سے دیا۔ جب عالمی سپلائی چینز متاثر ہوئیں تو ٹرمپ نے امریکی ٹیکنالوجی لابی کے دباؤ کے آگے جھکتے ہوئے چند اہم شعبوں — جیسے اسمارٹ فونز، لیپ ٹاپس، اور سیمی کنڈکٹرز — کو محصولات سے مستثنیٰ قرار دے دیا۔

ادھر پاکستان جیسے ممالک کے پاس صرف 90 دن کی مہلت ہے، جب تک کہ 10 فیصد محصول بڑھ کر 29 فیصد نہ ہو جائے۔ عالمی تجارتی تنظیم (ڈبلیو ٹی او) کے مطابق، اس سال عالمی تجارت میں 0.2 فیصد کمی آئے گی — اور اگر محصولات سے متعلق غیر یقینی صورتحال امریکہ سے آگے پھیل گئی تو یہ کمی 1.5 فیصد تک جا سکتی ہے۔ ایسی گراوٹ صرف شدید بحران کے ادوار، جیسے 2020 اور 2009، میں دیکھی گئی تھی۔ ڈبلیو ٹی او کے طریقۂ کار مفلوج ہو چکے ہیں۔ اب عالمی تجارت قواعد پر نہیں، بلکہ بلاکس پر مبنی ہو چکی ہے۔

ایک ایسی دنیا میں جو معاشی خطوط پر مسلسل منقسم ہوتی جا رہی ہے، تین متصادم نظریات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ امریکہ ”قومی سرمایہ داری“ (نیشنل کیپٹل ازم) کا علمبردار بن چکا ہے: مقامی صنعت کاری کی بحالی، دو طرفہ دباؤ، اور محصولات کے ذریعے تحفظ۔ یورپ ”ٹیکنوکریٹک سرمایہ داری“ کی طرف مائل ہے—ایک ایسا نظام جو قواعد پر مبنی سبسڈی اسکیموں، کاربن نیوٹرل پالیسیوں، مصنوعی ذہانت کے ضوابط، اور ڈیجیٹل خدمات سے جڑا ہوا ہے۔ اس کے برعکس، چین نے ”حکومتی سرمایہ داری“ (کمانڈ کیپٹل ازم) کو اپنایا ہے: مرکزیت پر مبنی بیل آؤٹس، اپنی ”قومی ٹیم“ کے ذریعے ایکویٹی مارکیٹ کا استحکام، اور جھٹکوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سبسڈی یافتہ ضرورت سے زائد پیداوار۔

ایشیائی ممالک ایک درمیانی راستہ اختیار کر رہے ہیں، جسے “ عملی تکثیریت“ (پریگمیٹک پلورل ازم) کہا جا سکتا ہے؛ ایسا راستہ جو سفارت کاری کو نئی صف بندی کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس شطرنج کی بازی میں، ممالک بیک وقت مختلف بلاکس کے ساتھ کھیل رہے ہیں۔ بھارت، سنگاپور، اور جنوبی کوریا جیسے ممالک شرح سود کم کر رہے ہیں اور ہدفی سفارت کاری، محتاط اصلاحات، اور صنعتی سبسڈیز کے ذریعے معاشی ہچکولوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ ممالک تمام بڑی طاقتوں کے ساتھ رابطے میں ہیں، دو طرفہ معاہدوں پر کام کر رہے ہیں، اور سخت نظریاتی وابستگی کے بغیر سپلائی چینز کو جذب کر رہے ہیں۔ پاکستان، تاہم، اس دوڑ میں دیر سے شامل ہوا ہے اور اب اسے تیزی سے قدم سے قدم ملا کر آگے بڑھنا ہوگا۔

9 اپریل کو، امریکہ نے پاکستان پر محصولات 29 فیصد تک بڑھا دیے، جس کی وجہ پاکستان کا 2.99 ارب ڈالر کا تجارتی سرپلس تھا۔ بعد ازاں، 90 دن کی ایک انتظامی مہلت کے تحت یہ محصولات عارضی طور پر دوبارہ بنیادی سطح یعنی 10 فیصد پر آ گئے۔ لیکن یہ مہلت کسی ریلیف سے زیادہ ایک الٹی گنتی ہے،ایسی صورتحال جس میں پاکستان کو حکمتِ عملی سے کام لینا ہوگا۔ اگر اس مہلت کے بعد پاکستان کوئی مؤثر کیس پیش نہ کر سکا، تو محصولات دوبارہ بڑھائے جا سکتے ہیں۔

صورتحال نازک ہے۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پی آئی ڈی ای) کی ایک پالیسی نوٹ کے مطابق، ان محصولات کے نافذ ہونے سے پاکستان کو سالانہ 1.4 ارب ڈالر تک کا نقصان ہو سکتا ہے اور 5 لاکھ سے زائد ملازمتیں ختم ہونے کا خدشہ ہے، خصوصاً ٹیکسٹائل کے شعبے میں، جو کہ امریکہ کو پاکستان کی کل برآمدات کا 76 فیصد ہے۔ یہ ایک ڈومینو اثر پیدا کرے گا جو دوسرے شعبوں کو بھی متاثر کرے گا،خصوصاً وہ جو سرجیکل آلات، چمڑا، چاول اور کھیلوں کا سامان تیار کرتے ہیں۔ پی آئی ڈی ای کی رپورٹ ان محصولات کو صرف ایک چیلنج نہیں، بلکہ ”گہری برآمدی تنوع“ کے لیے ایک انتباہ قرار دیتی ہے،ایک ایسا لمحہ جو پاکستان کو اپنی برآمدات کی بنیاد کو وسیع کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

اور پھر ایک منفرد تضاد بھی ہے جو اس پوری صورتحال میں کارفرما ہے۔ سال 2024 میں پاکستان امریکہ سے روئی کا سب سے بڑا درآمد کنندہ تھا۔ وہ خام روئی درآمد کرتا ہے، اسے پراسیس کر کے تیار ملبوسات میں تبدیل کرتا ہے — جن میں سے ایک بڑی مقدار دوبارہ امریکہ کو برآمد کی جاتی ہے۔ یہ ایک نایاب دو طرفہ ویلیو چین ہے۔

ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (EFS)، جو مقامی خام مال پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرتی ہے، اس بڑی درآمد میں اہم کردار ادا کر چکی ہے، کیونکہ برآمد کنندگان امریکی روئی کو ترجیح دیتے ہیں، جس پر یہ ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، جب کہ مقامی روئی ٹیکس سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

یہ خاص نکتہ ٹرمپ کی محصولات کی منطق میں براہ راست فٹ بیٹھتا ہے: جتنا زیادہ تجارتی سرپلس، اتنی ہی زیادہ شرحِ محصول۔

وزیراعظم نے، خطرے کو بھانپتے ہوئے — یا شاید آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت — چند روز قبل ای ایف ایس سے متعلق ٹیکس استثنیٰ روک دیا۔ اس اقدام سے پاکستان کا یہ مؤقف کمزور نہیں ہوتا کہ اس کی ٹیکسٹائل برآمدات امریکی زراعت کی معاون ہیں۔ لیکن اس کا ایک بھاری خمیازہ بھی ہے۔ 120 سے زائد سپننگ ملیں بند ہو چکی ہیں، مقامی جنرز بحران کا شکار ہیں، اور پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) ریکارڈ کم پیداوار کی وارننگ دے چکی ہے۔ مستحکم ٹیکس نظام یا سپورٹ پرائس کے بغیر، پاکستان کی کپاس پر مبنی معیشت دونوں سروں سے ڈھیر ہوتی جا رہی ہے۔

حل آسان نہیں، لیکن ایک مؤثر حکمتِ عملی ضرور موجود ہے۔

پاکستان کو خود کو ایک مربوط، ویلیو ایڈڈ شراکت دار کے طور پر پیش کرنا ہوگا—نہ کہ ایک تجارتی سرپلس کے خطرے کے طور پر۔ حال ہی میں، اسمارٹ فونز اور لیپ ٹاپس کو ایک صدارتی میمورنڈم کے تحت محصولات سے مستثنیٰ قرار دیا گیا—جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدفی سفارت کاری مؤثر نتائج دے سکتی ہے۔ لیکن روئی، اسمارٹ فونز کے برعکس، بحرالکاہل کے دونوں کناروں پر روزگار کا ذریعہ ہے۔ یہی دلیل واشنگٹن میں پاکستان کی سفارتی مہم کا مرکزی نکتہ ہونی چاہیے۔

ان تمام پیچیدگیوں کے باوجود، پاکستان کے لیے ٹیکسٹائل کے شعبے کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ریلیف دیگر ذرائع سے دیا جانا چاہیے: توانائی کی لاگت میں سبسڈی، تیز تر جی ایس ٹی ریفنڈز، کسٹمز کا ڈیجیٹائزیشن، ٹیکسٹائل میں تنوع، اور برآمدی شعبوں کے لیے خصوصی شرحِ سود زونز کا قیام۔

کراچی ٹیکسٹائل ایکسپو 2025 میں محصولات کے خطرات کے باوجود ریکارڈ شرکت دیکھی گئی—یہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر پاکستان مسابقتی رہے تو عالمی مانگ موجود ہے۔ مزید یہ کہ کئی اور شعبے سرمایہ کاری کے منتظر ہیں: ورک ویئر، ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، انٹیلیجنٹ فیبرکس(جن میں سینسرز، مائیکروچپس، یا خصوصی مواد شامل ہوتے ہیں) اور گرین اپیرل( ماحول دوست ملبوسات)۔

یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستان کو محض بچاؤ نہیں بلکہ جرات مندانہ اصلاحات اور عالمی معاشی بساط پر حکمت عملی سے کھیلنے کی ضرورت ہے۔

حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 کی ابتدائی نو مہینوں کے دوران پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات میں سال بہ سال 9.38 فیصد اضافہ ہوا، جو 12.44 ارب ڈالر سے بڑھ کر $13.62 ارب تک پہنچ گئیں۔ اس اضافے کی قیادت تیار ملبوسات اور نِٹ ویئر نے کی، جن کی برآمدی قدر میں بالترتیب 19.05 فیصد اور 16.82 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بیڈویئر، تولیوں اور کینوس مصنوعات کی برآمدات میں بھی مسلسل اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم، مجموعی صورتحال اب بھی نازک ہے۔

یارن کی برآمدات میں 32 فیصد کمی آئی، خام روئی کی برآمدات 98.45 فیصد تک گر گئیں، اور کاٹن کلاتھ کی مقدار بھی سکڑ گئی۔ حالانکہ پاکستان کے پاس 25 ارب ڈالر کی ممکنہ پیداواری صلاحیت موجود ہے، پھر بھی گزشتہ دو برسوں میں ٹیکسٹائل کی برآمدات بڑی حد تک جمود کا شکار رہی ہیں، جس کی اہم وجوہات میں بلند پیداواری لاگت اور ریفنڈز میں تاخیر شامل ہیں۔ برآمد کنندگان حکومت سے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں کہ جی ایس ٹی ریفنڈز اور ریبیٹ کلیئرنسز کو تیز کیا جائے کیونکہ ان کے بغیر موجودہ برآمدی رفتار رک سکتی ہے، خاص طور پر اگر امریکی محصولات دوبارہ نافذ ہو گئے۔

سفارتی سطح پر، پاکستان اب ایک نہایت اہم اور حساس مذاکرات میں داخل ہو رہا ہے۔ وزارتِ تجارت کا ایک وفد امریکی تجارتی حکام سے ملاقات کے لیے تیار ہے۔ یہ ملاقات صرف کپاس تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ معدنیات پر مبنی سفارت کاری تیزی سے ابھر رہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے حال ہی میں پاکستان کے قیمتی معدنی ذخائر کو سپلائی چین کی سلامتی کے لیے ”اسٹریٹیجک اہمیت“ کا حامل قرار دیا ہے۔ یہ ایک مضبوط دلیل ہے؛ اگر پاکستان ٹیکسٹائل سفارت کاری کو معدنیات اور ڈیجیٹل خدمات — جن سے پاکستان نے گزشتہ سال 3.2 ارب ڈالر کی آئی ٹی برآمدات حاصل کیں — کے ساتھ جوڑ دے، تو باہمی تعلقات کو زیادہ وسیع تناظر میں پیش کیا جا سکتا ہے۔

اسی دوران، اصلاحات کو تیز کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاکستان کا کسٹمز نظام اب بھی پرانا ہے، جو اب بھی کاغذی رسیدوں اور صوابدیدی جرمانوں پر انحصار کرتا ہے۔ قواعد 389 اور 391، جن کی حالیہ دنوں میں امریکی برآمد کنندگان نے نشاندہی کی ہے، تاخیر اور قیمت کے تعین میں تنازعات کا باعث بنے ہیں۔

یہاں تک کہ پاکستان کا اپنا سینیٹ بھی دو مرتبہ خطرے کی گھنٹی بجا چکا ہے۔ حالیہ سماعتوں میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت نے ایران سے آنے والے سامان کے ساتھ کسٹمز کی بدانتظامی پر تنقید کی، جس میں تاخیر اور من مانی جانچ کا ذکر کیا گیا۔ یہی مسائل — جو اب امریکی شکایات کی وجہ سے مزید اجاگر ہو چکے ہیں — برآمد کنندگان کے اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور تجارتی عمل میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

کسٹمز نظام میں اصلاح اب صرف کارکردگی کا مسئلہ نہیں رہا؛ یہ ایک اسٹریٹیجک بقا کا معاملہ بن چکا ہے۔ اس کے برعکس، بھارت نے جدید خود کار آن لائن شفاف نظام نافذ کر دیا ہے جس میں کسٹم افسر اور درآمد و برآمد کنندہ کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کردیا گیا ہے اور اب اس کی بدولت اہم بندرگاہوں پر کسٹمز کلیئرنس کا وقت 1 سے 2 دن تک محدود کر دیا گیا ہے۔

پاکستان میں بجلی کے حد سے زیادہ نرخوں پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ مہنگی بجلی کسی بھی مسابقتی برتری کو ختم کرنے کا خطرہ رکھتی ہے۔ پاکستان میں صنعتی بجلی کے نرخ فی کلو واٹ گھنٹہ 31.85 سے روپے 44.46 روپے تک ہیں — جو کہ چین کے مقابلے میں تقریباً دگنے اور بھارت و بنگلہ دیش کے 8 سے 12 روپے کے درمیان نرخوں کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہیں۔ اگر توانائی کے شعبے میں اصلاحات نہ کی گئیں، تو پاکستان کی صنعتی بنیاد مزید کمزور ہونے کا خدشہ ہے۔ اگر امریکہ کی جانب سے دوبارہ محصولات نافذ کیے گئے اور پیداواری لاگت پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستانی برآمدات اس قدر مہنگی ہو جائیں گی کہ وہ عالمی سطح پر مسابقت کھو بیٹھیں گی، خصوصاً ویتنام اور بنگلہ دیش جیسے ٹیکسٹائل برآمد کنندگان کے مقابلے میں۔

یہ سیکوینشل گیم تھیوری کی ایک کلاسیکی مثال ہے: پاکستان کو نہ صرف اپنے موجودہ اقدامات بلکہ مستقبل میں تجارتی سرپلس اور خام مال کے امتزاج میں ہونے والی تبدیلیوں کے تناظر میں امریکہ کے ممکنہ ردعمل کا بھی اندازہ لگانا ہوگا۔ اگر پاکستان اندرونی دباؤ کے باعث امریکی کپاس سے ہٹتا ہے، تو تجارتی سرپلس بڑھ جائے گا۔ اگر مہنگی بجلی اور پرانا کسٹمز نظام برآمدات کو غیر مسابقتی بنا دیتا ہے، تو امریکی خریدار دیگر ممالک کی طرف رخ کر لیں گے، اور اس صورت میں واشنگٹن میں محصولات سیاسی طور پر زیادہ قابلِ قبول ہو جائیں گے۔ لہٰذا، بہترین حکمت عملی پیشگی اقدام ہے: امریکی کپاس کی درآمد کے ذریعے دوطرفہ قدر پر مبنی تجارتی دائرہ برقرار رکھا جائے، سرپلس کے دباؤ کو کم کیا جائے اور جہاں ممکن ہو وہاں امریکی مشینری یا پیٹرولیم پر جوابی محصولات میں رعایت دی جائے۔

غیریقینی صورتحال کے باوجود امید کی وجوہات موجود ہیں۔ فِچ ریٹنگز نے رواں ماہ پاکستان کی درجہ بندی کو B- تک بہتر کیا ہے، جس کی وجہ ایک مستحکم معاشی منظرنامہ اور آئی ایم ایف کے ساتھ مسلسل مطابقت کو قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ چیلنجز بدستور موجود ہیں — جیسے کہ فروری میں بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں 1.9 فیصد کمی اور آئی ایم ایف کی سخت شرائط — یہ درجہ بندی ایک محتاط حد تک ادائیگی کی صلاحیت کی بحالی کی علامت ہے۔ اس سے پانڈا بانڈز اور گرین سکوک جیسے مارکیٹ پر مبنی مالیاتی آلات کے دروازے کھلتے ہیں، جو ڈالر پر انحصار کو کم کرتے ہیں اور خاص طور پر چینی سپلائی چینز سے جڑے انفراسٹرکچر کے ساتھ منسلک ہونے کی صورت میں یوآن پر مبنی ادائیگی کے نظام تک رسائی دیتے ہیں۔

اسلام آباد نے بھی اپنے امکانات پر غور شروع کر دیا ہے۔ بلومبرگ کے مطابق پاکستان امریکی کپاس اور سویابین کی درآمدات بڑھانے پر غور کر رہا ہے تاکہ اپنے 2.99 ارب ڈالر کے تجارتی سرپلس کو کم کیا جا سکے — ایک ایسی کوشش جو ٹرمپ کے محصولات کے بیانیے کو کمزور کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق، ان مشاورتوں میں ٹیکساس کا خام تیل خریدنے کی تجویز بھی شامل ہے، اگرچہ زیادہ فریٹ لاگت اور اندرونی اتفاقِ رائے کی کمی کے باعث حتمی فیصلہ تاخیر کا شکار ہے۔ اس کے باوجود، حکمتِ عملی واضح ہے: زیادہ حجم اور نمایاں درآمدات کے ذریعے تجارتی توازن کو ایڈجسٹ کرنا تاکہ دوطرفہ باہمی تعاون کا اشارہ دیا جا سکے اور ممکنہ تادیبی اقدامات سے قبل اقدام کیا جا سکے۔

پاکستان نے حال ہی میں مارچ 2025 میں 619 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا — جو گزشتہ سال مارچ کے مقابلے میں 229 فیصد اضافہ ہے، اور یہ 4.1 ارب ڈالر کی ریکارڈ ترسیلات زر کے باعث ممکن ہوا۔ مالی سال 2025 کے جولائی تا مارچ کے عرصے میں مجموعی سرپلس 1.85 ارب ڈالر رہا، جو کہ مالی سال 2024 کے اسی عرصے کے 1.65 ارب ڈالر خسارے سے ایک واضح تبدیلی ہے۔ اگرچہ اس سے روپے کو تقویت ملتی ہے اور قلیل مدتی بیرونی دباؤ کم ہوتا ہے، یہ صورتحال پاکستان کے محصولات کے مقدمے کو پیچیدہ بنا دیتی ہے۔

چونکہ پاکستان کا موجودہ کھاتہ سرپلس برآمدات نہیں بلکہ ترسیلات زر کی بنیاد پر ہے، اس بات کو واشنگٹن میں واضح طور پر بیان کرنا ضروری ہے کہ یہ سرپلس تجارتی بنیاد پر نہیں ہے۔ بصورتِ دیگر، اس سرپلس کو غیر منصفانہ تجارتی توازن کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے — جو ٹرمپ کے زیادہ محصولات کے مؤقف کو مزید تقویت دے گا۔اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے، پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکی کپاس اور توانائی کی بڑے پیمانے پر درآمدات کو نمایاں کرے — جو نہ صرف امریکہ میں ملازمتیں پیدا کرتی ہیں بلکہ دو طرفہ متوازن تجارت کی بھی عکاسی کرتی ہیں۔

یوں معاملے کی منطق دوبارہ وہیں لوٹتی ہے۔پاکستان کو چاہیے کہ وہ امریکہ سے جڑی سپلائی چینز کو مستحکم کرے،دو طرفہ عدم توازن کو کم کرےاور امریکی زرعی و توانائی کے نظام میں اپنے انضمام کو اجاگر کرے،اگر ایسا نہ کیا گیا، تو یہ سرپلس یک طرفہ فائدہ کے طور پر دیکھا جائے گا — اور ایک ایسی دنیا میں جہاں محصولات کی پالیسی معیشت سے زیادہ ظاہری تاثر پر مبنی ہو چکی ہے، یہ صورتحال مہنگی غلط فہمی بن سکتی ہے۔

علاقائی سطح پر، موقع بالکل واضح ہے۔ ویتنام — جو کپاس برآمد کرنے والا ملک اور پاکستان کا اہم ٹیکسٹائل حریف ہے — اب 90 دن کی مہلت ختم ہونے کے بعد امریکی محصولات کا سامنا کر رہا ہے جو کہ 46 فیصد تک جا سکتی ہیں۔ اگر پاکستان لاجسٹکس بہتر کرے، توانائی کے نرخ کم کرے، اور اصلاحات کو تیز کرے تو وہ اس بڑھتی ہوئی طلب کو جذب کر سکتا ہے۔ بھارت پہلے ہی حرکت میں آ چکا ہے: ایپل نے تمل ناڈو سے 50 فیصد تک آئی فونز کی ترسیل شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ یہ موقع ہاتھ سے جانے سے پہلے اسے بھرپور انداز میں استعمال کرے — اس سے پہلے کہ عالمی تجارتی شطرنج کی بساط دوبارہ ترتیب پائے۔

کیونکہ دنیا اب نظریات کے بجائے محصولات اور اعتماد کی بنیاد پر تقسیم ہو چکی ہے۔ اور اس ازسرِ نو صف بندی میں، پاکستان عملی تکثریت (پریگمیٹک پلورل ازم) کی بہترین مثال بن سکتا ہے: چین کے ساتھ تجارت، امریکہ سے مذاکرات اور اندرونِ ملک اصلاحات کی گہرائی۔

ممکن ہے کہ کثیرالجہتی نظام (ملٹی لیٹرل ازم) ایک دن واپس آ جائے۔ لیکن تب تک، پاکستان کو ایک سمجھدار اور بروقت فیصلہ کرنے والے کھلاڑی کی طرح سوچنا اور عمل کرنا ہوگا ، جو تیزی سے اقدامات کرتے ہوئے طویل المدتی منصوبہ بندی کرتا ہے اور نئے قواعد کے انتظار میں وقت ضائع نہیں کرتا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.