BR100 Increased By (0.05%)
BR30 Decreased By (-0.02%)
KSE100 Increased By (0.47%)
KSE30 Increased By (0.51%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.11 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 34.20 Increased By ▲ 0.21 (0.62%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.09 (1.11%)
DFML 20.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.19%)
DGKC 196.50 Increased By ▲ 3.53 (1.83%)
FABL 90.21 Increased By ▲ 0.42 (0.47%)
FCCL 53.50 Increased By ▲ 0.67 (1.27%)
FFL 18.04 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 19.14 Increased By ▲ 0.17 (0.9%)
HBL 286.17 Increased By ▲ 0.67 (0.23%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.76 Decreased By ▼ -0.12 (-1.1%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
LOTCHEM 27.89 No Change ▼ 0.00 (0%)
MLCF 87.40 Increased By ▲ 0.89 (1.03%)
OGDC 322.49 Increased By ▲ 2.53 (0.79%)
PAEL 39.60 Increased By ▲ 0.18 (0.46%)
PIBTL 16.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 229.97 Increased By ▲ 1.79 (0.78%)
PRL 34.53 Decreased By ▼ -0.15 (-0.43%)
SNGP 99.48 Increased By ▲ 0.30 (0.3%)
SSGC 26.90 Increased By ▲ 0.30 (1.13%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
TPLP 8.31 Increased By ▲ 0.09 (1.09%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.78 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وفاقی شرعی عدالت (ایف ایس سی) نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی مقامی رسم و رواج یا روایت کے تحت عورت کو وراثت کے حق سے محروم کرنا غیر اسلامی ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے آئین کے آرٹیکل 203-ڈی کے تحت دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی بہانے سے عورتوں کو وراثت کے حق سے محروم کرنا غیر اسلامی ہے۔

درخواست گزار سیدہ فوزیہ جلال شاہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ”چادر“ یا ”پرچی“ نامی رسم کے تحت خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کیا جاتا ہے یا کم مالیت کی جائیداد لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ تمام ایسے غیر شرعی رسم و رواج غیر قانونی ہیں اور خواتین کے وراثتی حقوق متاثر کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 498-اے کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

فیصلے میں متعلقہ اداروں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس جرم کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور خواتین کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.