BR100 Increased By (0.04%)
BR30 Increased By (0.05%)
KSE100 Increased By (0.11%)
KSE30 Increased By (0.08%)
BAFL 56.77 Increased By ▲ 0.30 (0.53%)
BIPL 24.86 Increased By ▲ 0.23 (0.93%)
BOP 30.07 Decreased By ▼ -0.05 (-0.17%)
CNERGY 12.87 Decreased By ▼ -0.11 (-0.85%)
DFML 17.88 Increased By ▲ 0.39 (2.23%)
DGKC 187.20 Decreased By ▼ -0.02 (-0.01%)
FABL 93.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 51.67 Increased By ▲ 0.02 (0.04%)
FFL 14.48 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.04 (-0.21%)
HBL 304.39 Increased By ▲ 0.61 (0.2%)
HUBC 199.20 Increased By ▲ 0.24 (0.12%)
HUMNL 9.93 Increased By ▲ 0.08 (0.81%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.01 (-0.17%)
LOTCHEM 26.50 Increased By ▲ 0.33 (1.26%)
MLCF 90.94 Decreased By ▼ -0.29 (-0.32%)
OGDC 314.45 Increased By ▲ 1.06 (0.34%)
PAEL 35.15 Decreased By ▼ -0.09 (-0.26%)
PIBTL 14.70 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 239.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.05%)
PPL 220.92 Decreased By ▼ -0.44 (-0.2%)
PRL 91.21 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
SNGP 90.80 Decreased By ▼ -0.07 (-0.08%)
SSGC 23.34 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 7.64 Increased By ▲ 0.03 (0.39%)
TPLP 12.68 Increased By ▲ 0.12 (0.96%)
TRG 55.76 Decreased By ▼ -0.03 (-0.05%)
UNITY 8.02 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)

وفاقی شرعی عدالت (ایف ایس سی) نے قرار دیا ہے کہ کسی بھی مقامی رسم و رواج یا روایت کے تحت عورت کو وراثت کے حق سے محروم کرنا غیر اسلامی ہے۔

وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس اقبال حمید الرحمان کی سربراہی میں چار رکنی بینچ نے آئین کے آرٹیکل 203-ڈی کے تحت دائر درخواست پر فیصلہ سنایا۔ جسٹس ڈاکٹر سید محمد انور کے تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کسی بھی بہانے سے عورتوں کو وراثت کے حق سے محروم کرنا غیر اسلامی ہے۔

درخواست گزار سیدہ فوزیہ جلال شاہ نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ”چادر“ یا ”پرچی“ نامی رسم کے تحت خواتین کو وراثتی جائیداد سے محروم کیا جاتا ہے یا کم مالیت کی جائیداد لینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ تمام ایسے غیر شرعی رسم و رواج غیر قانونی ہیں اور خواتین کے وراثتی حقوق متاثر کرنے والوں کے خلاف تعزیرات پاکستان کی دفعہ 498-اے کے تحت کارروائی کی جا سکتی ہے۔

فیصلے میں متعلقہ اداروں کو حکم دیا گیا کہ وہ اس جرم کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور خواتین کو ان کے شرعی حق سے محروم کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.