BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.23%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.09 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
BOP 30.94 Decreased By ▼ -0.76 (-2.4%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.18 (1.16%)
DGKC 200.41 Decreased By ▼ -2.78 (-1.37%)
FABL 91.91 Decreased By ▼ -1.23 (-1.32%)
FCCL 58.05 Decreased By ▼ -0.66 (-1.12%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.24 Decreased By ▼ -0.67 (-3.37%)
HBL 299.89 Decreased By ▼ -2.87 (-0.95%)
HUBC 201.61 Decreased By ▼ -6.44 (-3.1%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.43 Decreased By ▼ -0.39 (-1.57%)
MLCF 100.04 Decreased By ▼ -2.05 (-2.01%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 33.48 Decreased By ▼ -0.54 (-1.59%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 262.29 Decreased By ▼ -3.15 (-1.19%)
PPL 217.96 Decreased By ▼ -3.34 (-1.51%)
PRL 85.55 Increased By ▲ 0.95 (1.12%)
SNGP 91.96 Decreased By ▼ -1.89 (-2.01%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.15 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
TPLP 13.36 Increased By ▲ 0.25 (1.91%)
TRG 53.41 Decreased By ▼ -0.62 (-1.15%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اخراجات میں کمی لانے کے اقدام کے تحت وفاقی ملازمین کو ایک اور ای میل جمعے کے روز بھیجی گئی جس میں انہیں ملازمتوں کا جواز پیش کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ایک ہفتے قبل ٹرمپ کی جانب سے حکومت کا حجم کم کرنے کے لیے مقرر کیے گئے ارب پتی ایلون مسک نے وفاقی حکومت کے 20 لاکھ ملازمین کو پہلی بار بڑے پیمانے پر ای میل کی تھی جس میں انہیں اپنے کام کا جواز پیش کرنے یا برطرف کیے جانے کا خطرہ مول لینے کا انتباہ کیا گیا تھا۔

حکومت کے ایچ آر ڈپارٹمنٹ یو ایس آفس آف پرسنل مینجمنٹ (او پی ایم) کی جانب سے بھیجے گئے اس پیغام نے پہلے سے ہی پریشان افرادی قوت میں الجھن پیدا کردی تھی کیونکہ متعدد وفاقی ایجنسیوں نے عملے سے کہا تھا کہ وہ اسے نظر انداز کردیں۔

جمعے کی ای میل میں ایک بار پھر عملے سے کہا گیا ہے کہ وہ تقریبا پانچ بلٹ پوائنٹس کے ساتھ جواب دیں کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے میں کیا حاصل کیا ہے اور مزید کہا کہ یہ ایک ہفتہ وار کام بن جائے گا۔

نیویارک ٹائمز، این پی آر اور سی بی ایس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ای میلز کا دوسرا دور جمعے کی رات سے شروع ہوا اور ان اداروں کا کہنا ہے کہ نے دوسرے پیغام کی کاپیاں دیکھی ہیں۔

ای میل کی سجبیکٹ لائن ”آپ نے پچھلے ہفتے کیا حاصل کی تھا“ تھی جبکہ دوسری ای میل ایف بی آئی، محکمہ خزانہ اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے محکمہ سمیت مختلف ایجنسیوں کے کارکنوں کے بھیجی گئی۔

مسک، جنہیں ٹرمپ نے سرکاری کارکردگی کے نئے محکمے (ڈی او جی ای) کے نئے مشاورتی ادارے کا انچارج مقرر کیا ہے، جس کا کام انہیں عوامی اخراجات میں کمی اور مبینہ فضلے اور بدعنوانی سے نمٹنے کا کام سونپا گیا ہے، نے نئی ای میلز کے بارے میں ایکس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

پہلی ای میل کے برعکس ، دوسرے پیغام میں ورکرز سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ پیر کے آخر تک ہفتہ وار بنیاد پر اپنی کامیابیوں کی فہرست بھیجیں۔

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن ملازمین کی سرگرمیاں خفیہ یا حساس ہیں وہ صرف یہ جواب دے سکتے ہیں کہ میری تمام سرگرمیاں حساس ہیں۔

سی بی ایس نے بتایا کہ اس بار او پی ایم نے انفرادی ایجنسیوں کو ای میل خود بھیجنے کا ٹاسک دیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ہر محکمہ فیصلہ کرسکتا ہے کہ ایسا کرنا ہے یا نہیں۔

مسک نے اس سے قبل کہا تھا کہ اصل ای میل بنیادی طور پر یہ دیکھنے کے لئے ایک جانچ تھی کہ آیا ملازم کے پاس صلاحیت ہے اور وہ ای میل کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے پیغام میں مسک کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’میں انہیں مزید جارحانہ ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔‘

Comments

Comments are closed.