BR100 Decreased By (-0.97%)
BR30 Decreased By (-1.55%)
KSE100 Decreased By (-0.89%)
KSE30 Decreased By (-0.94%)
BAFL 57.16 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
BIPL 27.08 Decreased By ▼ -0.39 (-1.42%)
BOP 33.35 Decreased By ▼ -0.60 (-1.77%)
CNERGY 10.76 Decreased By ▼ -0.19 (-1.74%)
DFML 18.01 Decreased By ▼ -0.19 (-1.04%)
DGKC 207.89 Decreased By ▼ -5.44 (-2.55%)
FABL 100.29 Decreased By ▼ -0.67 (-0.66%)
FCCL 54.68 Decreased By ▼ -1.17 (-2.09%)
FFL 16.07 Decreased By ▼ -0.14 (-0.86%)
GGL 24.48 Decreased By ▼ -0.60 (-2.39%)
HBL 303.25 Decreased By ▼ -3.59 (-1.17%)
HUBC 219.33 Decreased By ▼ -3.68 (-1.65%)
HUMNL 10.49 Increased By ▲ 0.01 (0.1%)
KEL 7.29 Decreased By ▼ -0.10 (-1.35%)
LOTCHEM 27.32 Decreased By ▼ -0.38 (-1.37%)
MLCF 95.67 Decreased By ▼ -1.24 (-1.28%)
OGDC 317.05 Decreased By ▼ -3.95 (-1.23%)
PAEL 42.34 Decreased By ▼ -0.85 (-1.97%)
PIBTL 16.77 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 276.22 Decreased By ▼ -11.36 (-3.95%)
PPL 218.15 Decreased By ▼ -4.69 (-2.1%)
PRL 57.37 Decreased By ▼ -1.78 (-3.01%)
SNGP 101.08 Decreased By ▼ -2.78 (-2.68%)
SSGC 25.57 Decreased By ▼ -0.39 (-1.5%)
TELE 8.32 Decreased By ▼ -0.24 (-2.8%)
TPLP 12.79 Increased By ▲ 0.03 (0.24%)
TRG 61.00 Increased By ▲ 0.61 (1.01%)
UNITY 10.06 Decreased By ▼ -0.14 (-1.37%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.02 (-1.64%)

وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور یوکرینی صدر ولودومیر زیلنسکی کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کے بعد، کیف کی سڑکوں پر عوام نے زیلنسکی کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔

زیلنسکی نے اجلاس کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے بارے میں ٹرمپ کے رویے پر کھل کر چیلنج کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ ’قاتل کے ساتھ کوئی سمجھوتہ نہ کریں۔

ٹرمپ نے زیلنسکی پر الزام عائد کیا کہ وہ دنیا کو تیسری عالمی جنگ کے خطرے میں ڈال رہے ہیں اور امریکہ کی جانب سے دی گئی فوجی امداد کے باوجود ناقدری کا مظاہرہ کررہے ہیں۔

ایچ آر منیجر میلا نے اپنا دوسرا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وسطی کیف کی سرد رات میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ آخر کار سمجھ گئے ہیں کہ زیلینسکی ایک ایسے صدر ہیں جو آسانی سے ہار نہیں مانیں گے۔

ایک بزنس کنسلٹنٹ اوکسانا نے کہا کہ یہ یوکرین نہیں جو تیسری عالمی جنگ کا خطرہ مول لے رہا ہے- زیادہ امکان ہے کہ ہمیں اس کھیل میں سودے بازی کی چپ کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔

سوشل میڈیا پر یوکرینی حکام اور دیگر نمایاں شخصیات نے بھی زیلنسکی کی حمایت کرتے ہوئے ایک ایسے ملک میں اتحاد کی اپیل کی جو تین سال کی صبر آزما جنگ سے نڈھال ہوچکا ہے۔

یوکرین کے وزیر خارجہ اینڈری سیبیہا جو ٹرمپ کے ساتھ ملاقات میں موجود تھے نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ صدر زیلنسکی میں جرات اور طاقت ہے کہ وہ سچ کے لئے کھڑے ہوسکتے ہیں ۔

زیادہ تر کیف کے شہریوں کا کہنا تھا کہ یوکرین ہر صورتحال کا سامنا کرنے کے قابل ہے، تاہم کچھ افراد دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات میں خرابی پر تشویش کا اظہار کر رہے تھے۔

یونیورسٹی کے 59 سالہ لیکچرر اینڈری نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ اسلحہ کے بغیر ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے اور مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہونے جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کا مقصد ٹرمپ اور زیلنسکی کے درمیان کشیدہ ذاتی تعلقات کو بہتر بنانا تھا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ایک معاہدے پر دستخط متوقع تھے، جس کے تحت یوکرین کے قیمتی خام مال کے ذخائر سے حاصل ہونے والے منافع کو امریکا کے ساتھ بانٹنے کا منصوبہ تھا۔

تاہم، یہ ملاقات جلد ہی کیمروں کے سامنے ایک شدید لفظی جنگ میں تبدیل ہو گئی، جب ٹرمپ نے روس کی مذمت سے گریز کیا، جس نے تین سال قبل یوکرین پر مکمل حملہ کیا تھا اور 2014 سے اس کے بعض حصوں پر قابض ہے، جس پر زیلنسکی واضح طور پر برہم نظر آئے۔

بیس سالہ طالب علم پیٹرو نے کہا کہ یہ معاہدہ اور معدنی وسائل کے معاہدے میں امریکا کی شمولیت تعلقات کو مستحکم کرسکتی تھی۔ اب صورتحال بہت خوفناک ہے۔

میرے خیال میں اس معاملے کو زیادہ سفارتی انداز میں حل کیا جا سکتا تھا، لیکن ذاتی نقطۂ نظر سے میں زیلنسکی کو سمجھ سکتا ہوں کیونکہ ٹرمپ اور وینس کے ساتھ مکالمے کے انداز سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ اسی طرح ختم ہوگا۔

Comments

Comments are closed.