BR100 Increased By (0.05%)
BR30 Decreased By (-0.02%)
KSE100 Increased By (0.47%)
KSE30 Increased By (0.51%)
BAFL 58.70 Increased By ▲ 0.26 (0.44%)
BIPL 25.11 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
BOP 34.22 Increased By ▲ 0.23 (0.68%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.09 (1.11%)
DFML 20.80 Decreased By ▼ -0.04 (-0.19%)
DGKC 196.69 Increased By ▲ 3.72 (1.93%)
FABL 90.21 Increased By ▲ 0.42 (0.47%)
FCCL 53.60 Increased By ▲ 0.77 (1.46%)
FFL 18.05 Increased By ▲ 0.10 (0.56%)
GGL 19.13 Increased By ▲ 0.16 (0.84%)
HBL 286.17 Increased By ▲ 0.67 (0.23%)
HUBC 215.50 Increased By ▲ 1.12 (0.52%)
HUMNL 10.76 Decreased By ▼ -0.12 (-1.1%)
KEL 8.05 Increased By ▲ 0.03 (0.37%)
LOTCHEM 27.99 Increased By ▲ 0.10 (0.36%)
MLCF 87.48 Increased By ▲ 0.97 (1.12%)
OGDC 322.40 Increased By ▲ 2.44 (0.76%)
PAEL 39.60 Increased By ▲ 0.18 (0.46%)
PIBTL 16.65 Decreased By ▼ -0.02 (-0.12%)
PIOC 270.00 Increased By ▲ 3.94 (1.48%)
PPL 229.97 Increased By ▲ 1.79 (0.78%)
PRL 34.53 Decreased By ▼ -0.15 (-0.43%)
SNGP 99.48 Increased By ▲ 0.30 (0.3%)
SSGC 26.90 Increased By ▲ 0.30 (1.13%)
TELE 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
TPLP 8.31 Increased By ▲ 0.09 (1.09%)
TRG 70.13 Increased By ▲ 0.42 (0.6%)
UNITY 11.78 Increased By ▲ 0.11 (0.94%)
WTL 1.28 No Change ▼ 0.00 (0%)

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 16 جنوری سے 31 جنوری تک 6 روپے 20 پیسے فی لٹر تک اضافے کا امکان ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق ایکس ڈپو پٹرول کی قیمت میں 3.53 روپے فی لٹر اضافے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمتوں میں بالترتیب 4.98 روپے اور 6.20 روپے فی لٹر اضافے کی توقع ہے جب کہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2.29 روپے فی لٹر اضافے کا امکان ہے۔

یکم جنوری 2025 کے بعد سے برینٹ کی قیمتوں میں 1 سے 2 ڈالر فی بیرل تک کا اضافہ ہوا ہے۔ پٹرول اور ڈیزل پر درآمدی پریمیم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی جب کہ شرح تبادلہ عام طور پر مستحکم رہی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں اضافے کو ان لینڈ فریٹ ایکوالائزیشن مارجن (آئی ایف ای ایم) کے اندر ایڈجسٹ کیا جاسکتا ہے۔

ایکس ڈپو پٹرول کی قیمت فی لٹر 252.66 روپے سے بڑھ کر 256.19 روپے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 258.34 روپے سے بڑھ کر 262 روپے فی لٹر ہونے کا امکان ہے ۔مٹی کے تیل کے سرکاری نرخ 162.95 روپے ہے جو کہ بڑھ کر 167.93 روپے فی لٹر ہو سکتا ہے جبکہ لائٹ ڈیزل آئل (ایل ڈی او) کی قیمت 149.35 روپے سے بڑھ کر 155.55 روپے فی لٹر ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ 31 دسمبر کو حکومت نے پٹرول اور ایچ ایس ڈی کی قیمتوں میں بالترتیب 56 پیسے اور 2.96 روپے فی لٹر کا اضافہ کیا تھا۔

پٹرول بنیادی طور پر نجی ٹرانسپورٹ، چھوٹی گاڑیوں، رکشوں اور دو پہیوں والی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور یہ براہ راست درمیانی اور نچلے درمیانی طبقے کے بجٹ کو متاثر کرتا ہے۔

ٹرانسپورٹ کا زیادہ تر شعبہ ایچ ایس ڈی پر چلتا ہے۔

اس کی قیمت کو مہنگائی کا باعث سمجھا جاتا ہے کیونکہ یہ زیادہ تر بھاری نقل و حمل کی گاڑیوں، ٹرینوں اور زرعی انجنوں جیسے ٹرکوں، بسوں، ٹریکٹروں، ٹیوب ویلوں اور تھریشرز میں استعمال ہوتا ہے، جو سبزیوں اور دیگر کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا سبب بنتا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025

Comments

Comments are closed.