BR100 Decreased By (-1.08%)
BR30 Decreased By (-1.23%)
KSE100 Decreased By (-0.85%)
KSE30 Decreased By (-1.61%)
BAFL 58.80 Decreased By ▼ -0.23 (-0.39%)
BIPL 24.09 Decreased By ▼ -0.02 (-0.08%)
BOP 30.94 Decreased By ▼ -0.76 (-2.4%)
CNERGY 12.10 Increased By ▲ 0.04 (0.33%)
DFML 15.73 Increased By ▲ 0.18 (1.16%)
DGKC 200.41 Decreased By ▼ -2.78 (-1.37%)
FABL 91.91 Decreased By ▼ -1.23 (-1.32%)
FCCL 58.05 Decreased By ▼ -0.66 (-1.12%)
FFL 13.35 Decreased By ▼ -0.12 (-0.89%)
GGL 19.24 Decreased By ▼ -0.67 (-3.37%)
HBL 299.89 Decreased By ▼ -2.87 (-0.95%)
HUBC 201.61 Decreased By ▼ -6.44 (-3.1%)
HUMNL 8.63 Decreased By ▼ -0.06 (-0.69%)
KEL 6.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 24.43 Decreased By ▼ -0.39 (-1.57%)
MLCF 100.04 Decreased By ▼ -2.05 (-2.01%)
OGDC 312.89 Decreased By ▼ -3.35 (-1.06%)
PAEL 33.48 Decreased By ▼ -0.54 (-1.59%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.23 (-1.71%)
PIOC 262.29 Decreased By ▼ -3.15 (-1.19%)
PPL 217.96 Decreased By ▼ -3.34 (-1.51%)
PRL 85.55 Increased By ▲ 0.95 (1.12%)
SNGP 91.96 Decreased By ▼ -1.89 (-2.01%)
SSGC 22.60 Decreased By ▼ -0.34 (-1.48%)
TELE 7.15 Increased By ▲ 0.08 (1.13%)
TPLP 13.36 Increased By ▲ 0.25 (1.91%)
TRG 53.41 Decreased By ▼ -0.62 (-1.15%)
UNITY 8.05 Increased By ▲ 0.15 (1.9%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.08 (8.51%)

طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے کہا کہ وہ بھارت کو ”ایک اہم علاقائی اور اقتصادی شراکت دار“ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ یہ بات بھارت کے سب سے سینئر وزارت خارجہ کے عہدیدار سے ملاقات کے بعد کہی گئی۔ طلبان اور بھارتی نمائندوں کے درمیان 2021 میں افغانستان پر طالبان کے قبضے کے بعد سب سے اعلیٰ سطح کے یہ پہلے مذاکرات ہیں۔

بھارت کے وزارت خارجہ کے سکریٹری وکرم میسری نے بدھ کے روز دبئی میں طالبان کے عبوری وزیر خارجہ امیر خان متقی سے ملاقات کی ہے۔

افغان وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ فریقین نے افغانستان کے ساتھ تعلقات کو مزید بڑھانے اور ایران کے چابہار پورٹ کے ذریعے تجارت کو فروغ دینے پر بات چیت کی جسے بھارت نے بھارت نے پاکستانی بندرگاہوں کراچی اور گوادر کے مقابلے کیلئے تیار کیا ہے۔

افغانستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کی متوازن اور معیشت پر مرکوز خارجہ پالیسی کے مطابق بھارت کے ساتھ ایک اہم علاقائی اور اقتصادی شراکت دار کی حیثیت سے سیاسی اور معاشی تعلقات کو مضبوط بنانا چاہتی ہے، کیونکہ بھارت ایک اہم علاقائی اور اقتصادی شراکت دار ہے۔

بھارت سمیت کوئی بھی غیر ملکی حکومت سرکاری طور پر طالبان انتظامیہ کو تسلیم نہیں کرتی۔

تاہم بھارت ان متعدد ممالک میں سے ایک ہے جس کا کابل میں ایک چھوٹا سا مشن ہے جس کا مقصد تجارت، امداد اور طبی امداد فراہم کرنا ہے اور اس نے طالبان کے تحت افغانستان کو انسانی امداد بھیجی ہے۔

چین اور روس سمیت علاقائی ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ وہ افغانستان میں تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔

دہلی میں ہونے والا یہ اجلاس پاکستان کیلئے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے کیوں کہ اس کی سرحدیں دونوں ممالک سے ملتی ہیں اور پاکستان ماضی میں بھارت کے خلاف تین جنگیں لڑ چکا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے تعلقات بھی کشیدہ ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کی سرزمین پر ہونے والے متعدد عسکریت پسند حملے افغان سرزمین سے کیے گئے ہیں تاہم افغان طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔

Comments

Comments are closed.