ایران جنگ میں شدت کے خدشات کم، عالمی منڈی میں تیل مزید سستا ہوگیا
- برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 97 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 93.65 ڈالر فی بیرل پر آگئے
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں جمعرات کو مسلسل چوتھے روز کمی ریکارڈ کی گئی، جس کی وجہ امریکی کانگریس کے انتخابات میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو ہونے والے نقصانات کے بعد ایران کے ساتھ جنگ میں مزید شدت آنے کے خدشات میں کمی ہے۔
عالمی معیار برینٹ خام تیل کے مستقبل کے سودے 97 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 93.65 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت 1.14 ڈالر یا 1.29 فیصد کمی سے 86.98 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔
اس سے قبل گزشتہ سیشن میں دونوں بینچ مارکس کی قیمتوں میں 8 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی تھی اور یہ 31 اگست کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بند ہوئے تھے۔
خلیجی حکومتی حلقوں کے قریب دو ذرائع کے مطابق کانگریس میں ڈیموکریٹس کی مضبوط پوزیشن صدر ٹرمپ کے فوجی اختیارات محدود کرسکتی ہے، جس کے باعث انہیں ایران کے ساتھ معاہدے کی کوششوں پر زیادہ توجہ دینا پڑسکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران پر بڑے پیمانے پر حملے کا امکان اب کم دکھائی دے رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، جنگ کے خاتمے سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل بحال ہوسکتی ہے، تاہم سفارتی حل کی راہ میں اب بھی کئی غیر یقینی عوامل موجود ہیں۔
اسپارٹا کموڈیٹیز کی سینئر آئل تجزیہ کار جون گوہ کے مطابق، مارکیٹ انتخابات کے بعد ایران جنگ سے متعلق ٹرمپ کے آئندہ اقدامات کا جائزہ لے رہی ہے اور جنگ کے خاتمے کے امکانات کو قیمتوں میں شامل کیا جارہا ہے۔
جے پی مورگن کے مطابق خلیجی ممالک سے تیل کی سپلائی بحال ہونے کے بعد عالمی منڈی میں طلب کے مقابلے میں رسد بڑھ گئی ہے۔ ادارے کا تخمینہ ہے کہ ستمبر میں تیل کی عالمی منڈی میں یومیہ 11 لاکھ بیرل جبکہ اکتوبر میں 14 لاکھ بیرل فاضل سپلائی رہی۔
تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قیمتوں میں حالیہ کمی عارضی ثابت ہوسکتی ہے، کیونکہ بڑے تیل استعمال کرنے والے ممالک کے تجارتی ذخائر 15 سال کی کم ترین سطح کے قریب ہیں۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق گزشتہ ہفتے امریکا میں خام تیل، پٹرول اور ڈسٹلیٹس کے ذخائر کم ہوئے، جبکہ طلب ایک سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔


Comments