امریکی انتظامیہ کا بعض افغان تارکین وطن کو افغانستان ڈی پورٹ کرنے کا منصوبہ
- 150 سے زائد افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے، رپورٹ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ بعض افغان تارکینِ وطن کو افغانستان واپس بھیجنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ امریکی عہدیدار اور سابق فوجیوں کے ایک اتحاد سمیت مختلف وکالتی تنظیموں نے جمعے کو یہ بات بتائی۔
افغان ایویک کے سربراہ شان وان ڈائیور نے کہا کہ ملک بدری کا سامنا کرنے والے متعدد افغان شہری 2021 میں طالبان کے اقتدار پر قبضے اور امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان سے فرار ہوکر امریکا آئے تھے۔
وان ڈائیور نے مزید کہا کہ ملک بدری کے خطرے سے دوچار بعض افراد ان لوگوں کے بھائی اور بیٹے ہیں جنہوں نے امریکی افواج کے ساتھ مل کر خدمات انجام دی تھیں۔ ان کے خاندان ایسے ہیں جنہیں طالبان پہلے ہی نشانہ بنانے کی وجوہات رکھتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق 150 سے زائد افغان تارکینِ وطن کو ملک بدر کیے جانے کا امکان ہے جو افغان شہریوں کی ایک ہی مرحلے میں ہونے والی سب سے بڑی ملک بدری کی کارروائیوں میں سے ایک ہوگی۔
اخبار کے مطابق امریکی انتظامیہ نے ریاست لوزیانا میں درجنوں افغان تارکینِ وطن کو حراست میں لے لیا ہے اور انہیں ملک بدر کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ملک بدری کے لیے پہلی پرواز پیر کو روانہ ہونے کا امکان ہے۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ افغان تارکینِ وطن کو پاکستان کے راستے ملک بدر کیا جائے گا۔ واشنگٹن طالبان کے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث افغان شہریوں کو براہِ راست افغانستان واپس بھیجنے کے انتظامات نہیں کرسکتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات اور ملک بدری کی مہم کا مقصد امریکا میں داخلی سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان اقدامات سے قانونی تقاضوں کے مطابق منصفانہ سماعت اور آزادیٔ اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے جبکہ اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے۔ اقلیتی برادریوں نے نسلی بنیادوں پر امتیازی سلوک اور افراد کی شناخت کے خدشات بھی ظاہر کیے ہیں۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے آپریشنل سیکیورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقبل میں ملک بدری کی کارروائیوں کی تصدیق نہیں کرے گا۔
وان ڈائیور نے امریکی کانگریس پر زور دیا کہ وہ ایسی قانون سازی کرے جس کے تحت امریکا میں مقیم افغان شہریوں کو عارضی طور پر محفوظ حیثیت دی جائے تاکہ انہیں ملک بدری سے بچایا جا سکے۔
پاکستان 2023 سے اب تک 20 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو افغانستان واپس بھیج چکا ہے۔


Comments